Top 10 صفحہ اول قومی ملی

بہار میں اردو کے خلاف حکومتی سازش: اردو طبقہ کے لیے باعث تشویش

از : آفتاب اظہر صدیقی
صوبائی انچارج راشٹریہ علماءکونسل (بہار)۔

اردو کے نام پر ووٹ لینے والوں نے اردو کو ختم کرنے کی سازش شروع کردی ہے؛ بہار کے تعلیمی نصاب میں اردو کا مضمون جو لازمی ہوا کرتا تھا، اب اسے اختیاری کردیا گیا ہے، بہار کی دوسری سرکاری زبان ”اردو“ کے خلاف یہ ایک بڑی سازش ہے۔ بہار کے تمام دانشوران ، اردو دان، غیر اردو دان، سیاسی لیڈران، سماجی کارکنان اور ملی رہبران کو چاہیے کہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اس سازش کے خلاف مہم جاری کریں اور جو اردو کل تک نصاب کا لازمی درجہ رکھتی تھی اسے پھر سے نصاب کا لازمی حصہ قرار دیے جانے تک خاموش نہ بیٹھا جائے۔

دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ جہاں جہاں بھاجپا تختہء حکومت پر قابض ہے یا کسی دوسری پارٹی نے بھاجپا کے ساتھ مل کر حکومت بنا رکھی ہے، وہیں اردو کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے، اردو اور اردو داں طبقے کے لیے طے شدہ سہولیات میں کٹوتی کی جارہی ہے؛ بلکہ آہستہ آہستہ اردو زبان کے نام پر ملنے والا سرکاری بجٹ بھی ختم کیا جارہا ہے، اردو اساتذہ کی بحالی نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر ہمیں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح جہاں جہاں حکومتی شعبوں میں اردو کے ماہرین یا سند یافتگان کی ضرورت ہے، وہاں بھی حکومت اردو والوں کو موقع دینا نہیں چاہتی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں اتراکھنڈ میں تھا تو ایک انگریزی اخبار کے نمائندے نے مجھ سے سنسکرت زبان کے تعلق سے کچھ سوالات کیے تھے: جب اس نے کہا کہ آپ کو سنسکرت سے کیا دقت ہے؟ تو میں نے حیرانی کے ساتھ اس سے معلوم کیا کہ بھائی آپ کو کس نے کہا کہ ہمیں سنسکرت سے دقت ہے؟ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ مختلف زبانوں کے جاننے والے ہوں، آپ ہمیں کل سے ہی ایک سنسکرت کا ٹیچر دے دیجیے جس کی ماہانہ تنخواہ سرکار اپنے ذمہ لے لے، ہم شوق سے سنسکرت سیکھنے کو تیار ہیں اور آپ کے سنسکرت اسکولوں سے اچھا ریزلٹ دیں گے ان شاءاللہ؛ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے؛ کیوں کہ جو ہماری مادری زبان ہے، جس زبان پر ہمیں فخر ہے، جو زبان ہماری تعلیم کا ذریعہ ہے، اسی اردو زبان پر آپ کی سرکار ڈاکہ ڈالے بیٹھی ہے، اگر آپ کو سنسکرت سے محبت ہے تو اردو سے اتنی نفرت کیوں؟

راقم الحروف خاص کر اہل بہار سے یہ التماس کرناچاہتا ہے کہ آپ اور ہم چونکہ اردو کے فروغ میں پوری طرح ناکام ہوچکے ہیں؛ لہذا اس کی بقا بھی اب مشکل ہوگئی ہے، اگر اب بھی ہم نے ہوش کی آنکھیں نہیں کھولیں تو وہ دن دور نہیں کہ ہمیں اردو جاننے، اردو بولنے اور اردو پڑھنے لکھنے والے دور دور تک نظر نہیں آئیں گے۔

Related posts

بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ عدلیہ پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کا سبب بنے گا : رضوان الرحمن خان

محمد شعیب رضا نظامی فیضی

خود کشی کے محرکات و اسباب اور تدارک

Hamari Aawaz Urdu

مزدوروں کی بے بسی اور بھگوا حکومت کی ناکامی !!!

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں