Top 10 صفحہ اول مذہبی

فضائل محرم وعاشورا ایک نظر میں

از: محمد لقمان ابن معین الدین سمناکے شافعی
صدر مدرس: مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور رتناگیری مہاراشٹر

ٰاسلامی نئے سال کی ابتدا ماہ محرم الحرام سے ہوتی ہےاور انتہا ماہ ذی الحجہ پر ہوتی ہے۔دونوں ہی مہینے بابرکت اورفضیلت والے ہیں ۔ایک طرف ماہ ذی الحجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل کی بے مثال قربانی کے لئے مشہور ہے تو دوسری طرف ماہ محرم الحرام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی وجہ سے امتیازی شان رکھتا ہے۔دونوں ہی مہینوں کا تعلق اشہر حرم سے ہے۔ماہ محرم کی نسبت حدیث پاک میں اللہ تعالی کی طرف کی گئی ہے۔یعنی ماہ محرم کو شہراللہ کہا گیا ہے۔نیز ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی طرح ماہ محرم کا پہلا عشرہ بھی متعدد فضائل وخصائل کا حامل ہے۔اسی وجہ سے علامہ ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاہےکہ سلف صالحین تین عشروں کی بڑی تعظیم کرتے تھےان میں سے ایک محرم کا پہلا عشرہ بھی ہے۔
(📚الفتاوی الکبری ج۱ص۸۰)

یوم عاشورہ
عاشورہ کے نام رکھنے کے سبب میں علماء کا اختلاف ہے۔اس کی وجہ مختلف طور پر بیان کی گئی ہے۔اکثر علماء کا قول ہے کہ چوں کہ یہ محرم کا دسواں دن ہوتا ہے اس لئے اس کو عاشورہ کہا گیا۔بعض کا قول ہے کہ اللہ تعالی نے جو بزرگیاں دنوں کے اعتبار سے امت محمدیہ کو عطا فرمائی ہیں اس میں یہ دن دسویں بزرگی ہے اس مناسبت سے اس کو عاشورہ کہتےہیں۔
عاشورہ کی فضیلت
حضرت ابن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اس دن میں اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطاکیا۔ہم اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کا روزہ رکھتے ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قریب ہے۔چنانچہ آپ نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
(مکاشفۃ القلوب ص ۶۹۸)
یوم عاشورہ کے فضائل میں بکثرت روایات آتی ہیں اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی،اس دن ان کی پیدائش ہوئی،اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اسی دن عرش،کرسی،آسمان،زمین،سورج،چاند،ستارے،اورجنت پیدا ہوئے۔اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کوآگ سے نجات ملی۔اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی اور فرعون اور اس کے ساتھی غرق ہوئے اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وہ آسمان پر اٹھالیے گئے۔اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مقام پر اٹھا لیا گیا۔اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کوعظیم سلطنت عطا ہوئی اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس ہوئی۔اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور ہوئی۔اسی دن زمین پر آسمان سے پہلی بارش ہوئی۔
(مکاشفۃ القلوب ص۶۹۹)
اور اسی دن امام حسین رضی اللہ عنہ کو بمع شہزادگان ورفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشت کربلا میں انتہائی سفاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
محرم الحرام کے پہلے عشرے کے روزے
ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی طرح محرم کےپہلے عشرہ یعنی ایک سے دس تاریخ تک روزے رکھنا سنت موکدہ ہے بلکہ پورے مہینے کے روزے رکھنا سنت ہے جیسے کہ شیخ ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ پہلے عشرہ محرم کے روزے رکھنا سنت موکدہ بلکہ پورے مہینے کے روزے رکھنا سنت ہےجیسا کہ اس پر احادیث دلالت کرتی ہیں۔
(الفتاوی الکبری ج۱ص۷۹)
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔
(مسلم شریف حدیث نمبر ۱۹۸۲)
یوم عاشورہ کے احکام
بعض لوگوں نےعاشورہ کے دن بارہ کام یعنی نمازپڑھنا،روزہ رکھنا،صلہ رحمی کرنا، صدقہ کرنا،غسل کرنا،سرمہ لگانا،عالم کی زیارت کرنا،مریض کی عیادت کرنا،یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا،اہل وعیال پروسعت کے ساتھ خرچ کرنا،ناخن کاٹنااور سورہ اخلاص ایک ہزار مرتبہ پڑھنا نقل کیے اور اور ان کاموں کو اس دن عبادت اور باعث ثواب قرار دیا ہے۔ان کاموں میں دوکاموں کےعلاوہ بقیہ کےبارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔یعنی روزہ رکھنا،اوراہل وعیال پروسعت کے ساتھ خرچ کرنا بقیہ کاموں کی کوئی حقیقت نہیں چنانچہ علامہ زین الدین ملیباری علیہ الرحمہ اپنی کتاب فتح المعین میں نقل فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن سرمہ وخوشبو لگانے اور غسل کرنے کے سلسلے میں جو احادیث منقول ہیں وہ جھوٹے لوگوں کی وضع کردہ ہیں۔ (فتح المعین مع اعانۃ ج۲ص۳۰۱)

عاشورہ کاروزہ
دس محرم جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہےاس دن روزہ رکھنا مستقل ایک سنت ہے اس لیے کہ آپ ﷺ کا اس دن روزہ رکھنے کا معمول تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کا روزہ رکھتے اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
(بخاری حدیث نمبر ۱۷۵۹)
نیز یہ روزہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کے معافی کا ذریعہ ہے۔ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عاشورہ کے روزے کے ثواب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(مسلم،حدیث نمبر ۱۹۷۷)
آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں صرف دس تاریخ کا یہ ہی روزہ رکھا تھاالبتہ جب آپ آخری عمر میں آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا تھا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔
(مسلم، حدیث نمبر ۱۹۱۷ )
لیکن آپ ﷺ روزہ رکھنے سے پہلے ہی دنیا سے رحلت فرماگئےاور آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھاکہ تم اہل کتاب کی مخالفت کرواور عاشورہ سے پہلے یا بعد میں ایک روزہ رکھا کرو
(سنن کبری،حدیث نمبر ۸۱۸۹)
مذکورہ احادیث سے علماء نے نو تاریخ کو بھی روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے تاکہ اہل کتاب کی مخالفت ہو جائے۔اسی وجہ سے جو نو تاریخ کو روزہ نہ رکھ سکے وہ گیارہ کو رکھے۔لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک روزہ پر اکتفاکرنا چاہے تو بھی اس کی بھی گنجائش ہے۔چنانچہ صاحب فتح المعین علامہ زین الدین مخدوم ملیباری علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الام میں فرمایاکہ صرف عاشورہ کے روزے پر اکتفا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح المعین مع اعانہ ج۲ص۳۰۱)
البتہ علامہ خطیب شربینی رحمۃ اللہ علیہ نے عاشورہ کے ساتھ ایک روزہ مزید رکھنے کی وجہ یہ نقل فرمائی ہے۔کہ اس روزہ کو احتیاطاً رکھاجائے کیوں کہ ممکن ہے تاریخ میں تقدم ہوئی ہو۔
(مغنی المحتاج ج۲ص۱۹۹)
اس لیے دو روزے رکھے جائے تاکہ تقدیم وتاخیر کی صورت میں یقینی طور پر یوم عاشورہ کا روزہ حاصل ہو جائے۔نیز اس روزے کے ساتھ اگر کوئی شخص رمضان یا اس کے علاوہ کسی فرض روزہ کی نیت کرے تو اس کو عاشورہ کے روزہ کے ثواب کے ساتھ قضا روزہ بھی حاصل ہوجائے گا۔لیکن صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کا جو ثواب ہے اس سے کم ملےگا۔
(حاشیتہ الجمل ج۳ص ۴۷۰)

عاشورہ کے دن صدقہ کرنا
نفل صدقہ کرنا ہر دن سنت ہے لیکن اچھی جگہوں اور اچھے موقعوں پر صدقہ میں کثرت کرنا سنت ہے۔علامہ خطیب شربینی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ رمضان میں اور افضل جگہوں اور افضل موقعوں پر صدقہ کرنے میں کثرت کرنا سنت ہے۔
(الاقناع مع تحفۃ الحبیب ج۲ص۳۲۲)
اسی اعتبار سے دیگر افضل ایام کی طرح اس دن بھی صدقہ کرنا مستحب معلوم ہوتا ہے۔
عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر وسعت کے ساتھ خرچ کرنا
دس محرم کے دن اپنے اہل وعیال پر ایام عید کی طرح وسعت کے ساتھ خرچ کرنا اور اچھا سے اچھا کھانا پکانا شرعاً جائز ہے اور باعث ثواب بھی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائے گا۔
(معجم طبرانی،حدیث ۱۰۰۰۷)
عاشورہ کے وظائف
علامہ اجھوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص عاشورہ کے روز ۷۰مرتبہ حَسبِیَ اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ نِعمَ المَولٰی نِعمَ النَّصِیرُ پڑھے گا وہ ایک سال اللہ کی حفاظت میں رہےگا۔
(خصائص الایام والاشہر ص ۱۶۵)
اللہ تبارک وتعالٰی ہم سب کو عاشورہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے اور عاشورہ کو شریعت کے مطابق گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

Related posts

نعت رسول: گیے ہوئے دن کو عصر کیا یہ تاب و تواں تمھارے لئے

Hamari Aawaz Urdu

لڑکیوں نے ماری بازی ؟

Hamari Aawaz Urdu

لاک ڈاؤن ، مہنگائی اور بے رحم حکومت

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں