تاریخی صفحہ اول ملی

رام مندر کا سنگ بنیاد

تحریر: شکیل الرحمن
ریسرچ اسکالر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

ہمارا ملک ہندوستان15 اگست 1947ء کو انگریزی استبداد سے آزاد ہو کر ایک جمہوری ملک بنا۔ اور اس کے دستور میں ہر شہری کو بنیادی حقوق کی آزادی دی گئی نیز اسکے پہلے صفحہ (پریمبل) کا آغاز “ہم ہندوستان کے لوگ ” جیسے جملے سے کیا گیا اشارہ ہے اس بات کا یہاں پر حکومت کی نظر میں، بلا تفریق رنگ و نسل اور مذاہب،تمام شہری برابر ہیں اور ان کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ پریمبل اور پورا دستور دور کے ڈھول کی طرح سہانے و سراب ہو کر رہ گیا ہے۔ پہلے خفیہ طور سے اور اب کھلے عام اس قانون کو نیلام کیا جارہا ہے۔ جو بھی اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اسے طاقت کے بل پہ خاموش کردیا جاتا ہے۔ جس کے سبب ہندستانی تاریخ میں آئے دن کالے دنوں کا اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ انہیں میں ایک دن آج کا بھی ہے۔ (5 اگست 2020)۔
آج ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد دیش کے وزیراعظم کے ذریعہ 12:44 بجے رکھا گیا۔ اس جبرا قبضہ کی تیاری ایک سیاسی مفاد کے پیش نظر آزادی کے معا بعد شروع ہوگئی تھی۔آہستہ آہستہ اسے مذہبی رنگ دے کر 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کو سنگھی آتنکیوں نے شہید کردیا۔ لیکن ابھی مکمل کامیابی نہیں ملی تھی۔ مسئلہ برابر کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ آخرکار 9 نومبر 2019 کو چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی نے ایک ہزار صفحات پر مشتمل فیصلہ نامہ تیار کیا اور فیصلے کے آغاز میں کہا کہ ” آج فیصلہ آستھا سے ہٹکر تاریخی اور آثار قدیمہ کے مطالعہ کے پیش نظر ہوگا۔ ” لیکن افسوس کہ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں یہ اقرار کیا کہ “22 دسمبر 1949 تک اس میں نماز ہوتی تھی۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہاں پر کوئی مندر تھی جسے گرا کر مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ اسی طرح مسجد کا گرایا جانا اور اس میں مورتی رکھناایک ظالمانہ اور غیر قانونی عمل تھا۔” ان تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد بھی چیف جسٹس کے ہاتھ سے انصاف کا دامن چھوٹ گیا اور آستھا کی بنیاد پر مسجد کو بت پرستی کے لئے بت پرستوں کے حوالے کردیا۔ اور منہ بند و مصلحت کے مد نظر مسجد سے دگنی زمین ایودھیا ہی میں مسلمانوں کو دیا۔ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ فیصلہنہیں طاقت کےبل بوتے کیا گیا سمجھوتا ہے۔
آج جب کہ پوری دنیا “کورونا” نامی وبائی مرض کا شکار ہے، ملک کی حالت کسی بھی لحاظ سے بہتر نہیں، اس کے باوجود ایک بڑے مجمع میں آج 5 اگست 2020 کو بت پرستی کا سنگ بنیاد ملک کے اعلی کمان وزیر اعظم شری نریندر دامودر داس مودی کے ہاتھوں رکھا گیا۔جس میں شری مودی نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اس جبری تسلط کو جنگ آزادی سے تعبیر کیا۔ جو کہ صاحب بصیرت انسان کو کسی بھی صورت ہضم ہونے والی نہیں۔مذہبی سماروہ میں شامل ہو کر پہلے تو جمہوریت کو ننگا کیا پھر عصبیتی بیان دے کر اس کا خون کر دیا گیا۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ نے نفرتی بیان کے ساتھ ایک اچھی بات یہ کہی کہ اب آج سے رام راجیہ میں ذاتی و دھرم کے نام پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ اللہ کرے ایساہی ہو۔
وزیراعظم کے آج کے اس عمل سے بی۔ جے۔ پی۔ خیمے کی کیا حالت ہے اس سے صرف نظر مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی شہرت، گدی اور دنیاوی جاہ و جلال کی خاطر مصلحت کے نام پر اپنے ایمان کاسودا کرنے کے ہاتھ باندھ کر بیٹھ گیا۔ وہیں کچھ غیور مسلمان بھی ہیں جو چاہ کر کے بھی بے خوف ہوکر اپنی شناخت و آراء کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے ہماری اپنی کرتوت کارفرما ہے۔اللہ نے حکومت و سربلندی کا وعدہ خالص ایمان کے ساتھ کیا ہے۔ جو کہ آج ناپید ہے۔اس کے علاوہ اللہ نے اپنی طاقت کے مطابق اپنے سے ڈرنے کو کہا نیز یہ حکم دیا کہ اپنی حیثیت اور استطاعت کے اعتبار سے ہمہ وقت خود کو تیار رکھو۔ لیکن ہم نے کوئی توجہ نہ دی۔ اللہ نے مختلف مقامات پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ہماری بنیادی کمزوری پر انگلی رکھ کر کہا کہ آپسی نزاع و انتشار کا شکار مت ہونا ورنہ تمہاری وقعت ختم ہو جائے گی۔ لیکن ہم ٹھہرے انسان مسلمان گھر میں پیدا ہو نے اور کتاب و سنت کے رسمی مطالعہ سے خود کوجنت اور نصرت الہی کا ٹھیکیدار سمجھ لیا۔ اور اسی زعم میں اللہ کی کسی بھی تدبیر کو لائق اعتنا نہ سمجھا۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بے خوف ہوکر پوری شان و شوکت کے ساتھ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اور ہم ڈر سے خاموش تماشائی بنے رہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ جب کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو اسے اس کے ماضی اور تعلیم سے کاٹ دو۔ یہ تو ایک واقعہ ہے اپنے اوپر کئے گئے ظلم کا ورنہ مختلف ناموں سے موب لنچنگ کے واقعات، سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی میدانوں وغیرہ میں نہ جانے کیسے کیسے ظلم ہوتے ہیں، بس اللہ کی پناہ۔
مسلمانوں اللہ کے واسطے شخصیت پرستی اور مسلکی عناد کو چھوڑ کر حکمت سے کام لو، الہی تعلیمات کو ہمہ وقت مد نظر رکھو، اپنے آپ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرو، دنیا کے ہر ایسے میدان میں اپنے قدم مضبوط کرو جہاں سے انسانیت کے درس کو عام کرکے ملک و اسلام کے نام کو بلند کیا جا سکے، حق و باطل کے درمیان فرق اپنی اولین ترجیح ہو۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ ہم نہیں جانتے کہ اپنی اسی ہٹ دھرمی و خوش فہمی میں کل کونسا دن دیکھنا پڑے۔
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتاہے کہ اسلام ہے آزاد

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا اتفاق ضروری نہیں۔

Related posts

اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت

Hamari Aawaz Urdu

ہندوستان میں مسلمانوں کا خاتمہ کیسے ہوگا؟

Hamari Aawaz Urdu

نظم: کیمیائی کھاد اور تندرستی

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں