تازہ ترین خبر سیاسی صفحہ اول قومی ملی

ڈاکٹر ایوب کی گرفتاری کیوں؟

تحریر: زین العابدین ندوی

کیا اب آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ بھارت کا چہرہ بالکل مسخ کیا جا رہا ہے؟ نفرت و عداوت کی بیج بو کر اس کی خوبصورتی کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش زوروں پر ہے اور تمام باشندگان وطن تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ حکومت کا تیور بتا رہا کہ وہ اس ملک کی سالمیت کو باقی نہیں رہنے دے گی اور یہی اس کا منصوبہ ہے، جس کے ذریعہ وہ ایک بار پھر سے ملک کو خاص طبقہ کا غلام بنانا چاہتی ہے،پچھلے چھ سالوں سے اس سلسلہ مزید زور اختیار کر لیا ہے، آئین ہند میں تبدیلی، حکومت کے نشے میں عدالتوں کا ججوں کا استحصال، مسلم سماج کے ساتھ کھلی زیادتی، ان کے پرسنل لاء میں بیجا مداخلت، ان کے نوجوانوں کے ساتھ نامناسب بلکہ بہیمانہ سلوک، ملک کے امن پسند شہریوں کے ساتھ بد سلوکی اور حقیقی محبان وطن کے ساتھ ظلم وجبر کے بڑھتے معاملات جس کی واضح دلیل ہیں۔۔۔

ڈاکٹر کفیل کے بعد پھر آج شام آٹھ بجے ڈاکٹر ایوب سرجن کو گرفتار کرنا انہیں زیادتیوں کی ایک اہم کڑی ہے، یہ بتا کر کہ ایس او کی طبیعت خراب ہے انہیں آپریشن تھیٹر سے بلایا گیا اور باہر نکلنے پر بلا کسی اطلاع گرفتار کر لیا گیا،حکومت کی اس حرکت کی جتنی مذمت کی جاے وہ کم ہے، سوال یہ ہے کہ کسی کو کسی قسم کی نوٹس دئیے بغير گرفتار کرنا صحیح ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ڈاکٹر ایوب کو سی او کے معالجہ کے بہانہ کیوں گرفتار کیا گیا؟ کیا صرف اس لئے کہ وہ قوم وملت کے ہمدرد تھے، اور بے سہاروں کی آواز بن کر اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے جو حکومت کو برداشت نہ ہوا؟

ڈاکٹر کفیل ڈاکٹر ایوب اور ان جیسے افراد کی گرفتاری سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بے قصور عوام کی گرفتاری کا یہ ناجائز شکنجہ خواص تک آ پہونچا ہے،اور حکومت کی تانا شاہی کا زور آے دن بڑھتا نظر آ رہا ہے، ایسے میں ہمیں نڈر ہو کر سامنے آنے کی ضرورت ہے اور کسی سے گھبراے بغير اپنا فرض ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور اس سلسلہ میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ظلم کو برداشت نہ کریں اور ظلم کی مخالفت کو اپنا وطیرہ بنا لیں، ہمیں بالکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ۔۔ یہ ہم پر ایک ایسا وقت آن پڑا جس میں اگر ہم مظلوموں کی آواز نہ بن سکے تو ہم کو ظلم کو تختہ مشق بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔۔

Related posts

اللہ ورسول کی محبت: ایمان کی اوّلین شرط

Hamari Aawaz Urdu

کچھ اخلاقی برائیاں جو معاشرے کیلئے ناسور ہیں جن سے بچنا بہت ہی ضروری ہے

Hamari Aawaz Urdu

دہکتا معاشرہ تیسری قسط

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں