تاریخی صفحہ اول قومی مذہبی ملی

چھ دسمبر سے پانچ اگست تک

تحریر: ظفر احمد خان کبیر نگری
چھبرا، دھرم سنگھوا بازار ،سنت کبیر نگر ،یوپی

سن 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام سے پہلے اترپردیش کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا کہ بابری مسجد کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن وہ اس قائم نہیں رہ سکے، اور مشتعل ہندو کار سیوکوں (رضاکاروں) کے ہجوم نے چھ دسمبر سنہ 1992 کو ایودھیا میں سولہویں صدی کی بابری مسجد کو منہدم کردیا، اس واقعے کے بعد پورے ملک میں خونریز فسادات ہوئے تھے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے، رام مندر کی تحریک نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست خلیج پیدا کی، بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی کلیان سنگھ کاکلیان کرتے ہوئے گورنری کی شکل میں ایک بڑا انعام دیا اگرچہ کلیان سنگھ بابری مسجد انہدام کیس میں ملزم ہیں اور فی الوقت باقی رہنماؤں کی طرح ضمانت پر باہر ہیں۔ اس کے بعد اس قطعہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے ایک مقدمہ الہ آباد کی ہائیکورٹ میں درج کرایا گیا تھا، الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ 30 ستمبر 2010 کو سنایا تھا، اس میں تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ ایودھیا کی 2.77 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس میں سے ایک تہائی زمین رام للا مندر کے پاس جائے گی جس کی نمائندگی ہندو مہاسبھا کرتی ہے، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو جائے جبکہ باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی، اس فیصلے پر قانونی ماہرین کی اکثریت کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کو ایسا فیصلہ دینے کی کوئی مجبوری تھی، تب بھی اسے اپنے فیصلے میں یہ ضرور واضح کرنا چاہئے تھا کہ یہ فیصلہ خصوصی حالت کے مدنظر دیا جارہا ہے اور اسے مستقبل کے لئے مثال نہ بنایا جائے کیونکہ عقیدے کی روشنی میں فیصلہ سنانے سے بابری مسجد رام جنم بھومی کا معاملہ تو باقی رہے گا ہی، لیکن اس کے ساتھ ہی مزید نئے تنازعات بھی سر اٹھانے لگیں گے، ان ماہرین کے بقول یوں ملک میں بیشتر مذہبی مقامات اور تاریخی عمارتوں کی حییثیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا، بعد میں ہندو اور مسلمان تنظیموں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں تھی جس کے بعد سنہ 2011 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا، اور اس تنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیے گئے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی آئینی بنچ نے شروع کردی، اور ایک طویل مدت کے بعد چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: زمین کی ملکیت کا فیصلہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، ملیکت کا فیصلہ صرف قانونی بنیادوں پرکیا جاتا ہے، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا اور فیصلہ میں کہا کہ”بابری مسجد کی جگہ رام للا خود پرکٹ (نمودار) نہیں ہوئے بلکہ غیر قانونی طور سے ان کی مورتیاں جبرا رکھی گئی تھی، انیس سو سوانچاس تک مسجد میں نماز ہوتی تھی، 6 دسمبر 1992 کو مسجد غیر قانونی طور پر توڑ دی گئی تھی اور یہ ایک مجرمانہ فعل تھا، مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی”، اس کے باوجود عدالت کا مندر کے حق میں فیصلہ دینا نہ صرف آج کے ہندوستان میں اکثریت کے بڑھتے ہوئے غلبے کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کیسے آستھا عقیدت اور مذہب انصاف پر غالب ہوتے جارہے ہیں، اور آج کے ہندوستان میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی عبادت گاہیں مسلسل نشانہ بنائی جا رہی ہیں.
بہرحال عدالت کے فیصلے کے بعد جولائی کے اواخر میں رام مندر کی تقریب سنگ بنیاد کے لئے پانچ اگست کی تاریخ مقرر کی گئی اور اس کے لئے پورے سرکاری عملے کو لگا دیا گیا اور پھر وہ وقت بھی آگیا جب یو پی کے سی ایم اور ملک کے پی ایم تمام سرکاری ذرائع لاو لشکر اور ٹیکس کی صورت میں سرکاری خزانے میں جمع کردہ عوام کی گاڑی کمائی کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے بھومی پوجن اور سنگ بنیاد کی تقریب میں شامل ہوئے، وزیر اعظم نے وہاں پر کہا کہ یہ سب عدالت کے فیصلے کے بعد اور ہندوستان کے آئین کے دائرہ میں کیا جارہا ہے، وزیراعظم آئین کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہی آئین کہتا ہے کہ وزیراعظم کسی ایک مذہب کی بات نہ کریں کسی ایک مذہب کے ہوکر نہ رہ جائیں، جب کہ وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا اور مندر کی تقریب سنگ بنیاد میں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ شرکت کی، وزیر اعظم مودی کو اس تقریب میں شرکت کرنی ہے تو ایک عام شہری کی حیثیت سے بغیر کسی پروٹوکول کے اس تقریب میں شرکت پر تو کوئی سوال نہیں، لیکن بحیثیت وزیر اعلی اور بحیثیت وزیر اعظم ان کی شرکت پر سوال ضرور اٹھتا ہے، یا تو وزیر اعلی اور وزیر اعظم یہ اعلان کر دیں کہ ہم صرف ہندوؤں کے وزیراعلی اور وزیر اعظم ہیں مسلمانوں سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں، پی ایم نے 5 اگست کا موازنہ 15اگست سے کردیا، اب سوال یہ ہے کہ پانچ اگست کو ملک کن لوگوں کے چنگل سے یا کس کی غلامی سے آزاد ہوا اور کس طرح کی آزادی نصیب ہوئی، یا پھر وزیراعظم یہ کہنا چاہتے تھے کہ اب ہندوتوا کی آزادی کی راہ ہموار ہوگئی، کیا یہ مجاہدین آزادی اور ملک کے نام پر قربانی دینے والوں کی توہین نہیں ہے، اسی طرح وزیراعظم نے مندر کو اس ملک کی شناخت اور سیمبل قرار دیا، جب کہ بھارت کا سیمبل کوئی مسجد مندر گرودوارہ اور گرجا نہیں بلکہ اس کا سیکولرزم ہے، تو گویا وزیراعظم دوسرے الفاظ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج ہندو راشٹر کی بنیاد رکھ دی گئی، اس بات کو موہن بھاگوت کی موجودگی سے بھی تقویت ملتی ہے کہ موہن بھاگوت کو آخر کس حیثیت سے وہاں مدعو کیا گیا تھا، کیا بھاگوت کی موجودگی سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پس پردہ ملک پر آر ایس ایس کا اقتدار ہے، یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کی ہندو ازم ہی اس ملک کا مذہب ہے، اور یہ دونوں چیزیں فرقہ واریت کے ایجنڈے کو تقویت پہنچانے والی ہیں جو ملک کے لیے بڑے خطرے کی بات ہے
اس پروگرام کے متعلق پرشانت بھوشن نے لکھا کہ “آج انہیں ایک نئی مملکت ملی، جو جس طرح ہمارے آئین کے تصور میں تھی اُس کے مترادف ہے، نسلی عصیبت میں رنگی ہوئی، جہاں آزادی اور مقتدر کے سامنے سچ بولنے کی طاقت ختم کرکے مقتدرین کی عبادت سے بدل دی گئی ہے، جہاں کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ برابر ہیں، میرے پیارے ملک کے لیے آنسو بہاؤ”۔معروف مورخ رام چندر گوہا نے ایک کالم نگار کا حوالہ اپنی ٹویٹ میں لکھا” یہ سیاسی تبدیلی اتنی آسان نہ ہوتی اگر عدلیہ اپنی نظریں دوسری طرف کرنے کے لیے تیار نہ ہوتی اور کبھی کبھار اس منصوبےکا حصہ نہ بنتی”. کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے کا فیصلہ جسے آج پورا ایک سال ہوچکا ہے اور اُس ہی روز رام مندر کی تقریب رکھنا انڈیا میں برسرِاقتدار بی جے پی کی ہندتوا سوچ اور منصوبوں کا ایک اظہار ہے، دوسری طرف یہ بھی خبر ہے کہ رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ سادھو سنتوں نے کہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد اب کاشی اور مسکرا کے مندروں کے لئے بھی تحریک شروع کرنی چاہیے، اکھاڑہ پریشد کے صدر نریندر گری نے رام مندر کی تعمیر کی تقریب سنگ بنیاد کو ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بھگوان شری کرشنا کو بھی آزادی حاصل ہو جائے گی، اسی طرح وارانسی کے جتیند نن سرسوتی نے کہا ہے کیا ایودھیا تحریک کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ کامیاب ثابت ہوئیں، اب آہستہ آہستہ دوسرے مندروں کے حصول کے لیے تحریک شروع کی جائے گی حالانکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آزادی کے وقت جو عبادت گاہیں جس حالت میں تھی ان کو اسی حالت میں رہنے دیا جائے، ان سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے، لیکن مودی کی یکطرفہ مذہبی محبت نے ان کے حوصلے بلند کردیے ہیں اور آئین و عدلیہ کی پرواہ کیے بغیر سادھو سنت اور ہندتوا کی علمبردار تنظیمیں اس قسم کے احمقانہ مطالبات کرکے ملک کی فضا کو مسموم کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں،
اس موقع پر جمہوریت کا چوتھا ستون کہے جانے والے میڈیا نے بھی اس تقریب کی یکطرفہ رپورٹنگ کی اور باقاعدہ طور پر اس جشن میں شریک رہے، کسی چینل یا پورٹل نے کسی زاویہ سے کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں سمجھی، اور پورے دن مودی مودی کرتے رہے، بعض رپورٹروں نے تو مودی کو رام کے درجے تک پہنچا دیا بی جے پی کے ایک نیتا نے تو ایک پینٹنگ کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ رام جی نریندر مودی کی انگلی پکڑ کر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں یعنی مودی رام للا کو ان کے گھر میں لے جا رہے ہیں، اسی طرح دوسری تمام سیاسی پارٹیوں نے اس تقریب کو برسوں کے انتظار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی اور اس دن کو ایک تاریخی دن بھی قرار دیا، اس طرح خود کو سیکولر اور معتدل قرار دینے والی سیاسی پارٹیوں کے اندر چھپی ہوئی زعفرانیت سامنے آگئی اور خود کو مسلمانوں دلتوں اور بچھڑوں کا مسیحا بتانے والے پارٹیوں کی بھی قلعی کھل گئی، اور واضح پیغام دے دیا کہ ہم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں.
بہرحال اب جب کہ مجرمین کو سزا دیئے بغیر اور خود حکومت کے ذریعہ مذہبی اجتماعات پر عائد کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار کے نشے میں ایودھیا میں متنازعہ مقام پر بھومی پوجن کے بعد رام مندر کے سنگ بنیاد رکھ دی گئی ہے ہمیں مایوس اور دل شکستہ ہونے کی تعداد ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری کن کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آج ہمیں یہ سیاہ دن دیکھنے کو ملا، اور پھر ان کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کرتے ہوئے آپسی اتحاد و اتفاق اور ایک نئے عزم و استقلال اور حوصلے کے ساتھ مسجد کی بازیافت کے لئے اس کے حصول تک جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اس وقت کا انتظار کرنا ہے جب تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے گی، اور انشاء اللہ بہت جلد وہ وقت آئے گا جب بابری مسجد سجدوں سے سجائی جائے گی، کیونکہ ماضی کی ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں کہ مدارس مساجد مکاتب اور اسلامی اداروں کو اصطبل گرجا گھر اور اکھاڑوں میں تبدیل کر دیا گیا لیکن ایک وقت آیا جب وہاں ایک بار پھر اسلام کا سورج پوری آب تاب اور شدت و قوت کے ساتھ طلوع ہوا اور مساجد و مکاتب اور اسلامی ادارے پھر سے آباد ہو گئے، اس کے علاوہ ہمیں ہمہ وقت یدعی بننے کی ضرورت ہے کہ جہاں جیسے اور جس طرح موقع ملے توہین رسالت کی دعوت پیش کردینی چاہیے، اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے ان شاءاللہ، رب کریم کا فرمان ہے، نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔(فصلت:34)، یہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے کہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو، یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ غضب کا صبر کے ساتھ بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کےساتھ اور مکروہات کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن دوست بن جائے گا دور دور رہنے والا قریب ہو جائے گا اور خون کا پیاسا تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو جا‏ئے گا۔(احسن البیان).
دوسرے یہ کہ ہم موجودہ حالات اور حوادث کو گردش ایام پر محمول کرتے ہوئے صبر و رضا کے دامن گیر ہوں، اور مستقبل میں اللہ ذوالجلال سے خیر کی امید رکھیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اس وقت اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں.(آل عمران:140)، یہاں مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر جنگ احد میں تمہارے کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں تو کیا ہوا ؟ تمہارے مخالف بھی تو (جنگ بدر میں) اور احد کی ابتدا میں اسی طرح زخمی ہو چکے ہیں اور اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ فتح وشکست کے ایام کو ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ کبھی غالب کو مغلوب اور کبھی مغلوب کو غالب کر دیتا ہے۔
ایک ایسے صالح اور مثالی معاشرے کے قیام کی کوشش کی جائے جہاں حقوق کی پاسداری کی جائے، عدل و انصاف کا بول بالا ہو، لوگ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں، غرور و تکبر اور گھمنڈ اختیار نہ کیا جائے، ظلم و تشدد سے پرہیز کیا جائے ، معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ انصاف ہو، لوگوں کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لئے کوششیں کی جائیں، حاکم و محکوم سبھی عوام کے درمیان کے درمیان عدل پروری سے کام لیں، خیر کے کاموں میں لوگ ایک دوسرے کا تعاون کریں،کوئی شخص کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کا ظلم و استبداد روا نہ رکھے، اس طرح سارے لوگ اپنی اتحادی قوتوں کے ذریعے فساد کے نظام اور باغیوں کے جبر و استبداد کو مٹا ڈالیں ، اور ظلم و فساد کے طریقوں اور رذائل اخلاق کا بالکل خاتمہ کردیں، مسلمانوں اپنے اوپر کتاب و سنت کی پیروی کو لازم کرلیں، عدل پروری اور انصاف کے تقاضوں سے خود کو آراستہ کریں، اللہ تعالی کے مقرر کردہ نظام پر چلیں اور اس کی مکمل پابندی کریں، اور ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے کام لیں اور ایک دوسرے کی امانتیں ادا کریں ، اور اپنے درمیان اللہ کی بھيجی ہوئی شريعت کے مطابق فیصلہ کریں، اور ظلم و فساد ، گمراہی ، بغاوت اور بے راہ روی کے طریقوں کے خلاف جنگ کریں، اور اللہ کی ذات سے پرامید رہیں کہ حق غالب آئے گا اور باطل ملیامیٹ ہو جائے گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، اور اعلان کر دو کہ “حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے”(الاسراء:81)

Related posts

دیوبندیت، وہابیت اہل ایمان کے لیے جذام ایڈس کے مرض سے زیادہ مضر

Hamari Aawaz Urdu

مسعود رضا نے کیا اپنے نام ایک ریکارڈ: ایک سال میں حفظ قرآن کی تکمیل

Hamari Aawaz Urdu

قلب مضطر کے نام خط

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں