بین الاقوامی تاریخی صفحہ اول مذہبی ملی

86 سال بعدمسجد آیا صوفیہ میں جمعہ وعیدالاضحی کی نماز

ازقلم: محبوب عالم، سدھارتھ نگر

ترکی کی تاریخی مسجد آیا صوفیہ میں بتاریخ 24جولائی 2020ء بروز جمعہ 86سال بعد صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں نماز جمعہ کا اجتماع ہوا جس میں ترکی کے ارکان پارلیمان سمیت استنبول کے چپے چپے سے مسلمانوں کی آمد ہوئی اس کےعلاوہ ہزاروں کی تعداد میں بیرون ممالک کے لوگ بھی موجود تھے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے نماز جمعہ کے دوران قرآن کریم کی تلاوت کی اور یکے بعد دیگرے کئی حفاظ کرام نے قرآن مقدس کی تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا دور حاضر کے حکمرانوں میں پہلا حکمران دیکھا جو صف اول میں بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے نماز جمعہ کے دن خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کی پوتی نلحان عثمان بھی اس روح پرور مناظر کو دیکھنے کے لئے موجود تھیں اور ترکی کے سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کے صاحبزادے ڈاکٹر فاتح اربکان بھی آیا صوفیہ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے موجود تھے انھوں نے شکرانے کی نماز ادا کی اس کے بعد لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارے والد گرامی سابق صدر نجم الدین اربکان نے مسجد آیا صوفیہ کی بحالی کا خواب دیکھا تھا جسے صدر رجب طیب ایردوان نے پورا کردیا ہے ارتغل غازی میں عبدالرحمن غازی کا کردار نبھانے والے نے نماز کے بعد کہا کہ ہمارا اگلا منزل مسجد اقصی ہے انکے علاوہ تین لاکھ 50 ہزار نمازیوں نے آیا صوفیہ مسجد اور اطراف میں سڑکوں پر نماز ادا کی قدیم عثمانیہ روایت کے مطابق اذان فتح دی گئی اور پوری دنیا میں ٹاپ چینلز نے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے لائیو دکھایا چینل نے بھی ترکی کے تین امام اور پانچ مؤذن کو خطبہ اور اذان کی ادائیگی کا شرف حاصل ہوا جب وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پروفیسر علی ارباز نے خطبۂ جمعہ دیا اس وقت سلطان محمد فاتح کی عظیم تلوار جس سے سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اس تلوار کو سیڑھیوں پر ٹیکتے ہوئے وہ منبر پر چڑھے تو دیکھنے والوں پر جلال طاری ہوگیا انہوں نے تلوار کو ہاتھ میں تھام کر خطبہ دیا جو خلافت عثمانیہ کی ایک قدیم روایت ہے اور فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے ہاتھ میں تلوار پکڑ کرخطبہ دینا یہ میرے لئے تجسّس کی بات ہو گئی کہ ہاتھ میں تلوار لیکر خطبہ دینے کے کیا اشارے ہوسکتے ہیں یہ کوئی دھاک بٹھانے یا شوبازی کرنے جیسے معاملا نہیں ہے’ بلکہ اک خاص حکمت اس کے پیچھے ہے دراصل تلوار لیکر خطبہ دینے کا جو راز مجھے پڑھنے کو ملا وہ بڑا دلچسپ مفید اور تاریخی نوعیت کا سبب ہے’ سب سے پہلے جب خطیب ہاتھ میں تلوار لیکر خطبہ دیتا ہے تو یہ اس چیز کی علامت ہے کہ ہم نےاس علاقے کو تلوار کی دم پر فتح کیا تھا اور یہ ہماری فتح اور کامیابی کی نشانی ہے وہی تلوار اگر خطبہ دیتے وقت خطیب کے داہنے ہاتھ میں ہو تو یہ دشمنوں کے لیئے ایک پیغام ہے کہ ہم جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہیں اگر تلوار بائیں ہاتھ میں ہو تو اسے امن کا پیغام سمجھا جاتاہے اگر وہی تلوار خطیب کے بائیں ہاتھ میں ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر داہنا ہاتھ بھی رکھا ہو تو یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ہماری طرف سے دشمنوں کو سلامتی اور امن کا پیغام ہے لیکن اگر آپ جنگ کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے لیئے بھی تیار ہیں’ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آپ نے دیکھا ہوگا تلوار پروفیسر علی ارباز کے بائیں ہاتھ میں ہونے ساتھ ساتھ اس پر داہنا ہاتھ بھی رکھا ہوا ہے یعنی اگر آپ چاہیں تو ہماری طرف سے امن کا اعلان سمجھو اور جنگ چاہتے ہو تو ہمیں آزماں سکتے ہو ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے مسلمانوں جس دن حرمین شریفین کے منبر و محراب سے اس طرح غیرت و جرأت کے ساتھ خطبہ دیا جائے گا اس دن سے ہمارے عروج کا آغاز ہوگا۔ اور بتاریخ 1اگست 2020ء بروز سنیچر ترکی کے صدر اعلیٰ رجب طیب ایردوان سمیت ہزاروں کی تعداد میں موجود لوگوں نے۔ تاریخی مسجد آیا صوفیہ میں نماز عید کا بھی اہتمام کیا ترکی کے مسلمانوں نے آیا صوفیہ میں عیدالاضحی کی نماز پڑھی۔آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب یہاں عید کی نماز ادا کی گئی ہے۔اس موقع پر ترکی کے مسلمانوں کی جانب بہت خوشی کا اظہار کیا گیا۔آیا صوفیہ میں نماز ادا کرنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اور اس دن ترکی مسلمانوں نے دوبارہ فتح کی خوشی منائی اور عوام الناس نے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کی توآیا صوفیہ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا۔ عوام کی بڑی تعداد مجاہدانہ جذبے سے سرشار ہو کر مسجد کے باہر جمع ہوگئی۔ سلطان محمد فاتح کے فتح کی یاد تازہ ہوگئی۔ یہ روح پرور مناظر دیکھ کر آنکھوں میں شکر کے آنسو آ گئے۔

Related posts

نظم: بیٹیاں

Hamari Aawaz Urdu

نعت: غلامان نبی ہیں ہم بتادو یہ زمانے کو

Hamari Aawaz Urdu

وہابیت ایک بڑا فتنہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں