Top 10 تاریخی شعر وشاعری صفحہ اول قومی

جنگ ِآزادی اور اردو شاعری

ازقلم: ۔شیبا کوثر (برہ بترہ آرہ، بہار) انڈیا

ادب سماج کا آینہ ہوتا ہے وہ زمانے کی روش و رفتار معاشرے کے میلان و رجحان تہذیبی تقاضوں اور عمرا تی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اردو زبان ادب نے ہر دور میں رفتار زمانہ کا ساتھ دیا ہے اور اپنے فرائض کو ہمیشہ خوش اسلوبی سے سر انجام دے کر زندگی کے اچّھے پہلووں اور اخلاقی تصورات کو ابھا را ہے۔
مجاھد آزادی ٹیپو سلطان کی جدو جہد اور پلاسی کی لڑائی کے بعد 1857ءکی جنگ آزادیبر صغیر کی سیاسی اور تہذیبی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔اس ہنگا مے کے بعد ہمارا ملک براہ راست ملکہ وکٹوریہ کے دائرہ اقتدار میں آگیا تھا قید فرنگ سے نجات حاصل کرنے اور آزادی کی فضاء میں سانس لینے کیلئے ہر ہندستانی دل تڑپ رہا تھا ۔اور غلامی نارِگرا ں ہو گئی تھی۔ان حالات میں مہارانی جھانسی اور تا تیا ٹوپے جیسے مجاہدین آزادی نے جنگ آزادی کا ڈنکا بجا یا تو اردو شعراء نے اپنی شاعری کے ذریعےاہل وطن کو نہ صرف آزادی کی افادیت اور قدرو قیمت سے۔ روشناس کرایا بلکہ انکے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی اور اسے حاصل کرنے کے لئے زندگی نچھاور کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔شعراءاردو نےآزادی وطن کی تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے ہم وطنوں کے دلوں میں حب الوطنی اور دیش پریم کا جذبہ پیدا کیا اور بیشمار عمدہ نظمیں لکھیں۔محب وطن اور آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر اور واجد علی شاہ اختر کو خدا نے تاجدار ی ہی نہیں بطخوزی کا ملکہ بھی بخشا تھا ۔اختر نے اپنی مثنوی” حزن اختر” میں اپنے ایام اسپری کے کرب کا بیان کر کے غلامی کے خلاف جذبہء نفرت کو ابھا را۔اور بہادر شاہ ظفر نے اپنے وطن عزیز کو خیر آباد کہتے ہوئے قومی غم کا اظہارکیا ۔
جنگ آزادی میں شعراءاردو نے مجاہدین آزادی کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے فر نگیوں کے ظلم و ستم کی مذمت کی اور آزادی کی لڑائی لڑ نے والے ہم وطنوں کی خوب حوصلہ افزائی کی ۔مولانا الطاف حسین حالی اہلوطن کو منزل نو کی طرف بڑھنے کی دعوت دیتے تھے،
ہے سامنے کھلا ہوا میداں چلو :۔باغ مراد ہےثمر افساں چلے چلو :۔دریا ہو بیچ میں کہ بیاباں چلے چلو
چلنا ہی مصلحت ہے مری جاں چلے چلو ۔
حالی نے حب الوطنی کے جذبے سے سر شار تھے،انکی تمام تر شاعری اسی ایک اسی ایک محور کےگرد گھومتی ہے۔چنا نچہ وہ وطن کی اہمیت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو وطن کی محبّت کا احساس دلاتے ،

تیری اک مشت خاک کے بدلے :۔لوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے ۔
مولانا محمّد حسین آزاد کی شا عری کا اہم موضوع حب الوطن ہے انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستانی عوام غلامی کے اثرات سے مایوس اور مضمحل ہوتے جا رہے ہیں ان میں ترقی کر کے اور آگے بڑھنے کا جذبہ باقی نہیں۔چنانچہ انہو ں نے قوم میں عزم و عمل کو ،
یارو چلو نہ کرو انتظار تم/کرتے ہو کیا امید یمین و پساور تم/ میدان عزم و جزم کے ہو شہوار تم /بڑھ جاؤگے کروگے اگر مار مار تم /چلّا رہی ہے ہمّت مردہ چلے تم /رکھو آفا ہ قوم یہ اپنا مدار تم /اور ہو کبھی صلے کیے نہ امیدوار تم۔!
چکبست کی شا عری حب الوطنی کے جذبہ سے سر شار ہے ۔انہوں نے خاک ھند کی عظمت پر نہا یت حسین پیرا ئے میں روشنی ڈالی ہے اور ماضی کی وطن پرستی کو اہل وطن کے لئے مثل راہ بنا کر پیش کیا ہے انہیں سرمد کی قربانی اکبر کی آسان دوستی اور رانا کی جانفشانی کی یاد دلا کرشجاعت ودلیری کا درس دیا ہے ۔
اے خاک ھند تیری عظمت میں کیا گماں ہے/دریا ئے فیض قدرت تیرے لیے رواں ہے/تیری جبین سے نور حسن ازل عیاں ہے/ اللّه میرے زیب و زینت کیا رد ا ئے عروشا ں ہے /ہر صبح ہے یہ خدمٹ خورشید پر ضیا کی/کرنوں سے کوندھا ہے چوٹی ہما لیہ کی /گوتم نے آبرو دی اس معید تحسین کو/ سرمد نے اس زمین پر صدقے کیا وطن کو/ اکبر نے جام الفت بخشا اس انجمن کو/ سینچا لہو سےاپنےرانا نے اس چمن کو/ سب سور بیر اپنے اس خاک میں نہاں ہیں / ٹوٹے ہوئے کھنڈر ہیں یا انکی ہڈیا ں ہیں ۔!اردو شا عر وں نے نازک وقت میں صرف مشق سخن ہی نہیں کی بلکہ پغمبری کے۔ فرائض بھی انجام دئے ۔اہل وطن جو غلامی کی زنجیروں میں لمبے عرصے تک جکڑے رہنے کی وجہ سے اپنےعزم کو کھو بیٹھے تھے اور غلامی کو آزادی تصور کرتے ہوئے چین کی سانس لے رہے تھے دفتناً بیدار ہو گئے ۔حب الوطنی کے نغموں نے انہیں جھنجھور دیا اور لوگ غلامی کے خلاف صف آرا ء ہو گئے ۔علامہ اقبال نے یہ کہ کر محب وطن کے جذبہ کو بام عروج تک پہنچا دیا،سارے جہاں سے اچّھا ہندوستاں ہمارا /ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا /پتھر کی مور تی میں سمجھا ہے تو خدا ہے /خاکوطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے ۔!
دراصل اقبال کو اپنی اور اپنے قوم کی غلامی کا شدید احساس تھا۔چنا نچہ انہوں نے اپنی شا عری کے ذریعہ آزادی کا وہ صور پھونکا کہ اہل وطن کے دلوں میں بیداری کی لہردوڑ گئی۔
جب بال گنگا دھر تلک نے “آزادی ہمارا پیدائیشی حق ہے “۔کا نعرہ لگایا اور مہاتما گاندھی کی قیادت میں پنڈت نہرو ،مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسرت موہانی جیسے رہنماوں نے ملک کی آزادی کے بعد جدو جہد کا اعلان کر دیا تو ہماری جنگ آزادی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ۔یہ وہ دور تھا جب ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو رہی تھی سائمن کمیشن بھارت چھوڑ دو تحریک آزادھند فوج مکمّل آزادی کے مطالبے اور 1942ءکے اندولن وغیرہ کے ادوار سے گزرتی ہوئی جنگ آزادی 15اگست1947ء میں اختتام پذیر ہوئی لیکن اس عرصے میں ہمارے ہم وطنوں نے بیشمار مصائب برداشت کئے اور جیل کی سختیاں اٹھائیں ۔اس کے علاوہ پھانسی کے پھندوں کو ہنس ہنس کے چوما اور کالے پانی کی ہولناک سز ا ئیں کا ٹیں آزمائش کی ان تمام گھر یوں میں اردو شعراءنےقومی رہنماؤں اور عوام کا پورا پورا ساتھ دیا ۔جس کے نتیجے میں وہ مصا ئب کے شکار ہوئے پھر بھی جنگ آزادی میں ہمیشہ حاصل رہے۔جوش ملیح آبادی کی شاعری کا بہت زیادہ سر مایا ایسی شاعری ہے جس میں بر ٹش سر کار کے خلاف احتجاج ہے۔ غلامی سے نفرت اور آزادی کی تڑپ ہے وطن پر فدا ہو جانے کا عزم اور سرفروشی کی تمنا ہے اس تمنا سےجنگ آزادی کو قوت وتوانائ ملی جوش اپنی معروف نظم” ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں کے نام” ۔میں حاکمان وقت کو خوفزدہ کرتے ہیں ۔سچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہ /آج تک رنگون میں اک قبر ہے جسکی گواہ /یاد میں ہوگا یہ تازہ ھندیوں کا داغ بھی ؟/یاد تو ہوگا تمہیں جلیانا والا باغ بھی ؟/پوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تا بندہ ہے /ڈنرگرگ ذہن آلود اب بھی زندہ ہے /وہ بھگت سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشا د ہے /اس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہے /اب کہانی وقت۔لکھے گا،نئے مضمون وقت کی/جس کی مرضی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی /وقت کا فرمان اب رخ بدل سکتا نہیں/موت مل سکتی ہے اب فرمان مل سکتا نہیں ،!
جوش کی آواز شا عری کے ذریعہ عوام الناس گونجتی رہی اور آزادی کی تحریک اتنی زوروں سے چلی کہ آزادی بچہ بچہ کا نصب العین۔ بن گئی ۔
مولانا حسرت موہانی جنگ آزادی کے ایک مرد مجاھد تھے اور آزادی کیلئے جو عملی کوشش کیں اور قید و بند کی مصیبتیں برداشت کیں وہ آزادی ھند کی تاریخ کا ایک روشن اور تا بنا ک پہلو ہے ۔حسرت موہانی نے انگریز وں کے مظالم کا ذکر کر کے ان سےتنفرکا اظہار کیا ۔رسم جفا کامیاب دیکھئے کب تک رہے/حب الوطن مست خواب دیکھئے کب تک رہے /پردہ اصلاح میں کوشش فریب کا /خلق خدا پر عذاب دیکھئے کب تک رہے ۔!
جنگ آزادی کے زمانے میں جب ہمارے قوم کے رہنما ملک کو آزاد کرانے میں سر گرداں تھے تو اس وقت اردو کے دوسرے شا عروں کی طرح تلوک چند محروم بھی اپنے سیاسی و سماجی مسائل سے متاثر ہوئے کبھی رہنماؤں و قوم کے حوصلے بڑھا ئے تو کبھی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے اور کبھی اپنے شعری۔نغمات سے حصول۔ آزادی اہل وطن کو ابھارا ۔وہ سامنے آزاد کامل نشاں ہے/ مقصود وہی ہے وہی منزل کا نشا ں ہے۔!
فیض احمد فیض کو سیاسی محکومی اور اپنی بےبسی۔ کا شدید احساس اور قلق تھا محکومی اور غلامی کی حالت سے نجات کی خواہش انہوں نے اپنے کلام میں جابجا کی ۔اس کے علاوہ مظلوم اہل وطن کو سر کشی اوربغاوت پرمحض حصول آزادی کی خاطرآمادہ کرتے اور ان میں عزم پیدا کرتے ، “اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے/جب تخت گرائے جائیں گے،جب تاج اچھالے جائیں گے/کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت سر بھی بہت /چلتے بھی چلو کہ اب دیڑ ے منزل پہ ہی ڈالے جائیں گے ۔
برٹش گورنمنٹ کی طرف سے تحریرو تقریر کی آزادی نہ ہونے کے باوجود اردو شعراء نے” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے “۔کی بات پر عمل کیا ۔احمد ندیم قاسمی نے “راستے کا موڑ ۔”میں قحط بنگال کی پر درد تصویر کشی کی اور اور اردو زبان بندی کی مذمت بھی کی ۔دراصل تمام پابندیوں اور اذیتوں کے باوجود آزادی کے دیوانے بڑی ہمّت اور بے باکی سے حصول آزادی کے لئے اپنا قدم جماتے رہے۔رام پرسا د بسمل جیسے شہید وں کے اشعار سے ہندوستان کی ساری فضا ءگونج اٹھی ،”سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ،:۔دیکھنا ہے زور کتنا بازو ئے قاتل میں ہے۔!
اور یہ شعر آزادی کے دیوانوں کا حوصلہ بلند کر تا ہے۔
شہید وں کی چتا ؤں پر لگیں گے ہر برس میلے
وطن پر مٹنے والوں کا یہی باقی نشاں ہوگا ۔!!
اور اشفاق اللّه خان اشفاق نے اہل ِوطن کو مندرجہ ذیل شعر سے سر شار کیا تھا ۔
وطن ہمارا ہے شاد کام اور آزاد
ہمارا کیا ہے اگر ہم رہے ،رہے نہ رہے !
ساحر لدھیانوی نے دور ِآزادی کے اہم سیاسی واقیات اور معاشرتی حقائق کو اپنے مخصوص زاویہ نگاہ پیش کرتے ہوئے وہ خود بھی بغاوت اور آزادی کے حصول کی جدوجہد کا عزم کرتےاور عوام کو بھی ترغیب دیتے ۔انکے علاوہ علی سردار جعفری اہل وطن کو جنگ آزادی کے محاذ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے تھے تاکہ سامرا جی طاقتیں انہیں غلام نہ رکھ سکیں ۔۔۔۔
اٹھو ھند کے باغباں تو اٹھو
اٹھو انقلابی جوانوں اٹھو
اٹھو کھل گیا پرچم انقلاب
نکلتا ہے جس طرح آفتاب
غلامی کی زنجیروں کو توڑ دو
زمانے کی رفتار کو موڑ دو !!
غلامی سے چھٹکارا پانے کا عزم خود کرتے تھے اور لوگوں کو آمادہ کرتے تھے ۔
حکومت کی بنیاد ہلنے لگی ہے ،:حکومت کی ہم کیوں کریں گدا ئی ،:چلو آج کمزور ہاتھوں سے اپنے ،:غلامی کے زنداں کی دیوار ڈھائیں ۔!
اسکے علاوہ انہوں نے اپنی طو یل نظم “نئی دنیا کو سلام “میں انگریزوں کے تسلط اور سامراج کی شدت سے مذمت کی اور آزادی کا مطالبہ کیا ۔
کیفی اعظمی نے جنگ آزادی پر بکثرت نظمیں لکھیں ۔سیاسی محکو می اور زوال انقلابی خواہش ،سرخ انقلاب کی جد و جہد،معاشی استحصال اور ملکی اقتدار سے نفرت اور ملک کی آزادی جیسے موضوعات ان کے کلام میں نمایاں ہیں ۔اپنی شا عری ذریعے عوام کو بغاوت انقلاب اور آزادی کے حصول کی ترغیب دیتے ہیں ۔”بغاوت کا پر چم اڑا تے چلو،:۔نظام غلامی مٹاتے چلو،!
اسی طرح جانثار اختر جب شعوری طور پر بیدار۔ ہوتے تو اسو قت اقبال، چکبست، جوش وغیرہ کی دلسوز آواز یں۔فضا میں گونج رہی تھیں ۔اختر نے غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے نغمہ سرا ئی کی ۔اہل وطن کو جد و جہد اور عمل پر آمادہ کرتے اور ان کےحوصلے بڑھاتے۔ سا غر نظا می اپنے دور کی سیاسی ہیجانات اور ان کے بیشتر پہلوؤں کو اپنی شا عری میں سمیٹا ہے,انہیں۔غلامی کا احساس جس انداز سے مضطرب کئے ہوئے تھا اسے اپنے اشعار سے بیان کیا ۔وہ آزادی کیلئے اہل ِوطن سے مخاطب ہیں ۔”غلامی مستقل لعنت ہے اور توہین انسان ہے،غلامی سے رہا ہے اور آزادی میں شرکت کر ،تیرا مذہب بھی دیتا ہے تجھے تعلیم آزادی،اگر دعوت مذہب ہے تو مذہب کی اطاعت کر ،!
غرض کہ اس قسم۔ کی اردو شاعروں کا ایک۔ کارواں جنگ آزادی کی تحریک۔ کو آگے بڑھانے میں مصروف نظر آتا ہے جنہوں نے قوم و وطن،انقلاب اور حصول آزادی کے موضوعات کو اپنی شا عری میں جگہ دی اس دور میں شعراءاردو کا وطن بر جستانہ کلام کنایوں ،رسالوں اور اخبار وں میں ہی نہیں شائع ہوتا تھا بلکہ عوامی مشاعروں، سیاسی جلوسوں اور جلسوں کے اسٹیجوں سے بھی اہلِ وطن کو سنایا جاتا تھا۔ جنگِ آزادی میں اردو شعراء کے مسلسل تعا ون سے ہمیں یہ حاصل ہوا کہ ہمارا ملک 15 اگست 1947ء کو انگریز وں کی غلامی سے آزاد ہوا ۔۔۔!!

Related posts

آؤ چودہ سو سال پرانا فارمولہ اپنائیں اور قوم سے غریبی مٹائیں

Hamari Aawaz Urdu

ماہ شوال تاریخ کے آئینے میں

Hamari Aawaz Urdu

واے حسرتا! مسند عرفاں کا سلطان جاتا رہا

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں