ادارتی میز سے تاریخی حالات حاضرہ صفحہ اول ملی

اے گردش ایام بے سود ہم سے نہ الجھ

تحریر: محمد مجیب احمد فیضی
 رکن: ہماری آواز، بلرام پور و سابق استاذ: دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف

میرے پیارے عزیزو!!! یہ بات تو طے ہے کہ قیام دنیا سے لے کر اب تک نہ جانے کتنے لوگ آئے اور نہ جانے کتنے لوگ اس صفحۂ دھر سے ایسا چلے گئے کہ نام ونشان تک مٹ گیا ختم ہوگیا کوئی بھول چوک کر بھی آج انہیں یاد تک نہیں کرتا۔یہ اور بات ہے کہ مخلصوں, اچھوں , سچوں اور انصاف پروروں کے باالمقابل شرارت پسندوں فتینوں ظالموں ,جابروں اور فواحشات کی ارتکاب کرنے والوں کی ہمیشہ ایک غیر معمولی تعداد رہی ہے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب جب شر پسندوں ,اعداء دین نے اپنی شرارت کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کو ناجائز بد نام کرنا چاہا ہے تب تب اللہ جل مجدہ الکریم کے فضل وکرم سے مخلصین ,صادقین حضرات اسلام اور مسلمانوں کی تحفظ وبقا کے لئے ہمیشہ سینہ سپر رہے۔ دامے درمے قدمے سخنے حصہ لینے کے ساتھ اس محفوظگی میں ہر دم پیش پیش رہے۔ سچ اور جھوٹ یہ دونوں دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ عقلاء اور دانشوران وطن کے ہزارہا کوششوں کے باوجود بھی دونوں کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔ دونوں کے مابین آگ پانی کا مسئلہ ہے دونوں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے کیوں کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔بہت کوششوں کاوشوں کے باوجود جھوٹ کبھی بھی سچ کا روپ اختیار نہیں کر سکتا۔ اور ایسے ہی سچ کبھی جھوٹ کی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔سچ اور جھوٹ کی جنگ میں وقت کتنا بھی لگ جائے لیکن آخر میں چل کر جیت ہمیشہ سچ کی ہوئ ہے۔کیوں کہ سچ “سچ “ہے اور جھوٹ “جھوٹ” ہے ۔مسلسل سعئ پیہم کے باوجود بھی جھوٹ سچ کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔بلا تشبیہ وتمثیل ابھی حال ہی میں رام مندر کی سنگ بنیاد ملک کے وزیر اعظم یعنی پر دھان منتری جناب “نریندر مودی”اور وزیراعلی یعنی جناب یوگی “ادتیہ ناتھ “جی اور ان کے دیگر رفقا کے ہاتھوں پڑی لیکن ہمیں ہمارا صحیح صحیح حق نہ ملنے کے باعث فقط مادر وطن “ہندوستان” ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے بے شمار مسلمانوں کے دلوں کو نا قابل برداشت ٹھیس پہونچی ہے۔1992 میں اس کو ظالموں نے شہید کروادیا تھا۔بابری مسجد کی انہدامی میں جن جن لوگوں نے بھی حصہ لیا تھا اللہ کے عذاب نے انہیں دبوچ کر جہنم رسید کیااور وہ واصل فی النار ہوئے ۔ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ حکومت کی بد سلوکی دیکھ کر رونا آتا ہے کبھی سی اےاے تو کبھی این آرسی توکبھی اپنی تاریخی بابری مسجد پر سیاست کرکے مسلمانوں کے کلیجوں کو بابار چھلنی کیا جاتا ہے۔قدم قدم پر پریشان کیا جاتا ہے۔اس پر ڈاؤٹ فل کا وال پپپر چسپا کیا جاتا ہے۔اس کو اول درجے کا ناگرک تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔باربار ناگرتا چھیننے کی بات چیت کی جاتی ہے۔آخر مادر وطن میں مسلمانوں کو کتنا پریشان کیا جائےگا
5/اگست 2020 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رام مندر کی سنگ بنیاد رکھ دی گئی۔دیہاتوں میں غیر مسلموں کی جگہ بہ جگہ میٹینگیں دیکھنے کو ملیں۔رام مندر بنا کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔آتش بازیاں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔بہر حال یہ تو ہونا ہی تھا لیکن سوال اس بات کا ہے کہ
کیا مسجد کے انہدامی کے بعد اس مقام پر رام مندر کی بنیاد ڈالنے سے مسجد کی مسجدیت ختم ہوجاتی?جیسا کہ فقہاء کرام کی عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہیں باالکل نہیں ہر گز نہیں کروڑوں کی لاگت لگا کر عمارتوں کی تعمیر سے مسجد کی مسجدیت ختم نہیں ہوتی ہے۔بلکہ وہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی اس کی مسجدیت ختم نہیں ہو سکتی۔

بھارت کے پردھان منتری “نریندر مودی “جی اور اتر پردیس کے چیف منسٹر کو اپنے دیس بھارت کے کروڑوں بے روزگاروں مزدوروں کے تکالیف کا کچھ بھی احساس نہیں۔ دیس کے پردھان منتری نے اس مہاماری اور لاک ڈاؤن بھرے ماحول میں وہاں جا کر یہ ثابت کر دیا کہ کمزوروں, خستہ حالوں, درد کے ماروں ,مزدوروں بے روزگاروں ,کی پر یشانیاں ان کی نظر میں ہیچ ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت کا اب دن بہ دن خون ہو رہا ہو۔جمہوریت نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ کہنے کو تو ہندوستان آزاد ہے ہر کسی کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق رہنے سہنے کا اختیار ہے لیکن کہنے اور کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اور تو اور ہے جس دیس میں صاحبان اقتدار خود ہی اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہے ہوں لوگوں کو جھوٹ بول بول گمراہ کر رہے ہوں, اس دیس کے مستقبل کاتصور کیسا ہوسکتا ہے اور اس کر عزائم کیسے ہو سکتے ہیں ۔اس کو آپ بہتر سجھ سکتے ہیں ۔کیوں کہ جس جنگ میں حاکم کی جان کوئی خطرہ نہ ہو اس کو جنگ نہیں سیاست کہتے ہیں۔آج کل ہمارے دیس مین غالبا نہیں بلکہ یقینا یہی سب ہو رہا ہے۔
ایسے ماحول میں ہمارے قائدین کی ضمہ داریاں بڑھ جانی چاہئیے ۔ہمیں ہر حال میں اپنے حق کی لڑائ لڑنی ہوگی۔آج موجودہ زعفرانی حکومت ہے اس کاوقت ہے کوئ بات نہیں لیکن اس دیس میں کبھی ہم بھی صاحب اقتدار ہوں گے ۔اپنے پاس بھی طاقت ہوگا ,قوت ہوگی تو ہم بھی اپنا الو سیدھا کرلیں گے۔جیسا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کیا ہے۔وقت وقت کی بات ہے۔

Related posts

سيلفيا رومانو سے عائشہ تك كا سفر

Hamari Aawaz Urdu

اشرف الاولیاء کی زندہ کرامت” مخدوم اشرف مشن”

Hamari Aawaz Urdu

حضور مجاہد ملت حیات، خدمات اور اعترافات: ایک جائزہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں