Top 10 صفحہ اول مذہبی ملی

اخوت و بھائی چارگی اسلام کی نظر میں

تحریر۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی
رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی
رابطہ نمبر۔ 9007124164

مکرمی
حضرت انسان کو اللہ تعالی نے ساری مخلوقات میں ایک خاص امتیاز عطا فرمایا ہے ۔یہ ساری مخلوقات میں اللہ تعالی کی قدرتوں کا سب سے بڑا مظہر ہے۔
لیکن انسانوں میں جس قدر اختلاف ہیں ان کو دور کرنا اور سب کو ایک کردینا نہ تووطن کی بس کی بات ہے اور نہ ہی ہم اپنے زبان و بیان اور تحریک کے ذریعے دور کرسکتے ہیں۔کیونکہ ایک وطن میں الگ الگ بولیاں بولنے والے ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ در حقیقت یہ طاقت اگر ہیں تو صرف دین اسلام میں ہی ہے ۔ اور اسلام اپنی رسی میں ہر وطن اور ہر زبان کے انسانوں کوپروکر سب کو ایک کر سکتا ہے چنانچہ ہر مسلمان کے لئے پوری دنیا میں ایک ہی رسی ہے وہ ہے ” لَاِ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ،” دوسری جگہ قرآن مجید میں اللہ ربّ العزت کا ارشاد گرامی ہے “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو” اب جو جو اس رسی کو مضبوطی سے تھامے گا چاہے وہ گورا ہو یا کالاعربی ہو یا عجمی چاہے وہ کسی بھی ملک کاہواس رسی کو پکڑتے ہی وہ جملہ مسلمانوں کا بھائی ہو جایا کرتا ہے۔
نسبی بھائی سے زیادہ مضبوط رشتہ دینی واسلامی رشتہ ہے جو اسلامی و دینی رشتہ کے اعتبار سے آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اور ہو بھی کیوں نہ جبکہ قران مقدس کے سورہ حجرات میں بھی فرمان عالیشان ہے ” اِنَّمَاالۡمُوۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ” بے شک مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں آپسی محبت الفت وپیار بہت زیادہ پائی جاتی ہیں ۔اس میرے دعویٰ پر تاریخ شاہد ہے ۔” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اسلام کی محبت اور آپ کے عشق میں ہجرت کرنے والوں میں بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین بھی تھے ان کے پاس نہ رہنے کے لئے گھر تھا نہ ہی زندگی بسر کرنے کے لئے ضروریات زندگی کے سازو سامان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں کو جمع کیا اور حکم دیا کہ یہاں جتنے بھی مکہ سے آے ہوئے میرے صحابی ہیں تم میں سے ہر کوئی ایک ایک کو اپنا بھائی بنا لے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی سبھوں نے ایک ایک شخص کو لیا اور اپنا بھائی بنا لیا اسکے بعد گھر پہنچ کر سارے سازو و سامان کو یکجا کیا اور اسے دو حصوں میں رکھا ایک حصہ خود کے لۓ رکھا اور دوسرا حصہ اپنے بھائی کو سپرد کردیا۔ دینی محبت اس قدر غالب تھی کہ ایک شخص کے پاس چار بیویاں تھیں اس شخص نے عرض کیا کہ ” یا رسول اللہ صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہمارے پاس چاربیوی ہیں کیا میں ایک بیوی اپنے اس بھائی کو دے دوں تو حضورِ اکرم صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ میری شریعت میں جائز نہیں ہے ۔
اسلامی اخوت کی اہمیت اور بھائی چارگی کا بے مثال واقعہ
مدینہ منورہ میں ست گھرا محلہ تھا ۔ یہ لوگ بڑے غریب اور مسکین تھے ہر ایک گھر میں مفلسی اور فاقہ کشی کی نوبت تھی ۔ ایک دن اتفاقاً ان میں ایک کے گھر میں بکرے کی سری کا تحفہ آیا باوجود اس کے کہ یہ لوگ خود فاقہ سے تھے لیکن اس خیال سے کہ ھمارا ہمسایہ ( پڑوسی ) ہے کہ یہ ہم سے ذیادہ بھوکا ہو گا اگر وہ بھو کا رہا تو قیامت میں خدا کو ہم کیا جواب دیں گے ۔ اسی وقت وہ تحفہ ہمسایہ کے گھر بھیج دیا جب یہ تحفہ دوسرے گھر میں پہنچا تو وہ بھی اسی طرح خدا ترس لوگ تھے انہوں نے اپنے ہمسایہ کے فاقہ کا سوچ کر وہ تحفہ اپنے ہمسایہ کو بھیج دیا ۔ تیسرے گھر میں یہ تحفہ پہنچا تو انہوں نے بھی اسی خیال سے بغل والے اپنے ہمسائے کے گھر میں یہ تحفہ بھیج دیا پھر انہوں نے بھی چو تھے گھر میں بھیج دیا۔چوتھے گھر والوں نے پانچویں گھر میں۔انہوں نے چھٹے میں۔اور چھٹے گھر والوں نے ساتویں گھر میں بھیج دیا۔ اور اس طرح اس کے بعد ساتویں گھر والوں نے اسی جذبہ خدا ترسی اور اسلامی اخوت کے خیال سے وہ تحفہ اپنے ہمسائے کے گھر میں بھیج دیا اور یہ ہمسائے وہی پہلے گھر والے تھے جنہوں نے اس ایثار کی ابتدا کی تھی یعنی وہ تحفہ پھرتا پھراتا جہاں سے چلا تھا پھر وہیں آگیا۔دیکھا آپ نے۔
مگر افسوس صد افسوس فی زمانہ دور دور تک کہیں ایسی مثالیں نظر نہیں آتیں آج سب خود میں پریشان حال ہے کہ کس کو بے وقوف بناکر اور کس کے سر پر ٹوپی پہنا کر اپنی جیب بھری جائے ہمہ وقت یہی فکر ستاتی رہتی ہے ۔ آج خود غرضی والی دور میں کسی پر اعتماد کرنا بہت مشکل اور کٹھن ہوچکا ہے۔مالک اپنے رعایا پر، گاڑی اونر اپنے ڈرایئور پر ،دکاندار اپنے ملازم پر ، ماں باپ اپنی اولاد پر ، بھائی اپنے بھائی پر، استاد اپنے شاگرد پر ،امام اپنے مقتدی پر،شوہر اپنی بیوی پر وغیرہ وغیرہ اس قسم کی بہت ساری مثالیں دی جا سکتی ہیں اور ہاں آج کوئی بھی کسی کی مدد بھی کردے تو مدد کرنے والے کے دل میں یہ خواہش رہتی ہے کہ یہ شخص زندگی بھر احسان مند بنا رہے معاشرے میں امراء و رؤسا کا ایسا دبدبہ ہے کہ چلتے پھرتے اگر انکی کسی کی طرف توجہ نہ بھی ہو تو کچھ لوگ اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے سلام بھی بڑی زور سے پیش کرتے ہیں ۔ امیر کا بچہ کالا کیوں نہ ہو معاشرہ میں سب کوئی اس بچے کو پیار کرتے ہیں اور وہی غریب کا بچہ گورا رہنے کے باوجود اس کو کوئی پیار کرنے والا نظر نہیں آتا۔ کیا یہی اسلام کا درس ہے ؟آخر اسکے وجوہات کیا ہیں؟ میری ناقص عقل کا تجربہ یہ ہے کہ شریعت کی ناواقفیت کیوجہ سے ہی ایسا ہے ۔ ھمارے پاس ڈھیروں علم تو ہیں لیکن دینی علم سے ہم نا بلد ہیں ۔ آج اکثر و بیشتر مدد اسی کی کیجاتی ہے جسکی معاشی حالات ٹھیک ٹھاک ہو۔
بسا اوقات اسی لوکڈاون میں غریبوں کی امداد وتقسیم اجناس کے مناظر کی تصویرکشی کر کے ان اخبارات ، نیوز چینلوں اور دیگر سوشل میڈیا پر فراخدلی کے ساتھ وائرل کرتے نہیں تھکتے پھر اس طرح مہینوں بھر واہ واہی حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمارا اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ” دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو” ۔اور کیوں ؟ ہمارے لئے ہمارے نبی و اولیا کرام وصلحاے عظام اور بزرگان دین کا طریقہ کیا کافی نہیں ہے؟ ضرور ہے شرط یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔اللہ ربّ العزت ہمیں اسلامی اخوت و بھائی چارگی کو قائم رکھتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وہ مسلمان کہاں اگلے زمانے والے
گردنیں قیصر و کسریٰ کی جھکانے والے۔
بھوکے رہتے تھے خود اوروں کو کھلا دیتے
ایسے صابر تھے محمد کے گھرانے والے۔

Related posts

قربانی یا ضرورت مندوں کی مدد

Hamari Aawaz Urdu

خاص تھےپر عام جیسے ہوگئے

Hamari Aawaz Urdu

قربـــانی

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں