بین الاقوامی تاریخی صفحہ اول ملی

مسئلہ فلسطین: یہود اور ان کے ہم نوا

تحریر: محمد عابد رضا برکاتی مصباحی
خطیب وامام: چشتیہ مسجد کدل واڑی پونہ

دنیا کا منظر نامہ بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے۔ ہر فرد اپنے کل کے بارے فکر مند اور ہوشیار نظر آرہا ہے۔ دنیوی معاشیت و معیشت ڈوب رہی ہے۔ایک عام آدمی جہاں نان شبینہ کا محتاج نظر آرہا ہے وہیں ہزاروں ایسے افراد ہیں جو بھوک و پیاس سے بلبلا رہے ہیں اور ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں۔ایسے نازک موڑ پر کچھ ظالم قومیں اپنے مفاد پرستی کے جن کو بوتل سے باہر لا رہی ہیں اور انہوں نے سینکڑوں برس پرانے اپنے خواب کو پورا کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہ قوم جو اپنے ظلم و ستم کی وجہ کئی مرتبہ تباہ ہوئی اور ابھری وہ قوم آج اس قوم کا گلا کاٹ چکی ہے جب وہ ہٹلر کی نسل کشی سے بچ کر فلسطین کی ساحل سمندر پر آکر لنگر انداز ہو ئی اور ایک ایک لقمے کی بھیک اہل فلسطین سے مانگی تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں نے انسانیت کی حفاظت لئے اپنے گھروں کو کھول دیا اور چیختے بلکتے یہودیوں کو اپنے علاقے میں جگہ دی ان کے ڈوبتے سفینوں کو بچایا، یا یوں کہہ لیں کے انہوں نے سانپوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی۔ اور اس طرح فلسطین کی مقدس سر زمین پر یہودیوں نے پیر جمائے اور ایسے جمائے کہ دھیرے دھیرے وہی یہود ی آل سعود اور شیعوں کی سر پرستی میں اپنی بستیاں ہی نہیں بلکہ اپنا ملک بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور وہ فلسطین جس نے انہیں پناہ دی تھی اس کا وجود دھیرے دھیرے ختم کرنا  شروع کر دیا گیا۔ جس کے لئے آل سعود اور کسریٰ کی خفیہ اولادیں روافض نے ان کا ساتھ دیا اور وہ دن ہے کہ فلسطین کی سر زمین پر لاکھوں لوگوں کو قتل کر دیا گیا،لاکھوں کی تعداد میں تباہ وبرباد کر دئے گئے اور بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی مٹا دی گئیں اور وہاں یہود ی بستیاں بسا دی گئیں۔ فلسطین کے صدر جناب یاسر عرفات کو سلو پوئزن کے ذریعہ خاموشی سے ختم کر دیا گیا۔ اور اب معاملہ یہاں آکر ختم ہوا کہ آج عالمی نقشہ سے اس مقدس ملک کا نام ہمیشہ کے لئے غائب کر دیا گیا۔ اگلا مشن مسجد اقصیٰ ہے اور جلد ہی دنیا دیکھے گی کہ بیت المقدس یعنی قبلہ اول بھی یہود کے ظلم کا شکا ر ہو کر یہودی معبد میں تبدیل ہو گیا ہے۔(حالانکہ ابھی فلسطین کے زندہ دل عوام زندہ ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنے بدن میں خون کے آخری قطرہ رہنے تک آرام سے بیت المقدس کوان یہودیوں کو دے دیں گے)

                ادھر روافض جسے دنیا شیعوں کے نام سے جانتی ہے انہوں نے بھی بلوں سے منہ باہر نکالنا شروع کر دیا ہے۔آج روافض کی جڑی اتنی ہی مضبوط ہیں جتنی یہود کی اور دونوں کا مطمع نظر ایک منزل ایک مقاصد ایک بلکہ ایک اعتبار سے یہود سے خطرناک ہے۔

                اس وقت عالمی سطح پر اضطراب و تجسس کا ماحول ہے ایک طرف جہاں بابری مسجد کی زمین پر مندر کی تعمیر شروع ہونے والی ہے جس کے لئے حکومت ہند نے اپنی بالا دستی سے ساری تیاریاں مکمل کر لیں ہیں اور یہ اس حد تک مضبوط ہیں کہ صدیوں تک اس یادگار کو باقی رکھا جائے بلکہ حکومت نے رام مندرکی بنیادوں میں ٹائم کیپسول رکھنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ آنے والے وقت میں پھر کبھی اگر یہاں بندگان توحید اپنا حق مانگنے کھڑے ہوں تو دنیا کو یہ زمینی دستاویز نکال کر دکھایا جا سکے اور یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ جگہ صدیوں سے ہماری ہے۔ وہیں ترکی میں ۶۸ سال بعد آیا صوفیا کا وقار بہال ہوا ہے اور اب پھر اسے ۶۸ سال بعد اپنا کھویا ہوا تقدس واپس ملا ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ دونوں کے پہلو مختلف اور فیصلے کے پہلو جدا گانہ ہیں۔ ایک طرف جہاں سراسر انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر عقیدت کی بنیاد پر قانون کا خون کیا گیا، وہیں دوسری جانب قانون نے تمام تر مذہبی اور معاشرتی و قانونی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد انصاف کو زندہ رکھا ہے۔ یہ دو الگ الگ حادثے ہیں جو الگ الگ ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر عقیدت کا محور ایک ہے کہ ان فیصلوں سے پوری دنیا پر اثر پڑا ہے۔ایک طرف جہاں یہ مذہبی فیصلے موضوع بحث ہیں وہیں دنیا کے باشندے سوائے چندکے ایک عظیم یلغار سے بالکل نابلد ہیں۔ اس سے پہلے میں یہ بات بیان کر چکا ہوں کہ کورونا کا خوف دنیا پر مسلط کرنے کے بعد یہودی دنیا اس وقت اپنے ناپاک عزائم میں سر گرم ہے۔ فلسطین کو دنیا کے نقشے سے ایسے وقت میں غائب کیا گیاہے جب کہ ہر چہار جانب کورونا، لاک داؤ ن جاری ہے۔ بلکہ کورونا لاک ڈاؤن کا مقصد ہی یہی تھا کہ دنیا کو لاک کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں تاکہ کہیں سے بھی صدائے احتجاج بلند نہ ہو سکے۔ اب وہ وقت بھی قریب ہے کہ کسی دن دنیا میں یہ خبر گردش کر رہی ہو گی کہ آج بیت المقدس قبلہ اول کو یہودیوں نے اپنے معبد میں تبدیل کر دیا ہے اور مسلمانوں کا وہ توحیدی مرکز جو ہزاروں سال سے انبیاء کرام کی یادوں کا محور تھا مسلمانوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔(خدا کرے ایسا نہ)۔

                جہاں یہود شب وروز اپنے غلط مقاصد و نظریات کے حصول میں لگے ہوئے ہیں وہیں انہوں نے اپنے پروردہ نام نہاد مسلم یہودیوں کو اس کام پر لگا دیا ہے اب وہ ان کا ہر اس جانب سے دفع کریں جہاں سے مسلمانوں کے آنے کا امکان ہو جہاں یہود و نصاریٰ اپنے پیغمبروں کو خدا کاشریک یا خدا بنا کر پیش کر رہے ہیں،وہیں روافض بھی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شان میں وہ سب کہہ رہے ہیں جو زبان پر آرہا ہے بلکہ نصاریٰ سے چار قدم آگے بڑھ کر بولی بول رہے ہیں۔ نصاریٰ نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ!اللہ رب العزت کا بیٹا کہا رافضیوں نے ان سے چار قدم آگے بڑھ کر حضرت علی ہی کو اللہ کہہ دیا کہا ہی نہیں بلکہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں بلکہ یہاں تک یہ جرأت بڑھی کہ معا ذاللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اللہ کو اللہ کا خالق اور مالک کہہ دیا بلکہ سب کچھ علی المرتضیٰ کو کہہ ڈالا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دی جارہی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ ساتھ ازواج مطہرات ابنات کریمہ بھی نشانے پر ہیں۔ اور اس میں اتنی شدت برتی جا رہی ہے کہ اگر کوئی مسلمان عقائد صحیحہ بیان کرے تو اس کونشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اس وقت عالمی طاقت اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جس تیزی کے ساتھ اہل سنت میں پھوٹ دال رہی ہے یہ سب یہود مشن کی ایک جھلک ہے۔ جس کا جیتا جاگتا ثبوت ہمیں پڑوسی ملک پاکستان میں دیکھنے کو ملا۔

                مجھے ایسے موقع پر ایک بات بار بار یاد آرہی ہے اب سے چند سال قبل بی جے پی کے وزیر سبراہمن سوامی کا بیان اخبارات میں چھپا تھا  جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو شیعہ سنی اور دیوبندیوں میں لڑایا جائے گا اس وقت اس خبر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی اور نہ کسی نے اس جانب غور کیا۔ مگر اب غور کرنے کے بعد جو نتیجہ سامنے ہے وہ یہ کہ سوامی اپنی زبان نہیں بول عرہے تھے بلکہ وہ آنے والے وقت میں یہود کے عزائم بیان کر رہے تھے۔ اور اب جب کہ روافض اپنے اصل رنگ و ڈھنگ میں نکل کر سامنے آگئے ہیں اہل ایمان کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اس مصیبت سے اپنی خانقاہوں اپنے علماء اور اپنی عوام کو کیسے بچایا جائے۔ چونکہ یہود سے دنیا واقف تھی اس لئے ان سے اتنا خطرہ محسوس نہیں کیا گیا شیعہ و روافض جو کہ حب اہل بیت کا کالا لبادہ اوڑھے بیٹھے تھے ان کو سمجھنے میں دنیا چوک گئی۔چونکہ مسلمان اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت اور ان کے اصحاب سے ٹوٹ کر محبت کر تے ہیں اور ان کی محبت کے سامنے وہ کسی کی پرواہ بھی نہیں کرتے اس لئے یہود نے کالے لبادے میں روافض کا گروہ اہل ایمان کے درمیان میں پیدا کیا تاکہ اپنے مقاصد میں اچھی طرح کامیابی حاصل کی جا سکے اور اسلام کو نیست نابود کیا جا سکے جس کے لئے یہود و روافض نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے یہاں تک کہ آک وہ ان مقاصد میں کامیابی کے لئے کسی بھی حد کو پار کر جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا نام دنیا کے نقشہ سے مٹانے کے بعد چند ایک حادثے ایسے ہوئے جہاں لوگوں کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ فلسطین کے دنیا کے نقشے سے غائب کرنے کے بعد لبنان کی سر زمین پر دوسرا جاپانی حادثہ دوہرایا گیا آج لبنان کی بندرگاہ کو ایٹمی بم سے تباہ کر دیا گیا ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں کی تعداد میں موت و زیست کی منزل میں ہیں۔ اس بم دھماکے کو اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکات ہے کہ فلسطین پر قبضہ کر نے کے بعد لبنان کی طرف اسرائیل کی ناپاک نگاہیں اٹھ گئیں ہیں ابھی یہ ایک حادثہ ہے آنے والے وقت میں لبنان کے ساتھ کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔چونکہ لبنان تجارتی اعتبار سے مضبوط ہے اور دنیا بھر میں اس کی مطبوعہ کتابیں پہنچ رہی ہیں،ایسے وقت میں اسرائیل کب چاہے گا کہ مسلمانوں کا یہ عظیم سرمایہ دنیا تک پہنچے۔ لبنان کے بعد جدہ میں بم دھماکہ اور آگ اور پھر دبئی کی بازار میں آگ زنی یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔ اب جب کہ یہودی مظالم اپنے عروج پر ہیں عرب امارات نے اسرائیل کا وجود تسلیم کر لیاہے نہ صرف تسلیم کیابلکہ برج الخلیفہ پر اسرائیل پرچم بھی پھہرایا گیا اور علی الاعلان اس کی بالا دستی کو قبول کر لیا گیا ہے جس سے دنیاء کفر و الحاد میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ وہیں ترکی نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور صاف لفظوں میں کہا ہے کہ یو اے آئی کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ترکی وزارت خارجہ نے کہا ہے متحدہ عرب امارات نے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے اور اس کے اس منافقانہ رویہ کو تاریخ فراموش نہیں کر سکتی۔ وہیں فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ ہم متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائلی معاہدے کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے سینئر مشیر جناب نبیل ابو الدین نے کہا ہے کہ فلطینی قایدت متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے سہ فریقی معاہدے کو مسترد کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ یہود و نصاریٰ نے اسلام کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کی پوری پلانگ کر لی ہے۔ وہی بنام اسلام اکثر ممالک میں اپنی حکمرانی بچانے کے چکر میں یہودو نصاریٰ کی غلامی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں۔حالیہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیلی معاہدے پر جہاں اسلامیان عالم کے کان کھڑے ہو گئے ہیں وہیں کچھ مردہ ضمیر مسلم ممالک کے سربراہان نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ آل سعود ان کے اشارہ پر رقص کر رہی ہے۔ نجد کی لیلہ ان کے اشارۂ انگشت پر ناچ رہی ہے، ایران، عراق، شام،لیبیا لبنا ن ان کے زیر اثر ہے ریاست مدینہ پاکستان پر ان کا کنٹرول ہے۔ ہندی حکومت ان کے اشارۂ ابرو پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودو روافض جہاں جیسا چاہتے ہیں فیصلہ کرا رہے ہیں اس پر آسوب دور میں یہود ورفوافض کی چالوں سے کس اس طرح نکلا جائے کہ ہمیں اپنے علما و عوام و خانقاہوں پر سخت نظر رکھنی ہوگی۔

Related posts

خلفاے راشدین سے منسوب روایات کا تحقیقی جائزہ

Hamari Aawaz Urdu

فتنوں کا ظہور  اور اہل حق کا جہاد

Hamari Aawaz Urdu

منقبت در شان حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں