ادبی صفحہ اول

زندگی ایک سفر ہے سہانا

از: مجاہد عالم ندوی
استاد: ٹائمس انٹر نیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ

ایک بار ایک مسافر چوراہے پر رکا ، اس نے ایک بزرگ سے پوچھا یہ سڑک مجھے کہاں لے جائے گی ، بزرگی نے پلٹ کر پوچھا تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟ مسافر نے کہا یہ تو میں بھی نہیں جانتا ، بزرگ نے کہا تب تو پھر کوئ بھی سڑک لے لو ، کیا فرق پڑے گا ۔
کتنی صحیح بات ہے ، جب ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ ہمیں کہاں جانا ہے ، تو ہمارا گم کردہ راہ ہونا طے ہے ، اس لیے نصب العین ، مقصد یا منزل کا تعین انسان کے لیے ضروری ہے ۔
کیا ہم کسی ایسی ٹرین یا کسی اور سواری میں بیٹھیں گے بغیر یہ جانے کہ وہ کہاں جا رہی ہے ، اس کا سیدھا سا جواب ہوگا ، نہیں ، ایسی سواری میں نہیں بیٹھیں گے جو ہمیں ہمارے مطلوبہ مقام تک نہ پہنچائے ۔
لیکن زندگی کے سفر میں بنا تعین کے لوگ چلنے کو کیوں آمادہ ہو جاتے ہیں ، اور نہ صرف یہ بلکہ پوری زندگی یہ سوچنے تک کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہم جس راہ پر جا رہے ہیں یہ صراط مستقیم ہے بھی یا نہیں مگر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو دنیا وی زندگی با مقصد گزارنے کے تعلق سے سنجیدہ نہیں ہوتے ، ان کی نظر میں موجودہ دنیا ٹھیک ویسی ہی ہے جیسے کہ جانور کے لیے سر سبز چراگاہ یعنی کھاو ، پیو اور خوش رہو ، اس سے زیادہ زندگی کا اور کوئ مقصد نہیں ہے ۔
اس قسم کی سوچ رکھنے والے افراد کو اگر سماجی حیوان کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا ، قرآن کریم میں ایسے لوگوں کی چوپایوں سے تشبیہ دی گئ ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ربانی ہے ” ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں ، مگر دیکھتے نہیں ، اور ان کے کان ہیں مگر سنتے نہیں ، یہ لوگ بالکل چوپایوں کی طرح ہیں ، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ” ، ( سورة الاعراف )
دنیا کی زندگی میں مست اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگوں کے بارے میں ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ( اے پیغمبر ) منکروں کی شہروں میں چلت پھرت ، ان کی اچھل کود اور رنگ رلیاں کرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ( یہ ظاہری ٹیپ ٹاپ کے سوا کچھ بھی نہیں ) یہ دنیا کا تھوڑا سا فائدہ ہے جو یہ کما رہے ہیں ، پھر آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بڑی بری جگہ ہے ( سورة ال عمران ) ۔
یہ ہم اور آپ سبھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالی ہی اس کائنات اور اس کائنات میں موجود تمام مخلوقات کا خالق ہے ، اور اس نے ہر شے کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے ، زمین ، آسمان ، رات ، دن ، اندھیرا ، اجالا ، انسان ، حیوان ، مرد ، عورت غرض ارض و سماء کا پورا کارخانہ اختلاف کا مجموعہ ہے ، اسی طرح اس دنیا کا جوڑا آخرت ہے ۔
موجودہ دنیا امتحان کے لیے ہے اور آخرت والی دنیا انجام کے لیے ، موجودہ دنیا ناقص ہے اور آخرت کی دنیا کامل ہے ، یہ غیر معیاری ہے اور وہ معیاری ، یہ ناپائیدار اور وہ پائیدار ، مگر دونوں لازم ملزوم ہے ، کیونکہ آخرت کو جانے والا راستہ اس موجود دنیا سے ہو کر ہی گزرتا ہے ۔
چنانچہ اسی تناظر میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئ ہے لیکن تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو ” ، پھر آخرت بھی جنت اور جہنم کے جوڑے پر مشتمل ہے ۔
ایک اللہ تعالی کی ابدی راحتوں اور رحمتوں کا گہوارہ اور دوسرا اس کے عتاب و عذاب کا بھیانک ٹھکانا ، گویا انسان کی مثال جنت یا جہنم کی طرف لے جانے والے مسافر کی سی ہے ۔
اگر گم کردہ راہوں سے بچ کر صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا یہ سفر طے کیا تو بےشک اس کی یہ زندگی ایک سہانا سفر ہے ،
ایسی صورت میں بہشت بریں اس کے خیر مقدم کو منتظر ہوگی ، اور اگر نفسانی خواہشات کی تحت دنیا کے عارضی مزوں میں پڑ کر اور اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھلا کر بھٹکانے والی راہوں پر چلتے ہوئے یہ سفر طے کیا تو دوزخ اس کی منتظر ہوگی ۔
ایک عارف باللہ کا قول ہے ” اپنے خدا کے ساتھ آسنا ہو ” کیونکہ مسافر جب ایسے شہر میں پہنچے جہاں اس کا شناسا ہو تو اس کا دل قوی ہوتا ہے ،
آخرت اور اس کی بہشت بریں بلا شرکت غیر خداوندی کی سلطنت ہے ، اور اپنی اس سلطنت میں وہ اپنے ان بندوں کو بسائے گا جنہوں نے موجودہ دنیا کی زندگی خدا آشنا بن کر گزاری ہوگی ،
اگر ہمیں نیک اور اچھا بننے کی تمنا ہے اور دین شریعت کے مطابق زندگی گزارنی ہے، تو اپنی من مانی زندگی جینے کے بجائے اللہ تعالی کی اطاعت و تابعداری اور آخری نبی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی اختیار کرتے ہوئے زندگی گزارنی ہوگی ، اللہ تعالی ہم سب کو دین شریعت کی سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین

Related posts

آؤ! کرتے ہیں شہ کون و مکاں کا تذکرہ

Hamari Aawaz Urdu

نعت رسول: سرکار کے آنے سے ملی زندگی نئی

محمد شعیب رضا نظامی فیضی

کیا مسلم بادشاہوں نے جبرا غیر مسلموں کو مسلم بنایا؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں