Top 10 ادبی سیرت وسوانح شعر وشاعری صفحہ اول قومی ملی

ڈاکٹر راحت اندوری کی رحلت دنیاے شعر وادب کا عظیم خسارہ

 از: محمد ایوب مصباحی مراداباد

چند روز قبل دنیاے شعر و ادب کا ایک عظیم شاعر عالمی وبا کرونا وائرس کی زد میں آکر اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا جو اردو دنیا کا ایک ناقابلِ تلافی زیاں ہے ۔ اور یہ عالمِ تغزل و مشاعرہ کا ایک ایسا خلا ہے جس کا پر ہونا تقریبا فی الحال ناممکن سا نظر آتاہے۔
“راحت اندوری” نے اردو زبان کے ناصرف وجود کو بچایا بلکہ اس کی اہمیت غیروں کے دلوں میں بھی اجاگر کی، “راحت اندوری” ایک غزلیہ، عشقیہ ، حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے، نئی نسل کے ایک عمدہ معمار، اور بیباک شاعر تھے۔
“راحت اندوری” کی بیباکی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ جب حکومت نے اقتدار کے نشے میں ایک خاص طبقے کے ساتھ غیر جانبدارانہ سلوک کیا(گجرات کے فسادات اورحالیہ دنوں NRC جس کا پیش خیمہ تھا)تو “راحت اندوری”بے ساختہ یہ کہتےنظر آئے اور آپ کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی :
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے۔
جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
سبھی کاخون ہےشامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے۔
“راحت اندوری” کو اردو زبان و ادب پر کامل عبور حاصل تھا جس کا مشاہد آپ ان کے اشعار میں کرسکتے ہیں لیکن اس پر لطف یہ کہ آواز کا نشیب وفراز، اشعار کو تکرار سے کہنا اور اعضا کا زیر و بم اس میں ایک خاص جاذبیت و دل کشی پیدا کردیتا تھا اور اس سے وہ سامعین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب رہتے تھے، “راحت اندوری” کی شاعری میں نقطہ، وقفہ، سکتہ؛ ان سب چیزون کی بہت اہمیت تھی بلکہ موصوفِ مذکور اب تو مشاعروں کی ضمانت ہوا کرتے تھے۔
“راحت اندوری” مقبولِ خاص وعام تھے ۔فلمی نغموں، قوالیوں، دینی جلسوں میں آپ کے اشعار کثرت سے پڑھے اور سنے جاتے تھے اور ہر کلام آپ کا بے حد مقبول ہوتا۔ آپ کے دیوان کا ایک قطعہ جو بہت زیادہ مشہور ہوا ملاحظہ ہو۔
زمزم و کوثرو تسنیم نہیں لکھ سکتا
یانبی آپ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا
میں اگرسات سمندربھی نچوڑوں راحت
تو آپ کے نام کی ایک میم نہیں لکھ سکتا
یہ قطعہ “راحت اندوری” نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں لکھا یقینا اگر یہ قطعہ مقبولِ بارگاہِ رسالت ہوگیا تو یہ کہیے کہ تمام عمر غزل گوئی میں صرف کرکے بھی موصوف نے اپنی زندگی کو کامیاب بنالیا۔
“راحت اندوری” کے اندور وطن پرستی کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی، اپنے ملک سے محبت و الفت، ایثار و قربانی باہمی اخوت وبھائی چارگی کا پیغام ہر مشاعرے میں عام کرتے تھے؛ “حب الوطنِ من الایمان” کا تصور اور نسل کشی کرنے والوں اور ایک خاص طبقے کے لیے یہ نعرہ(دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو) لگانے والے شرپسندوں کے باطل ایوان میں آخری کیل ٹھوکتے ہوئے پوری جسارت و جواں مردی کے ساتھ مخالف طبقے کو ردِ عمل اور ملک وملت سے وفاداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ نعرہ دیا
میں جب مرجاؤں تومیری الگ پہچان لکھ دینا
لہو سے میری پیشانی پر ہندوستان لکھ دینا
“راحت اندوری” نے یوں تو اپنی تمام تر زندگی غزل گوئی میں صرف کردی لیکن بعض دفعہ محبتِ رسول سے سرشار ہوکر نعتیہ کلام بھی لکھے اور اس میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کا درس اور مقامِ نبوت و شانِ رسالت کو بڑے اچھوتے اور دل کش انداز میں بیان کیا: چند شعر ھدیہ قارئین کیے جاتے ہیں۔
اگر نصیب قریبِ درِ نبی ہوجائے
میری حیات میری عمرسےبڑی ہوجائے
میں”م””ح”لکھوں پھر “م”اور”د”لکھوں
خداکرے! یوں ہی ختم زندگی ہوجائے

آقائے دوجہاں نورِ مجسم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا “نور”ہونا اور اسی طرح آپ کے جسمِ منور کا بے سایہ و حاضر و ناظر اور مختارِ کل ہونا مسلمانون میں مختلف فیہ رہا تو “راحت اندوری” نے یہاں بھی صحیح اعتقاد و نظریات کی طرف مسلمانوں کی ارشاد و رہنمائی کی۔لکھتے ہیں:
تمام ذرے ستارہ صفت نہ ہوجاتے
یہ خاک حاصلِ کون و مکاں نہ ہوجاتی
اگر حضور کا سایہ زمیں پہ پڑجاتا
تو یہ زمیں ہی آسماں نہ ہوجاتی

بند آنکھیں ہیں چارسوہیں آپ
اس اجالے کی آبرو ہیں آپ
نعت پڑھتاہوں اور لرزتا ہوں
ایسا لگتاہے روبرو ہیں آپ

اے خدا! پھر یہ عذاب اور یہ ستم کس کے ہیں
تو تو اس بات سے واقف ہے ہم کس کے ہیں
آج جب نامِ نبی لکھا تو اندازہ ہوا
لفظ کیوں پہدا ہوگئے لوح وقلم کس کے ہیں
معزز قارئین! شاعر جس قدر فصیح و بلیغ ہوتاہے اسی قدر وہ مقبولِ خواص ہوتاہے اور اربابِ حل و عقد کی نظر میں اس کا وقار نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے۔ “راحت اندوری” کے اشعار بھی فصاحت بلاغت سے لبریز ہواکرتے تھے، آپ کے اشعار میں استعارہ و تمثیل، مجاز و کنایہ، اور اصطلاحاتِ بلاغت کی ایک غیر مرئی سلکِ مروارید نظر آتی ہے ہم یہاں قلتِ وقت کے دامن گیر ہونے کے سبب تشبیہ و تمثیل کی ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں:
میرے پیمبر کا نام ہے جو میری زباں پر چمک رہاہے گلے سےکرنیں نکل رہی ہیں لبوں سےزمزم چھلک رہاہے
میں رات کےآخری پہر میں جب آپ کی نعت لکھ رہا تھا
لگا کہ الفاظ جی اٹھے ہیں، لگاکہ کاغذ دھڑک رہاہے
مرے نبی کی دعائیں ہیں یہ مرے خدا کی عطائیں ہیں یہ
کہ خشک مٹی کا ٹھیکرا بھی حیات بن کے کھنک رہاہے۔
“راحت اندوری” کے دیوان میں ہم نے ایک ایسا کلام بھی دیکھا کہ اگر وہ مقبول بارگاہِ الہی ہوجائے تو مغفرت حتمی و یقینی ہے اور یقینا جو فکر راحت اندوری نے قومِ مسلم کو اس کلام میں دی ہے ارتکابِ عملِ صالح کے ساتھ ساتھ ہر مسلمان کے اندر اس فکر کا ہونا بےحد ضروری ہے تاکہ اس کا مستقبل و آخرت تابناک وکامیاب ہو اور اقبال وسربلندی سے سرفراز ہو۔اس کلام کے چند اشعار آپ بھی پڑھیں اور اپنے ایمان و عقیدے کو جلا بخشیں

میں مطمئن ہوں شفاعت میرے رسول کی ہے
رسول میرے ہیں جنت میرے رسول کی ہے
ہر ایک سانس عقیدت میرے رسول کی ہے
یہ زندگی تو امانت میرے رسول کی ہے
دکھاتے کیا ہو کوئی اور سنودھان مجھے
میری نظر میں شریعت میرے رسول کی ہے

راحت اندوری کے چلے جانے سے یقینا زبانِ شعرو ادب میں ایک مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
کتبہ:محمد ایوب مصباحی، استاذ دارالعلوم گلشنِ مصطفی، بہادرگنج، مراداباد، یوپی، ہند۔
١۴/اگست ٢۰٢۰ء بروز جمعہ

Related posts

نعت رسول: جھوم کر گاؤ ترانے آگئے میرے نبی

Hamari Aawaz Urdu

نعت رسول: حکم پاکر شمس پلٹا جب بلائے مصطفیٰ

Hamari Aawaz Urdu

قرآن مقدس کتاب ہدایت ہے

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں