Top 10 بین الاقوامی صفحہ اول مذہبی ملی

حج کی احتیاطیں

 تحریر: محمد حبیب القادری صمدی(مہوتری،نیپال)۔

شعبہ تحقیق جامعہ عبد اللہ بن مسعود, کولکاتا

فرائض اسلام میں حج  بھی ایک اہم فریضہ ہے۔جوکہ بے شمار اور حیرت انگیز نعمتوں کا ذریعہ ہے۔نماز روزہ  جسمانی عبادات ہیں اور زکوٰۃ و قربانی مالی عبادات۔لیکن حج جسمانی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔حج صاحب استطاعت ،عاقل،بالغ،آزاد اور تندرست مسلمان مردو عورت پر پوری زندگی میں صرف ایک بار ہی فرض ہے۔لہٰذا اس فریضہ کی ادائگی میں احتیاط ازحد ضروری ہےکہیں ایسا نہ  ہوکہ سارا سفر بے کار ہوجائے۔دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ حج کو جاتے ہیں ،مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر و بیشتر حضرات حج کے احکام و مسائل سے بے خبر ہوتے ہیں انہیں معلوم تک نہیں ہوتا کہ حج کی ادائگی کا صحیح طریقہ کیا ہے؟حج کے دوران مستقل وہ کام کرتے رہتے ہیں جن باتوں سے منع کیا گیا ہے۔سنن ومستحبات تو دور کی بات فرائض و واجبات تک چھوڑ دیتے ہیں ۔پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجائے ثواب کے گناہ کے مستحق ہوتے ہیں۔لہٰذا مسافر حرمین شریفین کی بارگاہ میں درمندانہ اپیل ہے کہ حج کے احکام و مسائل کو اچھی طرح سیکھیں ،مفتیان کرام اور علما عظام سے رجوع کریں ،حج کی موضوع پر لکھی  گئیں کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کریں! اور تربیتی پروگراموں اور کیمپوںمیں پابندی سے شرکت کریں!اور مسائل و طریقہ کو خوب  سمجھنے کی کوشش کریں اپنے حج کو خراب ہونے سے بچائیں !جو بات سمجھ میں نہ آئے وہ علما سے ضرور سمجھ لیں تاکہ کما حقہ حج  ادا ہوسکے۔

نماز کی پابندی کریں! (بہت سے لوگ طواف کے بعد دورکعت نماز جوکہ واجب ہے چھوڑ دیتے ہیں) اورعورتیں پردےکا اہتمام کریں!ویسے تو پردہ ہر حال میں ضروری ہے خواہ وہ گھر میں ہو یاگھر کے باہر لیکن حریمین شریفین میں بالخصوص اس کا اہتمام لازم و ضروری ہے۔بہت سی خواتین پردے کا خیال نہیں رکھتیں حتی کہ برقع پوش خواتین بھی برقع اتار کر بے حجاب ہوجاتی ہیں، اس طرح وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتی ہیں۔حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

’’بعض عورتوں کو میں نے خود دیکھا ہے کہ نہایت بے باکی سے سعی کرتی ہیں کہ ان کی کلائیاں اور گلا کھلا رہتا ہے اور یہ خیال نہیں کہ مکہ معظمہ میں معصیت کرنا سخت بات ہے کہ یہاں جس طرح ایک نیکی لاکھ کے برابر ہے ۔یوہیں ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر بلکہ یہاں تو یہاں کعبہ معظمہ کے سامنے بھی وہ اسی حالت میں رہتی ہیں بلکہ اسی حالت میں طواف کرتے دیکھا ،حالانکہ طواف میں ستر کا چھپانا علاوہ اسی فرض دائمی کے واجب بھی ہے تو ایک فرض دوسرےواجب کے ترک سے دوگناہ کیے ۔

وہ بھی کہاں بیت اللہ کے سامنے اور خاص طواف کی حالت میں بلکہ بعض عورتیں طواف کرنے میں خصوصا حجر اسود کو بوسہ دینے میں مردوں میں گھس جاتی ہیں اور ان کا بدن مردوں کے بدن سے مس ہوتا رہتا ہے مگر ان کو ا س کی کوئی پروا نہیں حالانکہ طواف یا بوسئہ حجر اسود وغیرہما ثواب کے لیے کیا جاتا ہے مگر وہ عورتیں ثواب کے بدلے گناہ مول لیتی ہیں ۔لہٰذا ان امور کی طرف حجاج کو خصوصیت کےساتھ توجہ کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ جو عورتیں ہوں انھیں بتاکید ایسی حرکات سے منع کرنا چاہیے‘‘۔

(بہار شریعت،حصہ :ششم،ج:۱،ص:۱۱۱۰)

مندرجہ ذیل میں چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں جن سے احتیاط لازم  و ضروری ہے ورنہ صدقہ یا دم لازم آئے گا!

خوشبو اور تیل لگانا:

 حالت احرام میں خوشبو اور تیل لگانے سے احتیاط کریں !فتاوی رضویہ میں  ہے:

’’بدن یا کپڑوں میں خوشبو لگانا حرام ہے اور سونگھنا مکروہ، اور خوشبو کا تیل اور روغن زیتون اور تل کا تیل اگرچہ خالص ہوں بالوں میں یا بدن میں لگانا جائز نہیں‘‘۔

(فتاوی رضویہ،مترجم،ج:۱۰،ص:۷۸۹/۷۹۰،رضا فائونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

’’خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر لوگ بہت بتائیں اگر چہ عضو کے تھوڑے حصہ پر یا کسی بڑے عضو جیسے سر، منھ، ران، پنڈلی کو پورا سان دیا اگرچہ خوشبو تھوڑی ہے تو ان دونوں صورتوں میں دم ہے اور اگر تھوڑی سی خوشبو عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگائی تو صدقہ ہے‘‘۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۶۳)

سلے کپڑے پہننا:

حالت احرام میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے احتیاط لازم ہے۔فتاوی رضویہ میں ہے:

’’سلے کپڑے اتارنے واجب ہیں احرام والے پر ،اگر کوئی عذر لاحق نہ ہو‘‘

(فتاوی رضویہ،مترجم،ج:۱۰،ص:۷۸۵،رضا فائونڈیشن لاہور)

اور بہار شریعت میں ہے:

(حالت احرام میں)سلا کپڑا پہننا۔۔۔برقع ،دستانے پہننا۔۔۔عمامہ باندھنا۔۔۔بستہ یا کپڑے کی بقچی یا گٹھری سر پر رکھنا۔۔۔مونھ ،یا  سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا(حرام ہے)۔ (بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۸)

 محرم نے سلا کپڑا  چار پہر (چار پہر سے مراد ایک دن یا ایک رات کی مقدار ہے ،مثلا طلوع آفتاب سے غروب آفتاب  یاغروب  آفتاب سے طلوع آفتاب  یا دوپہر آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تک)کامل پہنا تو دم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ ہے۔ شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۶۷)

بال دور کرنا:

حالت احرام میں سر  یا جسم کے دوسرے حصے کے بال دور کر نے  سےبچیں! بہار شریعت میں ہے:

(حالت احرام میں)سر سے پائوں تک کہیں سے کوئی بال  کسی طرح جدا کرنا(حرام ہے)۔ (بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۸)

سر یا  داڑھی کے چہارم بال یا زیادہ کسی طرح دور کیے تو دم ہے اور کم ہے تو صدقہ

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’واذا حلق ربع لحیتہ فصاعدا فعلیہ دم و ان کان اقل من الربع فصدقۃ‘‘

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الفصل الثالث  فی حلق الشعر و قلم الاظفار،ج:۱،ص:۲۴۳)

ناخن کترنا:

حالت احرام میں ناخن وغیرہ کاٹنے سے احتیاط کریں! بہار شریعت میں ہے:

’’اپنا یا دوسرے کا ناخن کترنا یا دوسرے  سےاپنا کتر وانا‘‘(حرام ہے) ۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۸)

مسئلہ:ایک ہاتھ ایک پائوں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایک ساتھ تو ایک دم ہے اور اگر کسی ہاتھ یا پائوں کے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایک صدقہ۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۲)

مسئلہ:کوئی ناخن ٹوٹ گیا کہ بڑھنے کے قابل نہیں رہا ،اس کا بقیہ اس نے کاٹ لیا تو کچھ نہیں۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۲)

بوس و کنار وغیرہ:

حالت احرام میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار وغیرہ سے بچیں!بہار شریعت میں ہے:

’’بوسہ۔مساس۔گلے لگانا۔اس کی اندام نہانی پر نگاہ جب کہ یہ چاروں بوتیں بشہوت ہوں۔عورتوں کے سامنے اس کام کا نام لینا۔فحش گناہ ہمیشہ حرام تھا اب اور سخت حرام ہوگئے‘‘

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۸)

مسئلہ:مباشرت فاحشہ اور شہوت کے ساتھ بوس و کنار اور بدن مس کرنے میں دم ہے، اگرچہ انزال نہ ہو اور بلاشہوت میں کچھ نہیں۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۳/۱۱۷۲)

تنویر الابصار میں ہے:

’’او قبل او لمس بشھوۃ انزل اولا‘‘

(کتاب الحج ،باب الجنایات،ج:۳،ص:۵۸۷)

جماع:

حالت احرام میں اپنی بیوی کے ساتھ جمع وغیرہ سے بچیں!بہار شریعت میں ہے:

(حالت احرام میں)عورت سے صحبت(حرام ہے)۔

 (بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۸)

مسئلہ:وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد ہوگیا۔اسے حج کی طرح پورا کرکے دم دے اور سال آئندہ ہی میں اس کی قضا کرلے۔عورت بھی احرام حج میں تھی تو اس پر بھی یہی لازم ہے۔

(المرجع السابق،ص:۱۱۷۳)

مسئلہ:قصدا جماع ہو یا بھولے سے یا سوتے میں اکراہ کے ساتھ سب کا یہی حکم ہے۔

((المرجع السابق،ص:۱۱۷۳)

طواف میں غلطیاں:

طواف میں مندرجہ ذیل باتیں حرام ہیں ان سے احتیاط کریں!

’’بے وضو طواف کرنا ۔کوئی عضو جو ستر میں داخل ہے اس کا چہارم کھلا ہونا مثلا ران یا آزاد عورت کا کان یا کلائی۔بے مجبوری سواری پر یا کسی کی گود میں یاکندھوں پر طواف کرنا۔بلاعذر بیٹھ کر سرکنا یا گھٹنوں چلنا۔کعبہ کو دہنے ہاتھ پر لے کر الٹا طواف کرنا۔طواف میں حطیم کے اندر ہو کر گزرنا۔سات پھیروں سے کم کرنا۔‘‘

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۱۲/۱۱۱۳)

مسئلہ:چار پھیرے سے کم بے طہارت کیا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ اور جنابت میں کیا تو دم پھر اگر بارہویں تک اعادہ کر لیاتو دم ساقط اور بارہویں کے بعد اعادہ کیا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صد قہ۔۔(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۵)

نوٹ: حائضہ خانہ کعبہ کا طواف اور مسجد حرام میں داخل ہونے سے گریز کرے! فتاوی فقیہ ملت میں ہے:

’’حالت حیض میں نہ تو خانہ کعبہ کا طواف کرسکتی ہے ۔اور نہ ہی مسجد حرام میں داخل ہوسکتی ہے‘‘۔

فتاوی فقیہ ملت ،ج:۱،ص:۳۶۲)

سعی میں غلطیاں:

سعی میں مندرجہ ذیل باتوں سے بچیں!

’’خریدو فروخت ۔فضول کلام۔صفا یا مروہ پر نہ چڑھنا ۔مرد کا مسعٰے میں بلا عذر نہ دوڑنا۔

طواف کے بعد بہت تاخیر کرکے سعی کرنا۔ستر عورت نہ ہونا۔پریشان نظری یعنی ادھر ادھر فضول دیکھنا سعی میں بھی مکروہ ہے اور طواف میں اور زیادہ مکروہ‘‘۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۱۵)

مسئلہ:طواف سے  پہلے سعی کی اور اعادہ نہ کیا تو دم دے۔۔(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۷)

وقوف عرفہ :

میدان عرفات میں حجاج کرام کا توقف ضروری ہے ۔

مسئلہ:جو شخص غروب آفتاب سے پہلے عرفات  سے چلا گیا  دم دے پھر اگر غروب سے پہلے واپس آیا تو ساقط ہوگیا اور غروب کے بعد واپس ہوا تو نہیں اور عرفات سے چلا آنا خواہ باختیار ہو یا بلااختیار ہو مثلا اونٹ پر سوار تھا وہ اسے لے بھاگا دونوں صورتوں میں دم ہے۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۸)۔

وقوف مزدلفہ:

مقام مزدلفہ میں حجاج کرام کا ٹھہرنا ضروری ہے۔

مسئلہ:دسویں کی صبح کو مزدلفہ میں بلا عذر وقوف نہ کیا تو دم دے۔ہاں کمزور عورت بخوف ازدحام وقوف ترک کرے تو جرمانہ نہیں۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۸)

جمرات کی رمی:

تینو جمروں پر دسویں ،گیار ہویں، بارھویں تینوں دن کنکریاں مارنا  واجب ہے لہٰذا ترک نہ کریں ،واضح رہے ! ہر روز کی رمی کا اسی دن ہونا یہ بھی واجب ہے۔

مسئلہ:کسی دن بھی رمی نہیں کی یا ایک دن کی بالکل یا اکثر ترک کردی مثلا دسویں کو تین کنکریاں تک ماریں یا گیارھویں وغیرہ کو دس کنکریاں تک یا کسی دن کی بالکل یا اکثر رمی دوسرے دن کی تو ان سب صورتوںمین دم ہے۔اور اگر کسی دن کی نصف سے کم چھوڑی مثلا دسویں کو چار کنکریاں ماریں،تین چھوڑدیں یا ان دنوں کی گیارہ ماریں دس چھوڑدیں یا دوسرے دن کی تو ہر کنکری پر ایک صدقہ دے اور اگر صدقوں کی قیمت دم کے برابر ہوجائے تو کچھ کم کردے۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۸)

حلق میں غلطی:

حلق کروانا یہ بھی واجبات میں سے ہے لہٰذا اس کا خاص خیال رکھیں!

مسئلہ:حج کرنے والے نے بارہویں کے بعد حرم سے باہر سرمونڈایا تو دودم ہیں، ایک حرم سے باہر حلق کرنے کا دوسرا بارھویں کے بعد ہونے کا۔(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۹)

شکار کرنا:

حالت حرام میں شکار وغیرہ کرنا حرام ہے ،اس سے احتیاط کریں!بہار شریعت میں ہے:

’’ خشکی کا وحشی جانور شکار کرنا یا اسکی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتا نا ،یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب‘‘۔

 (بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۷۹)

حرم کے جانور کو ایذا دینا:

حرم کے جانور کو چھیڑ چھاڑ سے گریز کریں!بہار شریعت میں ہے:

’’حرم کے جانور کو شکار کرنا یا اسے کسی طرح ایذا دینا سب کو حرام ہے۔محرم اور غیر محرم دونوں اس حکم میں یکساں ہیں‘‘۔

 (بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۸۶)

مسئلہ:ایک نے حرم کا جانور پکڑا ،دوسرے نے مار ڈالا تو دونوں پوری پوری قیمت دیں اور پکڑ نے والے کو اختیار ہے کہ دوسرے سے تاوان وصول کرے۔

(المرجع السابق،ص:۱۱۸۷)

اور فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’محرمون نزلوا بمکۃ بیتا وفیہ نواھض وحمام فامر ثلاثۃ منھم رابعھم باغلاق الباب فاغلقہ و خرجوا الی منی قبل رجعوا وجدوا طیورا قد ماتت عطاشا فعلی کل واحد منہم الجزائ‘‘

چند شخص محرم مکہ کے کسی مکان میں ٹھہرے  اور اس  مکان میں  کبوتر اور چڑیا رہتے  تھے، ان تینوں نے چوتھے کو دروازہ بند کرنے کا  حکم دیا   ،اس نے دروازہ بند کردیا اور سب منی کو چلے گئے ،واپس آئے تو کبوتر پیاس سے مرے ہوئے ملے تو سب پورا پورا کفارہ دیں۔

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب التاسع فی الصید،ج:۱،ص:۲۵۰)

حرم کے پیڑ وغیرہ کاٹنا:

حالت احرام میں حرم شریف کے پیڑ وغیرہ کاٹنا تو دور کی بات، مسواک وغیرہ توڑنا بھی جائز نہیں ہے۔فتاوی عالمگیری  میں ہے:

’’ولایجوز اتخاذ المساویک من اراک الحرم وسائر شجرۃ‘‘

حرم کے پیلو یا کسی درخت کی مسواک بنانا جائز نہیں۔

(الفتاوی الھندیۃ،کتاب المناسک،الباب التاسع فی الصید،ج:۱،ص:۲۶۴)

حضورصدر الشریعہ کا پیغام حجاج کرام کے نام:

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

’’جب حرم مکہ کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع و خضوع سے داخل ہو۔اور ہوسکے تو پیادہ ننگے پائوں اور لبیک و دعا کی کثرت رکھے۔اور بہتر یہ ہے کہ دن میں نہا کر داخل ہو ،حیض و نفاس والی  عورت کو بھی نہانا مستحب ہے۔

مکہ معظمہ کے گرد اگر د کئی کوس تک حرم کا جنگل ہے،ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں،ان حدوں کے اندر تر گھاس اکھیڑنا،خود روپیڑ کاٹنا ،وہاں کے وحشی جانور کو تکلیف دینا حرام ہے۔یہاں تک کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایک پیڑ ہے اس کے سائے میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اسے اٹھائے اور اگروحشی جانور بیرون حرم کا اس کے ہاتھ میں  تھا اسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہوا اب  وہ جانور حرم کا ہوگیا فرض ہے کہ فورا چھوڑدے ۔مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر بکثرت ہیں ہر مکان میں رہتے ہیں ،خبردار ہر گز ہرگز نہ اڑائے ،نہ ڈرائے،نہ کوئی ایذا پہنچائے بعض ادھر ادھر کے لوگ جو مکہ میں بسے کبوتروں کا ادب نہیں کرتے ،ان کی ریس نہ کرے مگر برا انہیں بھی نہ کہے کہ جب وہاں کے جانور کا ادب ہے تو مسلمان انسان کا کیا کہنا!یہ باتیں جو حرم کے متعلق بیان کی گئیں احرام کے ساتھ خاص نہیں احرام ہو یا نہ ہو بہرحال یہ باتیں حرام ہیں۔ ‘‘

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۸۵/۱۰۸۶)

جوں مارنا:

حالت احرام میں جوں مارنے احتیاط کریں!بہار شریعت میں ہے:

’’جوںمارنا۔ پھینکنا۔کسی کو اس کےمارنے کا اشارہ کرنا ۔کپڑا اس کے مارنے کو دھونا۔یا دھوپ میں ڈالنا۔بالوں میں پارہ وغیرہ اس کے مارنے کو لگانا غرض جوں کے ہلاک پر کسی طرح باعث ہونا‘‘(حرام ہے)۔

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۰۷۹)

بغیر احرام میقات سے گزرنا:

بغیر احرام باندھے میقات سے نہ گزرے ورنہ دم لازم آئے گا۔بہار شریعت میں ہے:

’’میقات کے باہر سے جو شخص آیا اور بغیر احرام مکہ معظمہ کو گیا تو اگرچہ نہ حج کا ارادہ ہو ، نہ عمرہ کا مگر حج یا عمرہ واجب ہوگیا پھر اگر میقات کو واپس نہ گیا ،یہیں احرام باندھ لیا تو دم واجب ہے اور میقات کو واپس جاکر احرام باندھ کر آیا تو دم ساقط ‘‘

(بہار شریعت،حصہ:ششم،ج:۱،ص:۱۱۹۱)

احرام باندھتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں!

جب وہ (میقات) جگہ قریب آئے ،مسواک کریں اور وضو کریں اور خوب مل کر نہائیں،نہ نہا سکے تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض و نفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور باطہارت احرام باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہو گیا اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں اور پانی ضرر کرے تو اس کی جگہ تیمم نہیں،ہاں اگر نماز احرام کے لیے تیمم کرے ہو سکتا ہے۔

نوٹ:غسل سے پہلے ناخن کتریں، خط بنوائیں، موئے بغل و زیر ناف وغیرہ دور کریں۔

تنبیہ ضروری اشد ضروری!

اعلی احضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں:

بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے نہ کہ احرام میں ،نہ کہ موقف میں،یا مسجد الحرام میں ،نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے ،نہ طواف ،بیت الحرم میں ۔یہ تمہارے بہت امتحان کا موقع ہے عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں مونھ نہ چھپائو اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو ،یقین جانو کہ یہ بڑے عزت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ  سب خاص دربار میں حاضر ہوکر بلا تشبیہہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف  نگاہ اٹھا سکتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ واحد قہار کی کنیزیں کہ اس کے خاص دربار میں حاضر ہیں ان پر بدنگاہی کس قدر سخت ہوگی؟وللہ المثل الاعلیٰ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی شان سب سے بلند ہے)ہاں ہاں ہوشیار !ایمان بچائے ہوئے قلب ونگاہ سنبھالے ہوئے حرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادے پر پکڑا جاتا ہے  اور ایک گناہ لاکھ گناہ کے برابر ٹھہرتا ہے،الٰہی! خیر کی توفیق دے۔آمین

(فتاوی رضویہ،ج:۱،ص:۷۵۷،رضا فائونڈیشن لاہور)

اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو کماحقہ حج ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین  یارب العالمین ،بجاہ سید المرسلین ﷺ

Related posts

امام احمد رضا خان کا فن شاعری میں مقام

Hamari Aawaz Urdu

ایک اہم سبب یہ بھی ہے ہماری ناکامی کا

Hamari Aawaz Urdu

اسلام میں با ہمی حقوق اور بھائی چارہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں