Top 10 ادبی صفحہ اول مذہبی ملی

افسانہ: فریزر کا گوشت

از قلم: محمد احمد رضا برکاتی مصباحی
ڈائریکٹر: اسلامک اکیڈمی،گھٹ پربھا ، کرناٹک

ضیا آنکھوں میں آنسو لیے زور زور سے کہہ رہی تھی ……. امی چچا بہت موٹا لمبا اور ایکدم سیاہ خوب صورت بکرا لائے ہیں ……. امی ہم کب لائیں گے ……. ؟ ……. کتنے سال بیت گئے ہم بکرا نہیں لائے ……. بابا کتنے اچھے اچھے بکرے لاتے تھے ……. سسکیاں لیتے لیتے آخر یوں گویا ہوئی ہم کل گوشت کھائیں گے نا ……. ؟
نمیر اُدھر خاموش کھڑے اپنی چھوٹی بہن ضیا کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا …….. سنتے سنتے اس کے آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تھے ……. اور ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے من ہی من میں تخیلات کی دنیا میں کھوکر کہتا ہے کاش بابا ہوتے ……!

نمیر اور ضیا کے والد چند سال قبل دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ……. جب تک والد تھے گھر کی زندگی کسی طور خوش گوار تھی لیکن جانے کے بعد حالات دن بدن ناگفتہ بہ ہوگئے تھے ……. والدہ خود دار تھی ……. گھروں کے برتن مانج کر اپنے بچوں کو پالتی تھی ……. ادھر چند سالوں سے وہ بھی بستر علالت پر تھی ……. نمیر کی عمر ابھی سولہ سال کے لگ بھگ تھی ……. والد کے انتقال کے ساتھ ہی وہ ذمے دار ہوگیا تھا ……. سوج بوجھ اچھی پائی تھی ……. محنت مزدوری کرتا ……. تھوڑا بہت کماتا ……. گھر کسی طرح چلتا ……. مگر اس پر قربانی فرض کبھی نہیں ہو پائی تھی ……. عالمی منڈی کے اتار کی وجہ سے آج کل اس کی حالت مزید خستہ ہوچکی تھی ……. جس کے سبب کچھ دنوں سے بے روزگاری کی مار جھیل رہا تھا ……. اسی سبب مہینوں گزر چکے تھے گھر میں گوشت نہیں آیا تھا ۔

یہ ایک گھر کی نہیں کئی گھروں کی یہی داستان ہے …….. ایسے کتنے نجانے بیوہ کے یتیم بچے ہوتے ہیں ……. جو عید قربان کے دن پر بھی گوشت کی فرمائش کررہے ہوتے ہیں …….. ایسے موقع پر ہماری غیرت کہاں چلی گئی رہتی ہے …….. دکھوں پر مرہم رکھنے کا جذبہ کہاں مرگیا رہتا ہے ……. کیوں نہیں اپنے غریب ہم سائے یا پھر غریب رشتہ داروں کو پوچھتے ہیں …… ؟
ہم قربانی کرتے ہیں ……. بڑے سے بڑا جانور لاتے ہیں ……. قیمتی لاتے ہیں ……. خوب روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیں ……. یہاں وہاں چرچا ہی چرچا رہتا ہے ……. دھوم دھام سے جانور ذبح کرتے ہیں ……. رشتہ دار ، عزیز و اقارب کو دعوت دے کر کھانا کھلاتے ہیں ……. جہاں تک ممکن ہوتا ہے گوشت کو فریجر میں جمع کرلیتے ہیں ……. اگر کوئی بچتا ہے تو وہ محلے کا غریب یتیم بچہ ۔

بارہا کا تجربہ ہوتا ہے کہ بجلی کے غائب ہونے کی وجہ سے فریجر کا گوشت خراب ہوجاتا ہے ……. لیکن کوئی افسوس نہیں ہوتا ……. دل اتنا بڑا نہیں کر پاتے کہ ہر سال گوشت جب ضائع ہوجاتا ہے تو کم از کم اس سال تو نہ رکھوں ……. ہم یہ نہیں کہتے نہ رکھو ……. رکھو مگر کم از کم غریبوں کا حصہ تو ان تک پہنچا دو ……. ایک خرابی عموماً یہ بھی پائی جاتی ہے کہ دعوت اسی کو دی جاتی ہے جس کے یہاں قربانی ہوتی ہے ……. گوشت اسی کے یہاں بھیجا جاتا ہے جس کے یہاں قربانی ہوتی ہے …….. حالاں کہ قربانی کے گوشت کے زیادہ مستحق نادار اور وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے یہاں قربانی نہیں ہوتی ہے ۔

قربانی در اصل بھوک مری کے خلاف ایک خاموش جنگ ہے ……. قربانی کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اپنے آس پڑوس نمیر اور ضیا جیسے لوگوں پر بھی عید کے دن تھوڑی توجہ کرلیا کریں …… اور ہوسکے تو فریجر میں گوشت کم رکھ کر قربانی کا جو مقصد ہے اسے پورا کریں ایسا کوئی کام نہ کریں جو اس کی روح کے منافی ہو ۔

Related posts

ڈاکٹر غلام زرقانی کی کتاب”نقشِ خیال”_ایک علمی و فکری جائزہ

Hamari Aawaz Urdu

دعوت کا طریقہ کار

Hamari Aawaz Urdu

فقیروں کو دیکھا کبھی؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں