ادارتی میز سے صفحہ اول مذہبی ملی

دعوت و تبلیغ کے آداب

تحریر: شمس عالم اویسی مصباحی

(رکن: ہماری آواز، مہراج گنج)

دعوت و تبلیغ ایک بہت ہی اہم امر ہے اس میں خاص طور سے نبوی اسلوب اپنانا چاہیے اور پرحکمت بات کہنی چاہیے ۔دعوت وتبلیغ میں حکمت اور سلیقے کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے اور ایسا طریق کار اختیار کرنا چاہئے جو ہر لحاظ سے انتہائی موزوں پر وقار، مقصد سے ہم آہنگ اور مخاطب میں شوق اور ولولہ پیدا کرنے والا ہو۔
چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا
” ادع الى سبيل ربك بالحكمةِ والموعظةِ الحسنةِ وجادِلهم بالتي هي اَحسن“ ( النحل)۔
”اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دیجئے حکمت کے ساتھ اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور مباحثہ کیجیے تو ایسے طریقے پر جو انتہائی بھلا ہو “
قرآن کی اس جامع آ یت سے تین اصولی ہدایات ملتی ہیں:

دعوت حکمت کے ساتھ دی جائے ۔
نصیحت عمدہ انداز میں کی جائے ۔
مباحثہ بہتر طریقے پر کیا جائے ۔
حکمت کے ساتھ دعوت دینے کا مطلب یہ ہے کہ خود آپ کو اپنی دعوت کا تقدّس اوراس کی عظمت کا پورا پورا احساس ہو،موقع محل کا بھی پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور مخاطب کا بھی، ہر طبقے، ہر گروہ، ہر فرد سے اس کی فکری رسائی، استعداد، صلاحیت، ذہنی کیفیت اور سماجی حیثیت کے مطابق بات کی جائے۔اور دعوت و تبلیغ میں ایسی کیفیت بنائی جائے جو افہام و تفہیم اور جن میں باہم اتفاق ہو اور جو قربت و قبولیت کے لیے راہ ہموار کریں ایسی کیفیت پیدا کرنی چاہیے۔
عمدہ نصیحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس دل سوز، خیرخواہی اور خلوص کے ساتھ نیک جذبات کو ا بھاریں کہ مخاطب شوق ورغبت کےجذبا ت سے سرشار ہو جائے اور دین سے اس کا تعلق محض ذہنی اطمینان کی حد تک نہ رہے بلکہ دین اس کے دل کی آواز، روح کی غذا، اور جذبات کی تسکین بن جائے ۔
تنقید و مباحثے میں اچھا طریقہ اختیار کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ دلسوزی اور اخلاص کے آئینہ دار ہوں ، اور انداز ایسا دل نشین اور سادہ ہوکہ مخاطب میں ضد، نفرت، ہٹ دھرمی، تعصب اور حمیت جاہلیت کے جذبات نہ ابھریں بلکہ وہ واقعی کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور ہو ،اور اس میں حق کی طلب پیدا ہو۔
اور ایک جگہ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :
”و امر بالمعر وف وانه عن المنكر واصبر على ما اصابك“
اور نیکی کا حکم دو ، برائی سے روکو اور اس راہ میں جو مصائب بھی آئیں ان کو استقلال کے ساتھ برداشت کرتے رہو ۔
راہ حق میں مصائب اور مشکلات کا آنا ضروری ہے ،آزمائش کی منزلوں سے گزر کر ہی ایمان میں قوت آتی ہے اور اخلاق و کردار میں پختگی پیدا ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ خدا اپنے ان بندوں کو ضرور آزماتا ہے جو ایمان کا دعوی کرتے ہیں اور جو اپنے دین و ایمان میں جتنا زیادہ پختہ ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی اسی لحاظ سے ہوتی ہے ۔
لہٰذا ہمیں دعوت و تبلیغ میں جو مصائب و آلام پیش آئیں انہیں برداشت کرنا چاہیے ،اور طلب اجر کا آمل رہنا چاہیے۔
خداوند قدوس کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں دعوت و تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اس میں بالخصوص نبوی اسلوب اپنانے کی توفیق بخشے ۔
آمین بجاہ سید الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

Related posts

نظم: کَل اور آج

Hamari Aawaz Urdu

شہادت بابری مسجد کے بعد ملک کے خونی مناظر قسط اول

Hamari Aawaz Urdu

رشتہ اخوت کا تقاضا

Hamari Aawaz Urdu

3 تبصرے

Parbrize auto MERCEDES T1 Platform Chassis 602 1977 June 8, 2020 at 8:14 am

Great beat ! I wish to apprentice while you amend your site, how could
i subscribe for a blog website? The account helped me a acceptable deal.
I had been a little bit acquainted of this your broadcast
offered bright clear idea https://vanzari-parbrize.ro/parbrize/parbrize-mercedes.html

جواب دیں
Parbrize auto MERCEDES T1 Platform Chassis 602 1977 June 8, 2020 at 8:14 am

Great beat ! I wish to apprentice while you amend your site, how could i subscribe for a blog website?
The account helped me a acceptable deal. I had been a little bit acquainted
of this your broadcast offered bright clear idea https://vanzari-parbrize.ro/parbrize/parbrize-mercedes.html

جواب دیں
밤알바 June 10, 2020 at 8:00 am

Heya just wanted to give you a quick heads up and let you know a few of the images aren’t
loading properly. I’m not sure why but I think its a linking issue.
I’ve tried it in two different browsers and both show the same results.

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں