Top 10 تاریخی سماجی سیاسی صفحہ اول قومی ملی

دانش وروں کے پاس کھوپڑی ہے یا کھوپڑا؟

سن 1949 سے لے کر اج تک قوم مسلم کو بابری مسجد میں الجھا کر رکھا گیا۔
تحریر: طارق انور مصباحی، کیرلا

مسلم دانشوران و مفکرین بھی ادھر ہی مصروف رہے۔نہ اپ اسمبلی میں اپنی قوت ثابت کر سکے،نہ ہی پارلیامنٹ میں اپنی طاقت منوا سکے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کا دستور سیکولر ہو کر بھی اپ کو وہ فائدہ نہ پہنچا سکا جو ایک سیکولر دستور سے امید ہوتی ہے۔

جب اس دستور کو نافذ کرنے والے شعبہ جات کے ذمہ داران بھی سیکولر ہوں،تب مظلوموں کو انصاف اور بھلائی ملتی ہے،ورنہ دستور کی من مانی تشریح کر کے اپ کا گھر اپ سے چھین لیا جائے گا۔اپ کچھ نہیں کر سکتے۔

کورٹ میں وکیل مجرم کو بے گناہ اور بے گناہ کو مجرم ثابت کر دیتا ہے۔یہ اس کا فن ہے۔جو ناگ کے پھن سے زیادہ خطرناک ہے۔ایسے انسان نما سانپوں سے بھی بچنا بہت ضروری ہے۔

اے میری قوم! جمہوری ملک میں ساری قوت و طاقت اسمبلی اور پارلیامنٹ کے پاس ہوتی ہے۔جب تم اسمبلی اور پارلیامنٹ میں طاقت و قوت اور کثرت و اتحاد کے ساتھ رہو گے،تب ہی تمہارے حقوق تمہیں مل سکیں گے۔

سڑکوں پر احتجاج کرو گے تو ممکن ہے کہ تمہارا منہ بند کرنے تمہارے اگے چند ٹکڑے پھینک دیئے جائیں یا تمہارا شور و ہنگامہ بند کرنے تمہیں جیلوں میں بند کر دیا جائے۔اب تو مظاہرین کو دنیا سے رخصت کر دیا جاتا ہے۔ملک بدر کرنے کا رواج تو ہزاروں سال پرانا ہے۔اب دنیا بدر کرنے کی روایت بھی قائم ہوتی جا رہی ہے۔

بابری مسجد کا معاملہ ختم ہو چکا ہے۔اب متھرا،کاشی کا معاملہ اٹھا کر قوم مسلم کو الجھایا جائے گا اور تمہارے دانشوران اپنی ساری قوت اسی مسئلے میں خرچ کر دیں گے،کیوں کہ ان دانشوران و مفکرین کے طرز عمل سے میں واقف ہوں،اور دشمن کی چالوں سے بھی واقف ہوں۔

تم اسمبلی اور پارلیامنٹ سے غیر حاضر رہے اور سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق تمہاری حالت بھارت کی پسماندہ قوموں سے بھی زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔اب بھی نہ جاگے تو وہ دن دور نہیں کہ تم کو بھارت میں غلاموں سے بھی بدتر درجے میں لے ایا جائے۔

تمہاری انکھوں کے سامنے تمہارے بھائیوں کا قتل ہو اور تم کو اہ کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔تمہاری نگاہوں کے سامنے تمہاری بہن بیٹیوں کی عصمت دری کی جائے اور تم کو لب کشائی کی بھی ہمت نہ ہو۔تم کو تمہارے گھروں سے نکال کر دوسرے لوگ وہاں اباد ہو جائیں۔کہیں کوئی تمہاری داد رسی کرنے والا نہ ملے۔

اس کا واحد حل یہی ہے کہ بھارت کی تمام مظلوم قوموں کا پلیٹ فارم بام سیف (BAMCEF)ہے۔اس سے منسلک ہو جاو۔
سیاسی میدان میں بہوجن سماج کی سیاست کو اختیار کرو۔مسلم سیاست اختیار نہ کرو۔

کچھ لوگ متھرا،کاشی کا معاملہ بھی دیکھیں۔اگر سب لوگ ادھر چلے جاتے ہیں تو دشمنوں کا مقصد یہی ہے۔

اے قوم! گھبراو نہیں۔ان شاء اللہ تعالی فکر و تدبر سے نا اشنا مفکرین و دانشوران کے دانت کھٹے کرنے کے لئے میں محاذ سنبھال لوں گا۔تم میری بات پر غور کرو اور عملی اقدام کرو۔

ڈاکٹر اقبال جیسا دانشور و مفکر کہتا ہے کہ ہزاروں سال بعد دانشور پیدا ہوتا ہے۔تمہارے درمیان برساتی مینڈکوں کی طرح دانشوران و مفکرین کیسے ٹرٹراتے پھر رہے ہیں۔شاید شیر کی کھال پہن کر ۰۰۰۰۰۰ کی جماعت نکل پڑی ہے۔

شاعر مشرق نے کہا تھا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Related posts

امام احمد رضا اور عالمی جامعات

Hamari Aawaz Urdu

حضور تاج الشریعہ: ہمہ جہت شخصیت

Hamari Aawaz Urdu

کاغذی شیر غائب!!! معذرت کے ساتھ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں