Top 10 تاریخی سیاسی صفحہ اول قومی

پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیا گیا

تحریر: صدیقی محمد اویس، میراروڈ، ممبئی

آج اسکول میں پڑھا ہوا ‘جمہوریت’ کا سبق یاد آرہا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ یادیں بھی تازہ ہو رہی ہیں کہ ہمیں روزانہ صبح تمہید پڑھایا جاتا تھا۔ ان چند یادوں کے پیچھے ایک کہانی ہے۔۔۔۔ کہانی جمہوریت کی۔۔۔۔ کہانی سیکولرازم کی۔۔۔۔ کہانی آیئن کی۔۔۔۔ دستور کی۔۔۔

جمہوریت کی یاد یوں آئی ہم نے بچپن ہی سے سنا اور پڑھا کہ ہمارا ملک ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے اور تو اور جمہوریت کا بہترین نمونہ ہے۔ کیونکہ یہاں حق ہے انصاف ہے، شخصی آزادی ہے، سیکولرازم ہے، ہر کسی کو مساوی حقوق حاصل ہیں، امن و امان ہے، حکومت بھی عوام کے ذریعے چنی جاتی ہے، حکومت تمام فرائض عوام کے لئے انجام دیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تب سے لے کر آج تک یہی دیکھا کہ وہ جمہوریت جو ہم نے پڑھی سنی تھی اور جو گاندھی جی، مولانا آزاد، نہرو اور دیگر رہنماؤں کے دور میں ہوا کرتی تھی آج کہیں کھو سی گئی ہے ! اب ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ! ایسا میں نہیں کہہ رہا ہوں اور نہ یہ کوئی لفاظی ہے بلکہ یہ
The Economist Intelligence Unit
کا کہنا ہے۔ مذکورہ بالا ایجنسی آذادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیتی ہے اور ہر سال ایک انڈکس جاری کرتی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کس ملک میں جمہوریت کی کیا حالت ہے۔ اسے
Global Democratic Index
یا عالمی جمہوری فہرست بھی کہا جاتا ہے۔ ایجینسی 167 ممالک کا بھرپور تجزیہ کرکے سالانہ فہرست جاری کرتی ہے۔ یہ فہرست مندرجہ ذیل پانچ نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہے۔

۔۱) ملک میں انتخابی کثرتیت
۔۲) ملک کا حکومتی کام کاج
۔۳) ملک کا سیاسی کلچر
۔٤) ملک میں سیاسی شرکت
۔۵) ملک کی عوام میں شہری آزادی

وغیرہ نکات کے تحت ممالک کو اسکور اور رینک دیا جاتا ہے۔ اور پھر مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، خستہ حال جمہوریت اور آمرانہ حکومت وغیرہ قسم کی جمہوریت میں ممالک کی یکے بعد دیگرے سلسلہ وار طریقے سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اب ہندوستان کی بات کرتے ہیں۔۔۔ 2019 کے انڈیکس میں ہندوستان 6.90 اسکور کے ساتھ 51ویں مقام پر ہے جبکہ بہ نسبت 2018 کے 10 قدم نیچے گر چکا ہے۔ 2018 میں مع 7.23 41ویں مقام پر تھا یعنی محض ایک سال میں 10 پائدان پھسلا ہندوستان۔ تاریخ میں کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک خود اتنی تشویشناک حالت میں پہنچ جائے۔ 2006 میں اس انڈیکس کی ابتداء ہوئی تھی، تب سے لے کر آج تک کا ہندوستان کا سب سے بدترین انڈیکس ہے یہ۔ تو یہ حال ہے ہماری جمہوریت کا ! اورہمارے نیتا جو اپنے آپ عوام کا خیر خواہ اور سیاسی رہنما بتاتے ہیں وہ اپنی تقریروں میں لفظ جمہوریت اور سیکولرازم کا دھڑلے سے سہارا لیتے ہیں ! حالانکہ وہ جمہوریت کا مطلب نہیں سمجھتے اور شاید سمجھنا بھی نہیں چاہتے !

آج ہندوستان میں جمہوریت خستہ حال ہے۔
The Economist Intelligence Unit
کے مطابق ہندوستان کو ناقص جمہوریت میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ آج ملک میں جمہوری قدروں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ جس کی زندہ مثال جموں کشمیر کی عوام ہے جنہیں آئے دن فوج کے ذریعے کرفیوکی نذر کردیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے، بے گناہوں اور بے قصوروں کو جیل بھیجا جا رہا ہے، شہری آزادی پر بہت حد تک روک لگائی جا رہی ہے، سیکولرازم کے نام پر اکثریت اقلیت کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ نفرت کے بیج بوئے جارہے اور دنگے فسادات بھڑکانے کی گھناؤنی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں صرف اپنے مفاد کے لئے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔ ملک میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا جارہا ہے، حکومت کے خلاف بولنے اور تنقیدکشی کرنے والوں کو غدار اینٹی نیشنل قرار دیا جارہاہے اور ان پر سنگین الزامات عائد کرکے جیل بھیج دیا جارہاہے۔ جبکہ یہ کوئی گناہ نہیں ہے، ہمارا آیئن دفعہ 19 کے تحت اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہمیں آزادی حاصل ہے، بولنے کی آزادی، اظہار خیال کی آزادی وغیرہ۔ جمہوری ملک ہونے کے باوجود کئی پالیسیاں اور قوانین عوام کے خلاف بنائے جارہے ہیں جس سے عوام کو مزید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بقول نعمان شوق؂
_پھر اس مزاق کو جمہوریت کا نام دیا_
_ہمیں ڈرانے لگے وہ ہماری طاقت سے_

عاملہ، مقننہ، عدلیہ اور میڈیا ذرائع ابلاغ یہ جمہوریت کے چار ستون ہیں۔ لیکن آج یہ ستون ہی کمزور پڑ گئے ہیں۔ ہم Press Freedom Index کا جائزہ لے لیں تو پائیں گے کہ وہاں بھی ہندوستان اعداد و شمار کے اعتبار سے بہت نیچے گر چکا ہے اور دنبدن یہ اعداد و شمار گرتے جارہے ہیں۔ 12 جنوری 2018 کو عدالت عظمی کے چار سینیئر ججوں نے پریس کانفرنس کر یہ بتایا کہ عدلیہ کی حالت بھی تشویشناک ہے اور عدلیہ بھی حکومت کے دباؤ میں ہے، مزید یہ کہا کہ ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ اس پریس کانفرنس میں جسٹس چیلامیشور، جسٹس گوگوئی،جسٹس لیکور، جسٹس کورین جوزیف شامل تھے۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا عجیب و غریب واقعہ تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ کی بھی کیا حالت ہے !

ہمارے یہاں انتخابات ضرور ہوتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ فلاں نیتا نے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔۔۔ یا کئی ایم ایل ایز پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جا بیٹھے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی خود کی کوئی آئیڈیولاجی اور کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ وہ تو پیسوں کے لئے اپنا نظریہ بیچتے ہیں۔ یا پھر متعدد بار ایسا سننے کو ملتا کہ فلاں پارٹی سینئیر لیڈر نے پارٹی کی اعلی کمان یا پارٹی قیادت پر تنقید کر دی تو اس لیڈر کو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے یا اسکا اخراج ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں کانگریس کے دو معاملات منظر عام پر آ چکے ہیں۔۔۔ جیوتر آدیتیہ سندھیا اور سچن پائلٹ کا معاملہ۔ یہ تمام مسائل اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں روایتی جمہوریت کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کسی ایک خاندان کے ہاتھ میں ہے جو صدیوں سے چلتی آرہی ہے۔ کسی نئے لیڈر کو سامنے آنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ یہ جمہوریت ہے !

_آج کا دور روایتی جمہوریت کا دور ہے۔ سیکولرازم کا ڈھونگ چل رہا ہے محض دکھاوا ہورہا ہے۔_

آپ ازخود سوچ لیں، کیا یہ وہی ہندوستان ہے جسکا خواب 73 سال پہلے دیکھا گیا تھا ؟

ہرگز نہیں !
یہ وہ ہندوستان قطعی نہیں ہوسکتا !

خیر مسائل تو نکلتے ہی رہیں گے لیکن ضروری ہے کہ ہم حل تلاش کریں۔ بات جمہوریت کی ہے تو حل بھی جمہوری ہی ہونا چاہئے۔ جمہوریت یعنی ‘ حکومت رعایا کے ذریعے، رعایا کے لئے، رعایا کی۔’ جمہوریت میں عوام زیادہ اہمیت کی حامل ہے تو حل بھی عوام ہی نکال سکتی ہے۔ عوام کو چاہئے کہ وہ اصل سیکیولر نمائندے کو منتخب کریں جو اصل میں ان کے مسائل اٹھا سکے اور صحیح معنوں میں عوام کا ہمدرد بن سکے۔ ایسا ضروری نہیں ہے کہ ملک کے تمام سیاستدانوں کے ضمیر بک چکے ہیں۔ بلکہ اب بھی کچھ لوگ ہیں جو ایماندار ہیں دیانتدار ہیں اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانا جائے۔ تب کہیں جا کر ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا اور ایک بہترین جمہوری ملک کی تعمیر ہوگی۔

_اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش_
_ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے_
_جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں_
_بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے_

نوٹ : مضمون نگار سماجی سائنس کے طالب علم ہیں اور متعدد سماجی مسائل پر مضامین لکھتے رہتے ہیں۔

Related posts

النور انگلش سیریز کے حوالے سے ایک مہمیز آمیز تحریر

Hamari Aawaz Urdu

سرفرازی کی منزل

Hamari Aawaz Urdu

عصر حاضر میں مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی سے بے خبر کیوں؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں