Top 10 صفحہ اول مذہبی

سنت کی برکت کا ایک واقعہ

پیش کش: محمد تحسین رفاعی، کان پور

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میرے اوپر تین سو (۳۰۰) روپیہ کا قرض تھا اور بوجہ مفلسی کے کوئی صورت ادا سمجھ میں نہ آتی تھی اتفاقاً ایک دن میں نے (کسی عالم کے ) درس میں یہ سنا کہ جو شخص کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں سنت سمجھ کر ہاتھ دھو لیا کرے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ چند دنوں میں اس کا قرض ادا ہو جائے گا، چنانچہ میں نے یہ عمل شروع کیا ابھی چند روز کیا تھا کہ اللہ کے فضل و عنایت سے میرے ذمہ ایک کوڑی بھی کسی کی باقی نہ رہی، اور میں الحمداللہ ایک سنت نبوی پر عمل کی برکت سے بار دَین (قرض کے بوجھ) سبکدوش ہو گیا۔ (اسوہ۔ص: ۹)۔

برتن میں ہاتھ دھونا:

سلییچی میں ہاتھ دھونا درست ہے جس برتن میں کھایا ہو اس میں ہاتھ دھونا بے ادبی ہے۔ (اتحاف جلد۵۔ص:۲۲۹ )۔

کھانے کی ابتدا بسم اللہ سے:
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بسم اللہ کہو اور ہر ایک اپنے قریب سے کھائے ۔ (بخاری ۔ص:۸۱۰ )۔

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بسم اللہ کہو اور اپنی جانب سے کھاؤ۔ (بخاری جلد ۲ ۔ص:۸۱۰ )۔

فائدہ: صرف بسم اللہ پڑھے تب بھی کافی ہے،بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا بہتر ہے۔
(خصائل ۔ص:۱۴۵ ۔عمدۃالقاری جلد۔ص:۲۸ )

بسم اللہ نہیں تو برکت نہیں:
حضرت انس سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جاۓ اس میں برکت نہیں ہوتی۔ (کنزالعمال جلد ۱۹۔ص:۱۸۰ )۔

بسم اللہ نہ پڑھی جاۓ تو شیطان کی شرکت:
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوۓ سنا کہ جب آدمی گھر میں داخل ہوتا ہے اور اللہ کا نام لیتا ہے اور کھانے پر اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے نہ سونے کی گنجا ئش ہے نہ کھانے کی
(مسلم جلد۲ ۔ص:۱۷۲ ،ترمذی جلد ۲ ۔ص: ۸ )

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا جسے یہ پسند ہو کہ شیطان اس کے ساتھ سونے میں ،کھانے میں، رات گذارنے میں شریک نہ ہو اسے چاہیے کہ جب گھر میں دا خل ہو تو سلام کرے اور کھانے پر بسم اللہ کہے (اس کی برکت سے شیطان شریک نہیں ہو گا)۔ (ترغیب جلد ۳ ۔ص:۱۲۳ )۔

Related posts

مسلمانوں کی بیداری اور میڈیا کی بوکھلاہٹ

Hamari Aawaz Urdu

عید الفطر کا پیغام

Hamari Aawaz Urdu

خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ نے ہمیشہ امن و سکون کا پیغام دیا

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں