Top 10 ادارتی میز سے ایڈیٹر کے قلم سے درس حدیث صفحہ اول مذہبی

درس حدیث: انما الاعمال بالنیات

باب اول: عقائد
حدیث نمبر:1
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ لِدُنْیَا یُصِیبُہَا أَوْ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ
(صحیح مسلم،جلد سوم:حدیث نمبر ۴۳۰ متفق علیہ)
ترجمہ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: عملوں کا اعتبار نیت سے ہے اور آدمی کے واسطے وہی ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے واسطے ہے تو اس کی ہجرت اللہ اور رسول ہی کے لیے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے۔
It has been narrated on the authority of Umar bin al-Khattab that the Messenger of Allah: said: The value of an action depends on the intention behind it. A man will be rewarded only for what he intended. The emigration of one who emigrates for the sake of Allah and His Messenger is for the sake of Allah and His Messenger; and the emigration of one who emigrates for gaining a worldly advantage or for marrying a woman is for what he has emigrated.
تخریج: صحیح بخاری،جلد اول:۱،۵۳؍ جلد دوم:۱۱۳۲ ؍وجلد سوم:۶۴،۱۶۲۵،۱۸۸۰
صحیح مسلم، جلد سوم:۴۳۰،۴۳۱
سنن ابوداؤد،جلد دوم:۴۳۷
سنن نسائی، جلد اول:۷۶؍جلد دوم:۱۳۷۶؍جلد سوم:۱۲۴
جامع ترمذی،جلداول:۱۷۱۶
مسند احمد،جلداول:۱۶۳،۲۸۳
فوائد ومسائل: تمام مسلمانوں کا اس حدیث کی اہمیت وعظمت پر اجماع اور اتفاق ہے، اس حدیث کے فوائد بہت زیاد ہیں؛فقہاے کرام فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثلث اسلام ہے ،امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے فقہ میں ستر ابواب ہیں۔
نیت کا معنی ہوتا ہے قصد وارادہ سے کسی کام کو معین کرنا، حدیث مذکورہ میں ہے انماالاعمال بالنیات اعمال کا دارومدار نیوتوں پر ہے۔ اس حدیث سے باب مسائل میں ائمہ مجتھدین کا اختلاف ہے چناچہ ائمہ ثلاثہ نے اسکا معنی صحت اعمال کا مدار نیت پر ہے نکالتے ہوئے باب طہارت میں اسے واجب قرار دیا ہے کہ بغیر نیت کے وضو،غسل نہیں ہوگا۔ جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے اس کا معنی ’’کاملیت اعمال یا ثواب اعمال کا مدار نیت پر ہے‘‘ بیان فرمایا اور باب طہارت میں اسے واجب نہیں بلکہ سنن ومستحبات میں شمار کراتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی شخص بغیر نیت کے صرف اعضائے وضو وغسل دھولے تو اس کاوضو وغسل ہوجائے گا۔ امام مالک علیہ الرحمہ سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے۔
       بہرحال باب فضائل میں اس کا کردار نہایت اہم ہے چناچہ امام سمعانی فرماتے ہیں کہ جو اعمال عبادات سے خارج ہیں اگر ان میں بھی عبادات کی نیت کرلی جائے تو ان پر بھی ثواب ملتاہے، مثلاً کوئی شخص کھانے،پینے میں عبادت کی تقویت حاصل کرنے کی نیت کرے، اور سونے میں تھکاوٹ زائل کرکے مزید عبادت کرنے کے لئے توانائی حاصل کرنے کی نیت کرے، اور مجامعت میں گناہوں اور بیحیائیوں سے بچنے کی نیت کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا۔
علاوہ ازیں فقہائے کرام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک عمل میں متعدد اعمال کی نیت کرلی جائے تو اسکا بھی ثواب ملتا ہے اگرچہ دیگر اعمال کرنے کا موقع میسر نہ آئے یہاں تک کہ فقہائے کرام نے صرف ایک عمل یعنی نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے پر چالیس سے زائد اعمال کی نیت بیان فرمائی ہے۔

Related posts

شب غم بری بلا ہے

Hamari Aawaz Urdu

میں ابھی، بھوک سے مرجاؤں گا

Hamari Aawaz Urdu

قربانی کا معنی ومفہوم اورمختصر تارِیخ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں