حالات حاضرہ سیاسی صفحہ اول قومی

!!!لداخ میں چین کی بربریت اور بھارتی سرکار کا رویہ

نتیجہ فکر :- محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

بھارت ایک ایسا ملک ہے جو اپنی قابلیت اور ڈپلومیسی سے روئے زمین پر متعارف ہے. اس ملک کی سرحدیں کئی ممالک سے ملتی جلتی ہیں. مگر ان میں سے دو نام اہم ہے جن سے بھارت کا ٹکراؤ تقریباً بنا رہتا ہے ان میں سے ایک پاکستان اور دوسرا چین ہے. بھارت سمیت دونوں پروسی ملک تقریباً اپنی طاقت و قوت اور زور آزمائی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں مگر جوہری قوت کی نمائش میں کسی پر زیادتی کرنا ایک شرمناک اور بزدلانہ حرکت و رویہ ہے.

تقریباً ہر ملک کی فوج اپنی سرزمین کی حفاظت و صیانت کے لئے سرحد پر سینہ سپر رہتا ہے. فوجی دستے سرحد کے قریب چلنے پھرنے، ناپاک سازشوں اور نازیبا حرکات و سکنات پر نظریں گڑاے رکھتی ہیں . لائن آف کنٹرول کے قوانین و ضوابط کا توڑنا جنگ کی شروعات مانی جاتی ہے مگر اکثر معاملات کو بات چیت کے ذریعے رفع دفع کر دیا جاتا ہے اگر اس سے بات نہ بنی تو حالات بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے . ایسا ہی ایک معاملہ تقریباً 40/ دنوں سے لداخ کے ایل۔او۔سی۔ پر ہند چین کے مابین نظر آ رہا تھا۔

چینی افواج اپنی ظلم و زیادتی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرحد کو عبور کر کے بھارت کی سرزمین (لداخ کے علاقے لائن آف کنٹرول ) پر اپنا ڈیرہ ڈال رکھی تھی جس کی وجہ سے دونوں کے بیچ تلخیاں بڑھتی جا رہی تھی سرکاری طور پر اس کی کسی کو خبر تلک نہیں افسوس۔

عوام الناس کے مابین تلخیوں اور شدید ٹکراؤ کی خبر 15/ جون 2020ء کی شب اس وقت آئی جب تمام بھارتی اپنے گھروں میں بے خوف و خطر خواب غفلت میں سو رہے تھے اور حکومت سیاسی روٹیاں سیکنے کی فراق میں مگن تھی. مغرور اور چقلش باز حکومت اس وقت بیدار ہوئ جب ٹکراؤ میں ایک افسر سمیت دو جوان شہید ہو گئے. اور یہ حملہ اس وقت وقوع پذیر جب بھارتی جنرل 15 مئی 2020 کو چینی جنرل سے معاملات پر تبادلہ خیال کرکے لوٹ رہے تھے۔

حفاظتی معاملات پر نظر رکھنے والے اکثر رپورٹر اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ہند چین کے درمیان لداخ کےایل۔او۔سی۔ پر جو جھڑپ ہوئی ہے اس میں گولی، بارود، میزائل اور کسی قسم کے ہتھیار کا استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں شدید مار پیٹ ہوئ جس میں بھارت کے 20 اور چین کے 43 جوان مارے گئے۔

یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فوجیوں کی شہادت پر وؤٹوں کی بھیک مانگنا کچھ بے شرم فقیروں کی پرانی عادت ہے اور اس معاملے کے ذریعے بھی اپنی سیاست چمکا رہا ہے ایک کے بعد ایک جانکاری آ رہی ہے، بہت شور شرابا ہو رہا ہے، کہیں شہادت کا جذبہ تو کہیں بدلے کا غصہ اور اس شور شرابے اور ہنگامے میں وہ سوال گم ہوتا چلا جا رہا ہے جس کا جواب دینے سے مودی سرکار بچتے آ رہی ہے نہ پلوامہ کے معاملے کا جواب آیا نہ پٹھان کوٹ اور امید قوی ہے کہ اس کا بھی جواب نہ آئے واہ رے تیری بہادری اور 56 انچ کا سینہ (قابل ملامت)۔

لداخ میں اتنا بڑا ٹکراؤ کیوں پیش آیا؟. کیوں چینی افواج کو لائن آف کنٹرول پار کرنے دیا گیا؟ . کیوں فوجی افسران کو اتنا اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی اور اپنی وطن کی عصمت کی خاطر وہ کچھ کر گزرتا جس کی ضرورت تھی؟ . فوجیوں کو برفیلی علاقوں میں پہن کر لڑنے والے کپڑے وقت پر کیوں نہیں دیا گیا؟. آپ کروڑوں کی سوٹ بوٹ پہن کر سیر و تفریح کر سکتے ہیں مگر جو جوان اپنی جان پر کھیل ہماری جانوں کی حفاظت کرتے انہیں وہ سامان فراہم نہ کیا جائے تعجب ہے!! اگر وقت پر انہیں سامان فراہم کیا جاتا تو بہت سی بہنوں کا سہاگ اجڑنے سے بچ جاتا. بہت سے بچے یتیمی کے نہ دھلے جانے والے داغ اور شفقت پدری سے محروم نہ ہوتے. بہت سی ماؤں کا کھوکھ سونا نہ پڑتا انہیں آپ کیا جواب دینگے۔

لداخ میں بھارت چین کے اس معاملے کو 1962ء کے بعد سب سے بڑا اور خطرناک حادثہ بتایا جاتا ہے اتنا بڑا حادثہ پیش آنے کے بعد تب جاکر دہلی میں ہلچل ہوئی. کتنی شرمناک بات ہے کہ موجودہ سرکار کا منتری شری راج ناتھ سنگھ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارتی عوام سے کچھ پوشیدہ نہیں رکھیں گے جو کام کرینگے سب کو بتائیں گے چلیں ذیل میں ان کی قول و فعل اور کردار و عمل میں تضاد گوئ کو دیکھتے ہیں جو وقوع پذیر ہونے کے باوجود عوام الناس کو باخبر نہیں کیا. اس ضمن میں کئی باتیں ہیں ملاحظہ کریں۔

۔1) 12 / مئی 2020ء کو ایل۔اے۔سی۔ کے پاس چینی ہیلی-کاپٹر اڑتے دیکھا گیا اس کے جواب میں بھارت نے بھی سکھوئ ایس۔یو۔30 لداخ میں ایل۔اے۔سی۔ کے پاس اڑایا۔

۔2) دونوں ملکوں کی فوجیں ایل۔اے۔سی۔  کے پاس کثیر تعداد میں جمع ہو رہی تھی لوکل کمانڈر کے درجے پر جھگڑے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی۔

۔3) 26 /مئی 2020ء کو پردھان منتری سینا پرمکھ جنرل وپن راؤت اور عالمی حفاظتی صلاح کار اجیت ڈھوبال اور تینوں اعلی جنرل افسروں کے ساتھ بیٹھک کی۔

مذکورہ بالا امور کے علاوہ اور بھی بہت سی کوششیں کی گئیں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھارتی سرکار اور اعلی فوجی افسران اس معاملے میں خاموشی اختیار کی کسی نے کچھ نہیں کہا گیا اس کے پس پشت کیا راز و نیاز کار فرما ہے. تعجب ہے

کیا ہمارے پاس اتنی طاقت و قوت نہیں ہے کہ چین کو اس کی زبان میں جواب دیں؟ . کیا صرف چینی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرکے اپنے پر ہوئے مظالم کو بھلا بیٹھیں؟ . نہیں ہمیں اپنے اختیارات اور داخلی امور کو مضبوط کرنا ہوگا. 1962ء کے جنگ سے ہم نے جو سبق سیکھا ہے اس پر عمل کرنا ہوگا. ملک کے باشندوں سے الجھنے کے بجائے اتحاد پیدا کرکے حالات کو سازگار بنانا ہوگا. ( اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے)۔

Related posts

والدین کا مقام

Hamari Aawaz Urdu

محمدبن قاسم قسط نمبر:11

Hamari Aawaz Urdu

کتاب و قلم: ماضی، حال اور مستقبل

Hamari Aawaz Urdu

2 تبصرے

Jack June 21, 2020 at 10:38 am

This is a topic which is close to my heart… Best wishes!
Where are your contact details though? I visited various blogs but
the audio quality for audio songs current at
this site is in fact wonderful. I am sure this article has touched all
the internet viewers, its really really pleasant paragraph on building up new web site.
http://foxnews.co.uk

My web blog Jack

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں