تاریخی صفحہ اول ملی

بابری مسجد کی شہادت سے حیدرآباد کے پانچ مساجد تک

تحریر: سرفرازاحمد القاسمی حیدرآباد
برائے رابطہ: 8099695186

۔5 اگست کوکھلے عام ملک کی جمہوریت کاجنازہ اوراسکی تدفین کردی گئی،اوریہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اب جمہوریت نام کی چڑیا کااب بھارت میں کوئی وجود نہیں رہ گیاہے،اور یہ کہ اب آنےوالے دنوں میں اس متعصب،سنگھی اورفرقہ پرست حکومت کاہرقدم “ہندوراشٹر”کی جانب ہوگا،سوال یہ ہے کہ کیا بھارت ہندو راشٹر کے اس بھاری بھرکم بوجھ کو اٹھانے کےلئے تیارہے؟پڑوس کاایک چھوٹا ساملک “نیپال”جواس بوجھ کو زیادہ دنوں تک اپنے سر پرنہ رکھ سکا اوربلآخر اس نے اس بوجھ کواتار پھیکا،کیابھارت اسکا متحمل ہوگا؟یہ تو آنے والا وقت بتائےگا،اس ملک کےحالات آگے کیاہوں گے اور یہ کس رخ پر چلےگا یہ آنے والاوقت طے کرےگا،لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ابھی ملک کی باگ ڈور،جن لوگوں کےہاتھ میں یہ لوگ ییقیناًیہاں کی عوام کے خیرخواہ اورہمدرد نہیں ہیں،یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں صرف اقتدار چاہئے،اوراسکےلئے وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں،عوام کیا چاہتی ہے،حکومت سےانکا کیامطالبہ ہے،ملک کی کروڑوں عوام کےلئے ان لوگوں کےلئے کوئی لائحہ عمل نہیں، صرف ایک مخصوص ایجنڈا جومذہبی منافرت پر مبنی ہے اسکو نافذ کرنے کےچکر میں یہ لوگ جلد بازی میں ہیں،ظاہر ہے ایسی حکومتوں کاوجود زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکتا،5اگست کو جس طرح قانون کی دھجیاں اڑائی گئی اسکو دنیاںے دیکھا،کس طرح جمہوریت کوپیروں تلے روندا گیایہ بھی دنیا نے دیکھا،جمہوریت کاجنازہ تو اسی دن نکل جس دن دہشت گردوں نے بابری مسجدکو شہید کیا،اوراس پھر اس دن جس دن تمام دستاویزات اورثبوت وشواہد کے باوجود ملک کی سب سے بڑی عدالت”سپریم کورٹ”نے فیصلہ مسجد کے حق میں نہ کرکے،بابری مسجدکی تقریباً 70ایکڑ زمین انھیں لوگوں کےحوالے کردیا،جن لوگوں نےاسکو شہید کیاتھا،کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے عدالت نے یہ ساری چیزیں دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کےخلاف فیصلہ دیا،اسطرح جمہوریت کاجنازہ اسی دن یعنی 9نومبر2019 کے دن نکال دیا اورجوکچھ بچاتھا اسے گذشتہ 5اگست کو پوراکردیاگیا،یعنی جمہوریت کی تدفین کردی گئی،اب جولوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بابری مسجد قضیے کے بعد ہندو مسلم کےدرمیان نفرت کی جوخلیج انگریزوں نے پیداکی تھی وہ ختم ہوجائے گی،وہ لوگ یقیناً بہت بڑی غلط فہمی کے شکار ہیں،بلکہ اسکے بعد یہ نفرت کاسلسہ اورآگے بڑھےگا،بابری مسجد کی طرح ملک بھر کی کم ازکم 3000مساجد جوان سنگھیوں کی فہرست میں ہےجس پرخطرات کےبادل منڈلانے لگے ہیں،کاشی اور متھرا کاقضیہ عدالت پہونچ چکاہے،کیاآپ کولگتاہے کہ جن لوگوں نے زبردستی طاقت کےبل بوتے پر بابری مسجد کوچھین لیاوہ لوگ اب خاموش ہوجائیں گے؟انکے حوصلے اور بلند ہوچکے ہیں اوراب یہ مٹھی بھر لوگ شرپسندی پراترآئے ہیں،بابری مسجد ایک اکیلی مسجد نہیں ہے جن کےساتھ ظلم ہوا اوراسے شہید کرکے وہاں اب مندر تعمیر کی جارہی ہے،ایسی اوربھی کئی ایک مساجد ہیں جسے حکومت کی جانب سے شہیدکیاگیااورپھراسکی دوبارہ تعمیر کے جھوٹے وعدے کئےگئے کہ ؓشہید مسجد دوبارہ تعمیر ہوگی”ٹھیک اسی طرح جسطرح بابری مسجد کی شہادت کےوقت مسلمانوں سےاس وقت کی حکومت نے وعدہ کیاتھااور تیقن دیاتھا،لیکن کیاہوا؟کیا بابری مسجد ابتک تعمیر ہوئی؟ٹھیک اسی طرح اب ریاستی حکومت بھی مساجد شہید کرکے ان سے جھوٹے وعدے کررہی ہے،میں بات کررہاہوں ریاست تلنگانہ کی جہاں دوچار سال کے عرصے میں کم ازکم پانچ مساجد کوکسی نہ کسی بہانے سے شہید کردیاگیا،اورکئی سال گزرنے کےبعد ان میں سے ایک بھی مساجد اب تک دوبارہ تعمیر نہ ہوسکی،ان مساجد کو حکومت کےلوگوں نے خود شہیدکیا،اور مسلم قائدین اس معاملے میں ابھی تک ضمیر فروشی کامظاہرہ کررہے ہیں،آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ حیدرآباد اورتلنگانہ کی پانچ کون کونسی مساجد کوکس وجہ سے شہید کیاگیا،اور پھر سیاسی پارٹی اور مسلم لیڈران نے اسکی بازیابی کےلئے کیاکوششیں کی؟
متحدہ آندھرا پردیش کا دارالحکومت شہر حیدرآباد میں 2007 میں جب کانگریس کی حکومت تھی،اسوقت انٹرنیشنل ایرپورٹ سے متصل”مسجد عمرفاروقؓ “ایرپورٹ کی توسیع اور تعمیر کے نام پرشہیدکیاگیا،جہاں پانچوں نمازوں کےعلاوہ جمعہ کی نماز بھی ہوتی تھی،ایرپورٹ کےمسافراور ملازمین کےلئے وہ ایک واحد مسجد تھی جسکو شہید کردیاگیا،اور یہ مسجد ابتک دوبارہ تعمیر نہ ہوسکی،احتجاج کے باوجود حکومت نے ابتک اسے تعمیر نہ کرایا،وہ جگہ آج بھی ایسی ہی پڑی ہے،
تلنگانہ ریاست الگ ہونے کے بعد شہر کی ایک اور مسجد جسے”مسجد یکخانہ عنبرپیٹ”کے نام سے جاناجاتاہے،سڑک کی توسیع کے نام پردوسال قبل اس مسجد کوبھی شہید کردیاگیا،لوگوں نے جب احتجاج کیاتوحکومت کے نمائندوں نے نرسمھاراؤ کی طرح مسلمانوں سے جھوٹا وعدہ کیا کہ دوبارہ اس مسجدکوہم تعمیر کریں گے،لیکن یہ صرف وعدہ ہی رہا آج بھی وہاں پرپولس کاپہرہ ہے نہ وہاں نماز پڑھنے کی اجازت ہے،
18فروری 2014کو تلنگانہ ملک کی 29ویں ریاست بنی،اسی دن لوک سبھا سے یہ بل پاس ہوا،لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہنگاموں کے درمیان یہ بل پاس ہوااور ایک نئی ریاست وجود میں آگئی،یہ نئی ریاست بننےکے بعد اقتدار جنکے ہاتھ میں گیاانھوں نے وعدہ کیاکہ ہم اس ریاست کو”بنگارو تلنگانہ”یعنی سنہرا تلنگانہ بنائیں گے،لیکن 6سال گذرنے کےبعد اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا نہ ہی اس جانب کوئی پیش قدمی کی گئی،ریاست کے مسلمانوں سے موجودہ حکومت نے جتنے وعدے کئے تھے وہ سب کاغذی ثابت ہوئے،گویا یہ کہاجاسکتاہے کہ ریاست کی موجودہ حکومت بھی مرکز کی سنگھی حکومت کے نقش قدم پر ہے،اور مسلم دشمنی انکے رگوں میں موجود ہے،سیکولر کا “چولا”پہننے والا کےسی آر،اندر میں “خاکی نیکر”زیب تن کئے ہوئے ہے،یہ نرسمھا راؤ کو اپنا گرو بھی بتاتاہے،اور آج کل نرسمھاراؤ کی صدی تقاریب منانے کااس نے اعلان کیاتھا،جو ایک سال تک منایاجائےگا،اور اس پرکروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں،پورے شہر میں نرسمھاراؤ جو بابری مسجد کی شہادت کااصل اورکلیدی مجرم ہے اسکی تصویریں پورے شہر میں لگادی گئی ہے،ہرجگہ انکی تصویروں سے شہرکو بھردیاگیاہے،سوال یہ ہے کہ مسلمانوں اور انکی مساجد سے نفرت کرنے والوں سے دوستی کرنےوالے اورانکو اپناگرو بتانے والے”سیکولر سی ایم”مسلمانوں کے دوست کیسے ہوسکتے ہیں؟
عنبر پیٹ کی “یکخانہ مسجد”کی شہادت کے صرف دوماہ بعد،شہر حیدرآباد سے متصل ضلع کھمم کے کتہ گوڑم میں ایک مسجد غیر قانونی کہہ کر محکمہ جنگلات کے عہدے داروں نے شہید کردیا،اور اب تک یہ مسجد تعمیر نہ ہوسکی، ریاست کی یہ تیسری مسجد ہے جسے حکومت کے لوگوں نے شہید کیا،
گزشتہ ماہ یعنی ماہ جولائی کے پہلے ہفتے میں حیدرآباد سکریٹریٹ کی دومساجد”مسجد ہاشمی”اور دوسری “مسجد معتمدی”یہ دونوں مسجدیں سکریٹریٹ کےعلاقے میں واقع تھی جوآزادی سے قبل نظام حیدرآباد،میرعثمان علی نے تعمیرکی تھی اوران دونوں مساجد میں نمازیں ہورہی تھیں،اسکے باوجود ایک منظم طور پرانتہائی خفیہ انداز میں شہید کردیاگیا،شہادت سے کئی دن قبل ان مسجدوں کے امام،مؤذن اوراسکوخادموں کومسجد آنے سے منع کردیاگیاتھا،ایک ہفتے کے بعد جب یہ خبر لوگوں کو پہونچی اور چہ می گوئیاں شروع ہوئی تو سی ایم کےسی آر نے ایک پریس کانفرنس کی،جس میں انتہائی بےشرمی کےساتھ جھوٹ بولتے ہوئے یہ کہاکہ”اوپر سے ملبہ گرنےکی وجہ سےمسجد کومعمولی نقصان پہونچاہےجسکا مجھے بےحد افسوس ہے”یہ کام اتنی رازداری سے کیاگیا کہ سکریٹریٹ کوآنے والی تمام سڑکوں کو دوکیلو میٹر پہلے ہی بندکردیاگیاتھا، جوملازمین سکریٹریٹ کی انہدامی کارروائی میں شریک تھے انھیں موبائل لےجانے کی اجازت نہیں تھی،میڈیا کے نمائندوں پربھی پابندی لگادی گئی تھی،اسطرح سکریٹریٹ کے ساتھ ان دونوں مساجد کوشہیدکردیاگیا،سکریٹریٹ کی پوری عمارت 8ایکڑ پر مشتمل تھی،اسطرح نیاسکریٹریٹ جوحکومت تعمیر کررہی ہے یہ 8 ایکڑ زمین پر تعمیر ہورہاہے اور پہلی قسط کےلئے 500کروڑ روپے اسکی نئی تعمیر کےلئے جاری کیاہے، سکریٹریٹ کا یہ پوراحصہ مسجد کے نام پر وقف ہے،اسی سرزمین پرسکریٹریٹ تعمیر کیاگیاتھا، یہ عمارت بھی شہر کی خوبصورت عمارتوں میں سے ایک تھی جسے نظام حیدرآباد نے تعمیرکیاتھا،آج کل کےسی آر ان عمارتوں کو چن چن کر منہدم کرارہے ہیں جونظام حیدرآباد کی یادگار ہیں،ان دونوں مساجد کی شہادت کے بعد لوگوں کی بےچینی کودیکھتےہوئے، اگرچہ کے سی آرنے یہ بیان دیاہے کہ حکومت کے خرچ سے سکریٹریٹ کے علاقے میں ہی ایک خوبصورت مسجد تعمیرکرائی جائےگی،یہ دونوں مسجدیں غلطی سے شہید ہوگئیں،جب چیف منسٹر کایہ بیان آیاتو “نقیب ملت”اور پورے ملک کے مسلمانوں کے قائد بننے کے دعویدار ایم پی اسد اویسی صاحب نے چیف منسٹر کومبارکباد دی اور انکا شکریہ اداکیا،لیکن سوال یہ ہے کہ کیاشہید مساجد اسی مقام پر تعمیر ہوگی؟اور جب دومسجدیں شہید کی گئیں توصرف ایک مسجد ہی حکومت تعمیر کرائےگی؟اسکی وضاحت بھی حکومت کانمائندہ نہیں کررہاہے سوال یہ بھی ہےکہ جس سی ایم نے گزشتہ 6سال میں مسلمانوں سے صرف وعدہ کیاجس میں ایک بھی اب تک پورانہیں ہوا کیسے یقین کرلیاجائے کہ وہ مسجد کو تعمیر کرائیں گے،خود غرضی اور مفاد پرستی اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ اب مسلم لیڈران اور مسلم پارٹی کے قائدین بھی ضمیرفروشی کی راہ میں چل پڑے ہیں،انھیں صرف اپناعہدہ عزیز ہے قوم کیا چاہتی ہے وقت کی ضرورت کیا ہے مسلم لیڈران یہ سوچنے سے قاصر ہیں،ہرایک کواپنی پارٹی اور اینا مفاد عزیز ہے، ریاست میں پانچ مساجد ہونے کے باوجود اب تک کسی مسلم عہدے داران نےاستعفی تک نہیں دیا اورنہ کوئی مؤثر احتجاج درج کرایا، مسلم تنظیموں کےکئی عہدے داران کی منافقت دیکھئے کہ انھوں صرف اردو اخبارات میں مذمتی بیان تودیدیا لیکن اپنے عہدوں کو چھوڑنے کےلئے وہ تیار نہیں،
حیدرآباد کی مسلم سیاسی پارٹی جوحکومت میں شریک ہے اور جنہیں پورے ملک کے مسلمانوں کی فکر ہے یہ لوگ اپنی ریاست اوراپنے گھرمیں اتنے حساس معاملے پرمصلحت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں،یہ بابری مسجد کی شہادت پر ایک زمانے تک سیاست توکرتے رہے اور مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہے لیکن شہر کی مساجد کی بازیابی کےلئے اب تک انھوں نے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا،سی اے اے اور این آر سی کے احتجاج کے موقع پر ان لوگوں کاکردار بھی افسوسناک تھا،شہر میں یہ لوگ ایک شاہین باغ نہ قائم کرسکے اور نہ ہی اس میں لوگوں کاکوئی تعاون کیا، ملک کی آزادی کےبعد جسطرح کانگریس اوردیگر سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو نقصان پہونچایا،اور حاشیہ پرلاکھڑاکیا مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کہ نام نہاد مسلم پارٹیوں اور مسلم لیڈران نے بھی اپنے مفاد کےلئے قوم کوبیچا اور برباد کیا،آج ملک بھر مسلمانوں کی جوحالت ہے اس میں نام نہاد مسلم لیڈران اور موروثی قیادت کابھی اہم کردارہے،اسلئے اب مسلمانوں کو یہ نئے سرے سے سوچنا ہوگا کہ آخر ہماراسچادوست کون ہے اور دشمن کون ہے؟ملک کے مسلمان انتہائی نازک دور سے گزررہے ہیں ایسے میں اگرہم نے ایک منظم منصوبہ بندی نہ کی اور مناسب لائحہ عمل طے نہ کیا تو پھر اللہ ہی ہمارامالک ہے،
حالات دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ایسے میں یہ وقت ہمارے لئے انتہائی غور وفکر اور سنجیدگی کے ساتھ کوئی راہ نکالنے کی ہے،قیادتیں وہی پائیدار ہوتی ہیں اورحقیقی قیادت وہی کہلاتی ہے جو مسلسل جدوجہد،عزم مصمم،اخلاص رمزشناسی کے ذریعے وجود میں آتی ہے،موروثی قیادت قوم کی نیا پارلگائےآج کے زمانے میں اسکے امکانات بہت کم ہیں اسلئے حقیقی قیادت ہمیں پیدا کرناہوگا ورنہ اسی طرح کی سودے بازی ہوتی رہےگی اور قوم کو بیچاجاتارہے گا،اللہ تعالیٰ خیر کامعاملہ فرمائے۔
(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
[email protected]

Related posts

رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خاں: شخص و عکس

Hamari Aawaz Urdu

علم حاصل کرو، کرلو دنیا مٹھی میں

Hamari Aawaz Urdu

نعت رسول: آمدِ سرکار ہے جگ نور سے معمور ہے

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں