مذہبی

!الوداع اےماہ رمضان! الوداع

تحریر: محمد ضیاء الحق ندوی

اللہ جل جلالہ وعم نوالہ نے اسلام وایمان کی حالت میں ،صحت وتندرستی کے ساتھ سیدالشہور ماہ رمضان المبارک سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم فرمایا تھا جن کی آمد سے ہم سب اللہ کاشکرادا کر رہے تھے،فرحت و انبساط سے محظوظ ہورہے تھے اورایک دوسرےکو مبارک باد دے رہے تھے آج یہ مبارک مہینہ اپنی تمام تر رعنائیوں،برکتوں اور رحمتوں کونچھاورکرنے کےبعدہم سے رخصت ہونے کو ہے ،نیک بخت ہیں وہ لوگ جس نےاس مبارک مہینہ کی قدر کی اور اس میں عبادت ،ذکروتلاوت اورقیام اللیل کااہتمام کرکے اجوروثواب اور نیکیوں سےاپنی جھولیاں بھرلیں اور ان کی زندگی تابناک ہوگئی اوربدقسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نےاس عظیم مہینہ کی قدرنہ کی اور ان کے مبارک ومسعودایام میں بھی موبائل ،ٹی وی پرفلمیں دیکھتےرہے،حرام خوری وشراب نوشی کرتے رہے،گلی کوچوں میں بیٹھے پورےپورے دن جوا ،شطرنج جیسے ناجائزوحرام کھیل کھیلتے رہے افسوس کہ اس معززمہمان کی قدر نہ کی جو ہماری مغفرت وبخشش،عفودرگزر اور تربیت کے لئے آیا تھا،جس نےآکر ہمیں صبروتقوی کا زادسفر دیا،جس نے یہ سبق سکھایا کہ عیدکی خوشیوں میں بھولنامت ناداروں کوتم، اور صدقہ فطر مفلسوں کودےکر نہ ہوجانامطمئن، اور جس نے یہ ذمہ داری دی کہ یہ ذمہ داری تمہاری ہیکہ تم ہردم آؤ ان کے کام، اور یہ وصیت کرتے ہوئے رخصت ہونےجارہاہے کہ اےعیدمنانے والو! عیدکےمسرورو مسعود کن ساعات میں تم یتیموں اور بیواؤں کا رکھناخاص خیال،عیدمنانے والو ایسانہ کرنا کہ تم اپنے دسترخوان پر چنناانواع واقسام کے کھانے اور بےچارے مساکین وفقراء اورایتام ہوں ہرروز محرومِ طعام نیز مفلسوں کے دل فاقہ کشی سےہوں مجروح اور صاحب مال ومنال کررہے ہوں قہقہوں سے بازار گرم اور خوشیوں کے شادیانے بجا رہے ہوں .آہ یہ مبارک مہینہ جورحمت ، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پروانہ لئیے ہم پر سایہ فگن ہے اب یہ چنددنوں بعد داغ مفارقت دینے والا ہے،! برکتوں،رحمتوں کا مہینہ تھا تواے میرے معززومکرم مہمان، تیرے آنے سے رونق ہی رونق تھی زندہ دل آباد تھے،دھیان وفکر بٹے ہوئے تھے،تیری آمدسے تیری سحر پرسکون ، شام پرکیف تھی،دل خوش ہوا تھا اورذوق عبادت و ایمان بڑھا تھا الوداع اےماہ رمضان الوداع اےماہ رمضان، اے معززومکرم مہمان تیرے رخصت ہونے سے اب قلب ہے مجروح ،آنکھیں ہیں اشکبار،طبیعت ہے افسردہ، بس ہے یہ التجا تجھ سےکہ نہایت خوش گوار اور مشام جاں کومعطر کرنے والی ہواہمارے گھروں ، آنگنوں اوربستیوں میں توچلی لیکن ہم نیکیاں سےاپنے دامن نہ بھر سکےاورغفلت و نافرمانی میں دن گزار دیئے ہیں،
اے ماہ رمضان تو جارہا اس حال میں کے اللہ کے کچھ بندوں کا دل تیرے جدائی سے بہت غمگین،اداس اور مجروح ہے اور ہو کیوں نا
رمضان کی شام کیا شام تھی اس کی رات کیا زندہ وتابندہ رات تھی آہ! وہ افطار و سحری کا مزہ کیا مزہ تھا وہ سب تمہارے ساتھ رخصت ہورہے ہیں نہ جانے تو
اب آئندہ سال کس کے لئے رحمت،مغفرت اور آزادئ جہنم کا پروانہ لے کر فروکش ہو اور کس کے لئے نہ ہو .
اے معززومکرم مہمان واسطہ ہے تجھ کو کہ جب محشر بپا ہو تو مجھ ناکارہ کی بخشش کی سفارش ضرور کرنا
الوداع اےماہ رمضان الوداع
الوداع اےماہ رمضان الوداع

Related posts

مدارس اسلامیہ کے تئیں ہماری ذمہ داری

Hamari Aawaz Urdu

انسانوں کی ابتداء کس سے ہوئی؟

Hamari Aawaz Urdu

قربانی کے فضائل و احکام

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں