Top 10 تاریخی صفحہ اول مذہبی ملی

خون سے کرتے وضو تیرے نمازی آئیں گے

تحریر: محمد روشن رضا مصباحی ازہری

مسجد یقیناً خانہ خدا ہے، وہ اللہ کا گھر ہے، اس کے بام و در صدائے توحید سے گونجتے رہتے ہیں، اس کے درو دیوار کے ہر زاویہ سے کلمہ حق کی صدا بلند ہوتی ہے، اور وہاں جاکر بندگان خدا و مسلمانانِ عالم اپنی جبین نیاز کو خم کرکے بارگاہ خالق حقیقی میں سجود و تحیات کی سوغات پیش کرتے ہیں.
انہیں خانہ خدا میں سے ایک عظیم الشان گھر ، بابری مسجد ہے، جس میں برسوں سے اہلیان ہند اس میں نماز و صلاۃ پڑھ کر اپنی بندگی کا ثبوت دیتے آرہے تھے، مگر ابھی کچھ سال پہلے اسی پاکیزہ مسجد میں اس کے تقدس کو پامال کرتے ہوے معبودان باطل، اصنام حجر، پتھر کی مورتیاں جبرا رکھ دی گئی، جب کے دستور ہند و آئین ہند کے مطابق یہ صاف ہے کہ اس مسجد کی بنیاد نہ تو کسی مندر کو توڑ کر رکھی گئی ہے اور نا ہی بادشاہ وقت نے جبرا غیر قانونی طور غیر کی زمین پر اس کی داغ بیل ڈالی ہے.
اب ارباب علم و دانش سے میرا سوال یہ ہے کہ جب قانونی طور پر اس مسجد کی جگہ مغصوبہ نہیں ہے تو پھر اس میں مورتیاں کیوں رکھی گئیں؟ اگر کسی مندر کو توڑ کر اس کی وضع نہیں ہوئی ہے تو اس کو توڑ کر زمیں بوس کیوں کی گئی؟
کیا ہندوستان کی تقسیم اسی لیے ہوئی تھی کہ یہاں شوق سے رہنے والے مسلمانوں کے عائلی و شرعی حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے گا؟ ان کے مذہبی مقامات کو اپنی طاقت کے بل پر مسمار کر دیا جائے گا؟ ان کے مقدس مقامات کے تقدس کو پامال کیا جائے گا؟ اور ہر دن نت نئے طریقے سے ان کی مذہبی عبادات و رسومات پر شب خون مارا جائے گا؟
نہیں ہرگز نہیں ہمارے ملک کی تقسیم تو اس طور پر ہوئی ہے کہ یہاں رہنے والے ہر شخص کو اس کی مذہبی آزادی، اظہار عقیدت، اعمال عبادت کا پورا موقع دیا جائے گا، ہر شخص مختار ہے.
تو پھر آج یہ سوتیلے پن کا بیوہار کیوں جارہا ہے؟
کیا انھوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمیشہ وہی اقتدار میں رہیں گے، ان کی ظالمانہ بادشاہت کو زوال نہیں آے گا؟ ارے جب وقت کے فرعون و نمرود و شداد کی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، اور آج انہیں کوئی جانتا تک نہیں تو یہ کس زعم فاسد میں ہیں؟
اے ہماری بابری مسجد! ہم اہلیان ہند بہت شرمندہ ہیں کہ ہماری نظروں کے سامنے تیرے آغوش میں پتھر کی مورتیاں رکھی گئیں اور ہم کچھ نہ کر سکے، تیرے بام و در و بلند ترین عمارت کو مسمار کر دیا گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے، اور آج ان ظالموں نے آج ایک بت خانہ کی بنیاد بھی ڈال دی اور ہم کچھ نہ کر سکے.
اے بابری مسجد! ہم عاجز و بے بس ہیں اس وقت، ہمارے قبضے میں کچھ بھی نہیں ہے.
مگر اے بابری مسجد! جو تیرا مالک ہے، جس کا تو گھر ہے، وہ اتنا عظیم و اعلی ہے کہ اپنے گھر کی حفاظت وہ چھوٹے چھوٹے ابابیل پرندوں کو بھیج کر کر لیتا ہے، جو اپنے گھر کے تقدس کی بحالی رجب طیب اردگان کی صورت میں مجاہد و قلندر بھیج کر کرا لیتا ہے، اگر تیرا مالک چاہتا تو آن واحد میں وہاں جاکر حدود الہی کو تجاوز کرنے والے سرکشوں کو زمین میں دھنسا دیتا، اگر اس کو منظور ہوتا تو پل بھر میں انہیں جلا کر خاکستر کر دیتا، مگر وہ تو احکم الحاکمین ہے، وہ تو ہر مدبروں کا خالق ہے،
آج ان ظالموں کو ڈھیل دینے میں بھی حکمت ہوگی،
مگر اے بابری مسجد! اللہ کی ذات بہت بڑی ہے، آج نہیں تو کل یقیناً تیرے بام ودر پھر صدائے اذان و کلمات الہیہ سے گونجیں گے، اللہ پھر کوئی محمد الفاتح کی صورت میں کوئی بہادر پیدا کرے گا، اللہ پھر ہم ہی میں سے کوئی رجب طیب اردگان کی صورت میں بطل جلیل کو بھیجے گا اور وہ ان کے پنجہ استبداد کو مروڑ کر پھر عالی شان مسجد تعمیر کرے گا. کیوں کہ ان کے مورتیاں رکھ دینے سے تیرا وجود ختم نہیں ہوجاتا تو مسجد تھی مسجد ہے اور تاقیام قیامت تو مسجد ہی رہے گی. آئیں گے یقینا آئیں گے وہ مجاہدین! جو تیری عظمت رفتہ کو بحال کریں گے، وہ آئیں گے جانباز جو تیرے تقدس کو پامال کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے. فریدی صاحب کی زبانی ہم سب کو یقین ہے کہ.. ع۔

خون سے کرتے وضو، تیرے نمازی آئیں گے
تیری خاطر وہ لگاتے جاں کی بازی آئیں گے

عظمتِ رَفتہ تری ، ہوکر رہے گی بازیاب
بابری مسجد ! ترے در ، حق کے غازی آئیں گے

Related posts

اعلی حضرت پیکر عجز و انکسار

Hamari Aawaz Urdu

حضرت عمربن عبدالعزیز ہم شرمندہ ہیں

Hamari Aawaz Urdu

نظم: اف! یہ کیا حال یے یہ بھی کیا عید ہے

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں