سماجی صفحہ اول مذہبی

امانت داری: اسلام کی نظر میں

تحریر: عبدالجبار انعام اللہ سلفی

جمع و تربیت: تصویر عالم بن امیر حسین رتنوی

امانت کا مفہوم
لغوی مفہوم: لغت میں دیانت داری،راست بازی کو امانت سے تعبیر کیا گیا ہے۔(معجم المعانی)۔
اصطلاحی مفہوم: عموماً اس کا دائرہ کار صرف ودیعت کے طور پر رکھے جانے والے مال کی حفاظت کرنے اور لوٹا دینے تک محدود کر دیا گیا ہے،لیکن شریعت کی نظر میں امانت ایک وسیع المفہوم لفظ ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے:ہر صاحب حق کو اس کاحق پورا پوراادا کرنے اور اپنی ذمہ داری کو ٹھیک سے نبھانے کا نام امانت ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ امانت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہتےہیں: الأمانة الأعمال التي ائتمن اللہ علیہا العباد (تفسیر ابن کثیر انفال آیت ٢٧کے تحت)وہ تمام اعمال امانت ہیں جن پر اللہ نے بندوں کو امین بنایا ہے۔
چنانچہ امانت سے مراد ہر وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا معاشرہ کی طرف سے یا کسی فرد کی طرف سے کسی شخص کے سپرد کی گئی ہو۔ خواہ یہ امانت منصوبوں سے تعلق رکھتی ہو یا اقوال سے یا اموال سے ان سب کی پوری پوری نگہداشت ضروری ہے۔ یہی صورت مال، عہد اور معاہدات کی ہے۔ خواہ کوئی عہد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لیا ہو۔ خواہ یہ آپس کا قول وقرار ہو اور خواہ یہ معاہدہ بیع یا نکاح سے متفق ہو۔ ان کو وفا کرنا ضروری ہے۔ (تفسیر تیسیر القرآن).
اسی طرح مشورہ امانت ہے،عہدہ اور منصب امانت ہے،راز کی باتیں امانت ہیں،مجلس کی باتیں امانت ہیں،میاں بیوی کے باہمی تعلقات بھی امانت ہیں۔ان کا پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے،انسان کے اپنے اعضاء امانت ہیں لہذا ان کو حرام میں واقع ہونے سے بچانا اور ان کے ذریعہ اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرنا ضروری امر ہے،غرضیکہ لفظ امانت بہت سارے امور کو شامل ہے۔
✅امانت داری کی اہمیت وفضیلت:
اسلام میں امانت داری کی بڑی اہمیت ہے،اس لیے کہ تمام فرائض واحکام اور اخلاق وآداب جن کو اسلام لے کر آیا ان سے اس کا مضبوط علاقہ ہے۔امانت کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل امور سے لگایا جا سکتا ہے.
١-امانت داری کا تعلق حسن اخلاق سے ہے۔
٢-امانت داری ایک ایسا خلق ہے جس پر اسلام نے ابھارا ہے اور جس کا اللہ نےاپنے بندوں کو حکم دیا ہے،چنانچہ اللہ نے فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿سورہ نساء:۵۸﴾ بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ، امانت والوں کو ادا کردو اور جب تم لوگوں کے درمیان (کسی جھگڑے کا) فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے کرو ۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں (بہت ہی) اچھی نصیحت کرتا ہے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ (سب کچھ) سنتا (اور) دیکھتا ہے ۔
٣-امانت داری رسولوں کا وصف رہا ہے،تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا:اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿سورہ شعراء:۱۰۷﴾ۙمیں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں ۔
اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب ہی صادق وامین تھا۔
٤-امانت داری اہل ایمان کی صفت ہے،اللہ نے فرمایا:وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِاَمٰنٰتِہِمۡ وَ عَہۡدِہِمۡ رٰعُوۡنَ ۙ﴿سورہ مؤمنوں:۸﴾اور (مومن وہ ہیں) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔
٥-امانت داری ایمان کی علامت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: لا إيمانَ لمن لا أمانَ لَهُ ولا دينَ لمن لا عَهدَ لَهُ(شرح السنہ للبغوی١/١٠٠).
٦-اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اندر خیانت کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے،فرمایا:: لا إيمانَ لمن لا أمانَ لَهُ ولا دينَ لمن لا عَهدَ لَهُ(شرح للبغوی ١/١٠٠).نیز امانت کے اندر خیانت کو نفاق کی نشانی بتلاتے ہوئے فرمایا:” آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ “.(صحیح بخاری ح:٣٣).
٧-امانت داری سے متصف شخص سے اللہ اور لوگ محبت کرتے ہیں۔
٨-امانت داری اعراض واموال کی حفاظت کی تاکید کرتی ہے۔
٩-امانت داری امین آدمی کو اجر وثواب کا مستحق بناتی ہے۔
١٠-امانت علوم و معارف کی حفاظت کا راستہ ہے۔
١١-امانت داری سماج و معاشرہ میں امن وسکون عام کرنے کا ذریعہ ہے۔
لیکن افسوس!آج ہمارے سماج و معاشرہ میں اس اہم امر سے بھی پہلو تہی اختیار کی جا رہی ہے،اس سے کوتاہی عام سی بات ہو گئی ہے،امانت میں خیانت مسلمانوں کا شعار بنتا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امانت کی اہمیت ودرجہ کو سمجھنے اور اس کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

۱۳/اگست ٢٠٢٠مطابق٢١/ذی الحجہ ١٤٤١ھ)

Related posts

نورکی کرن پھوٹی حضرت آمنہ کے آنگن میں

Hamari Aawaz Urdu

نعت: بخشش کاسرِ حشر ہو سامان وغیرہ

Hamari Aawaz Urdu

نظم: کرونا وائرس اور ایک بچہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں