سماجی صفحہ اول

!!!یار میرے، کم سے کم انسان تو بن

تحریر: محمد حنظلہ مصباحی

اس کے تقاضے کیا ہیں؟؟ اس کے لئےتڑپتا کون ہے ؟؟ اس کے لئے بیقرار کون ہے ؟؟ارے جس کی جدائی کی وجہ سے تفریح گاہیں بے نور سی معلوم ہورہی ہیں، جس کے بغیر محفل قہوہ پھیکی پڑ گئی ، جس کی معدومیت نے سیر وسیاحت میں کڑواہٹ ہی کرواہٹ گھول دی ، مارکٹوں اور بازاروں کی دنیا تنگ معلوم ہونےلگی، جن کتابوں اور لطیفوں سے لطف اندوز ہوتا تھا اب ان میں تلخیاں ہی تلخیاں بس گئیں، جن احباب سے کچھ سرور ملتا تھا اب وہ بھی دامن جھاڑ نے لگے، جن اساتذہ کی تقریروں سے قرار ملتا تھا اب وہاں من ہی نہیں لگتا، عبادتیں بے مزہ سی ہوگئیں ، اب زندگی اجیرن اور بےزار ہوکر رھ گئی ہے، دل بے تاب کی کلیاں کہیں چند ساعتوں میں مرجھا نہ جائیں، اب جدائی برداشت نہیں۔

تو لو،اب میرا بھی فیصلہ سن لو

اگر واقعی تجھ کومیری پرواہ ہےتو عفوودرگزر کو اپنا ڈھال بنا لے،”ولقد کرمنابنی آدم”کے تاج کی سلامتی کا پاسبان بن جا،اے جان جاناں!! “ان الدین عند اللہ الاسلام” کا صحیح مفہوم سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو جا،اےمیرے جلوت وخلوت کے ساتھی!! “لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم” کی لاج رکھ لے،اے میرے پیارے!!میں تجھ سے “و الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس” کاخواہاں ہوں،میں مضطرب بھی ہوں تو صرف اس لئے کہ تو “قولوا قولا لینا” کو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں شامل کرلےاورخلق عظیم کا پیکر بن جا، ” فکوا العانی, اجیبوا الداعی, و اطعموا الجائع, وعودوا المریض” کی طرف رغبت پیدا کر لے،میں اسی لۓسعی پیہم کررہا ہوں کہ تو “المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ”کا خیال رکھ، میں تجھ کو فقط اس لیۓجنھجوڑتا ہوں کہ تو “قوا انفسکم واھلیکم نارا”کا منشاسمجھ لے۔
میرےلال!! “ظنواالمومنین خیرا” کو سمجھ ، اور”positive attitud”اختیار کر،ورنہ دیکھ تیرا بھی وہی حال ہوگاجو آج کے جدت پسند معاشرے کا ہے،
تو بد گمانیاں چھوڑدے ورنہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے منفی سوچ اور ذھنی تناو کا شکار ہوکر اپنی شخصیت کو تباہ کر لےگا،تو اپنی اکڑمیں بدمست اور زندگی ناخوش ہوتی چلی جاےگی،مت کر اپنے آپ پر ظلم ،تو”مرجع خلائق اور منبع جودوکرم” کا پیرو کار بن جا،جن کی عادت معاف کرنا, بخش دینا درگزر کرنا , بدلہ نہ لینا , گناہ پر پردہ ڈالنا ہے۔ اس آیت میں غور کر “الذين ينفقون في السراء و الضراء والكاظمين الغيظ والعافين عن الناس و الله يحب المحسنين” یعنی جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگ دستی میں اور ضبط کرنے والے ہیں غصے کو اور درگزر کرنے والے ہیں لوگوں سے , اللہ محبت کرتا ہے احسان کرنے والوں سے۔

اے جان تمنا!!!!!! میں تیرا ضمیر ہوں تو اپنے نام کی قدر کر،جس کے معانی ہے محبت کرنے والا اخلاق سے آراستہ وپیراستہ ارے تو،تو بشر ہےجو “ما یتمیز بالنطق من الحیوان والبھائم”کا پیکر ہے۔

اےانسان!!تواپنے معانی کی حیثیت کو اپنے اندر بیش بہا خزانے اور قیمتی موتیوں کی شکل میں پرولے تو انسان ہے یعنی اخلاق و کردار سے مزین و اراستہ , تو انسان ہے یعنی الفت و محبت کا پاٹھ پڑھانے والا، تو انسان ہےیعنی “من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنافلیس منا” کا خوگر ،اے دوست اپنے ضمیر کی اواز کو سن !!!

تو اگر کچھ نہیں بنتا تو نہ بن، مگر انسان تو بن۔۔۔۔
اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں دیں متین کی خدمت کی توفیق مرحمت فرما آمین بجاہ رسول الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Related posts

نظم: پیغامِ آزادی

Hamari Aawaz Urdu

زنا اور زناکی تہمت لگانے والے کی سزا

Hamari Aawaz Urdu

ارطغرل ڈرامہ پہ ڈرامہ کیوں؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں