Top 10 بین الاقوامی صفحہ اول ملی

امارات-اسرائیل معاہدہ: حقائق کے آئینے میں

تحریر: غلام مصطفیٰ نعیمی
جنرل سیکرٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

کبھی عربوں کے لیے اچھوت رہا اسرائیل اب ان کا تجارتی شراکت دار اور حلیف بنتا جارہا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے “امن معاہدہ” کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کے لیے مظلوم فسلطینی نہیں،تجارتی مفاد زیادہ عزیز ہیں۔ اس معاہدے کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں پر اپنی ناجائز بستیوں کا تعمیراتی منصوبہ ترک کر دے گا۔ حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو  نے کہا ہے کہ: “انہوں نے فی الحال ویسٹ بینک(غرب اردن) پر قبضے کے منصوبے کو مؤخر کردیا ہے لیکن اس منصوبے سے جڑے دستاویز میری میز پر رکھے رہیں گے”۔

اس بیان کے ذریعے اسرائیل نے صاف کردیا ہے کہ وہ اپنی جارحیت سے وقت طور پر رکا ہے باز نہیں آیا، ابھی تو عربوں کو جھانسہ دینے کے لیے وقتی طور پر اپنے منصوبے کو مؤخر کیا ہے لیکن موقع دیکھتے ہی پھر سے شروع کردیا جائے گا۔

1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے غرب اردن(west Bank) پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہیں زمینوں پر اسرائیل غیر قانونی طریقے پر اپنی بستیاں تعمیر کررہا ہے۔ اب تک تقریباً 140 یہودی بستیاں تعمیر ہوچکی ہیں جن میں قریب 6 لاکھ یہودی آباد ہیں۔
اسرائیلی بستیاں فلسطین کے بیچو بیچ جگہ جگہ آباد ہیں۔ ہر دو فلسطینی بستیوں کے بیچ یہودی بستی آباد ہے۔اسرائیلی فوج ان بستیوں کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔ عام فلسطینی ان علاقوں میں داخل بھی نہیں ہوسکتے اس طرح سے فلسطینی اپنے ہی علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے مجبور رہتے ہیں اور قید وبند جیسی زندگی گزارتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں، اقوام متحدہ سمیت تمام ممالک انہیں غیر قانونی مانتے ہیں لیکن یہ محض دکھاوا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس سازش میں پوری مغربی دنیا شامل ہے۔ بغیر ان کی شہ کے اسرائیل ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا۔ ایسا نہیں ہوتا تو اب تک اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی لیکن اسرائیل کے خلاف صرف مذمتی قرارداد پیش کرکے پلّہ جھاڑ لیا جاتا ہے اور عیش پرست عرب حکمران اسی سے مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن میں آباد یہودی بستیوں میں شرح پیدائش فلسطینیوں سے دوگنا ہے، عام فلسطینی عورتوں میں شرح پیدائش 3.2 ہے جبکہ یہودی آبادی میں یہ شرح 7.59 تک پہنچ جاتی ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت شرح پیدائش بڑھائی جارہی ہے تاکہ یہودی آبادی فلسطینیوں کے برابر کی جاسکے۔

___ امارات-اسرائیل معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ معاہدہ ہوا تو فلسطین کے نام پر ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی کو سرے سے بات چیت میں شامل تک نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے کو فلسطینی اتھارٹی نے “پیٹھ میں خنجر مارنا” قرار دیا ہے۔ فلسطین کے سینئر افسر حنان اشراوی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تجارتی تعلقات کو لیکر اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔
یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایما پر ہوا ہے۔ حالانکہ پہلے ہی امارات کے اسرائیل سے خفیہ مراسم قائم تھے لیکن اب ٹرمپ کے اشارے پر حیا کا رسمی پردہ بھی اٹھا دیا گیا۔ ٹرمپ نے ہی سب سے پہلے اس معاہدے کا اعلان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا تاکہ اس کے ذریعے ان کی گرتی ہوئی شبیہ کو سنبھالا مل سکے اور صدارتی انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔اس معاہدے سے فلسطینی کاز کو رتّی بھر بھی فائدہ نہیں ملے گا ہاں اس معاہدے سے امارات کو تجارتی، سائنسی اور دفاعی امور میں فوائد ملنے کے امکان ہیں جبکہ اسرائیل کو امارات کے روپ میں ایک بڑی منڈی ہاتھ آئے گی جہاں وہ اپنے ہتھیار ، جاسوسی آلات اور دیگر تجارتی ساز وسامان فروخت کر سکے گا۔ معاہدے کے بعد اسرائیل کو امید ہے کہ دیگر مسلم ممالک بھی اسے تسلیم کریں گے۔ مصر اور اردن جیسے مسلم ملکوں نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ ترکی، ایران اور پاکستان جیسے ممالک نے اس معاہدے کو منافقت اور فلسطین کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔

___اس معاہدے کا ایک زاویہ نظر یہ بھی ہے کہ عرب حکمران اب یہ مان چکے ہیں کہ اسرائیل کا وجود ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جسے جھٹلانا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں! نہ ہی عربوں کے پاس اتنی طاقت ہے کہ بزور بازو اسرائیل کی گردن پکڑ سکیں! اس لیے اب ان کے دماغوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ چکی ہے کہ ایک طاقت ور ملک سے دشمنی کرنے سے بہتر دوستی کرنا ہے، دشمنی میں خسارہ ہی خسارہ ہے جبکہ دوستی میں کثیر فوائد ہیں۔ اس لیے ماضی کی شرم ناک شکست کے باوجود انہیں اسرائیل سے کوئی دقت محسوس نہیں ہورہی ہے۔
عرصہ دراز سے مغربی لابی نے عرب حکمرانوں کے دل ودماغ میں ایران کا خوف بٹھا رکھا ہے جبکہ پچھلے کچھ وقت سے انہوں نے ترکی کو عرب قیادت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتیں عرب حکمرانوں کو ترکی وایران سے خوف زدہ کرتی ہیں اور بچاؤ کے نام پر مغرب اور اسرائیل سے دوستی کرنے کا آفر دیتی ہیں تاکہ عرب تکنیکی اور دفاعی امور میں مضبوط ہوسکیں۔ اسی ہوّے کے خوف سے عرب حکمران اسرائیل سے خفیہ تعلقات نبھاتے آئے ہیں لیکن اب انہوں نے سب کچھ کھلے بندوں کرنے کی ٹھان لی ہے۔ امارات سے پہلے مصر اور اُردن اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں، امارات کے بعد بحرین ، مراکش اور قطر بھی جلد ہی اسرائیل کو علانیہ تسلیم کر سکتے ہیں۔
عرب حکمرانوں کی اسرائیل نوازی کے پیچھے اسرائیل کا تکنیکی اور دفاعی امور میں مضبوط ہونا مانا جاتا ہے۔اسی لیے عرب حکمران اسرائیل سے تعلقات جوڑنا چاہتے ہیں۔ تکنیکی مہارت کے حصول اور ملکی حفاظت کے لیے ایسے معاہدات کسی بھی ملک کی اولین ترجیح ہونا چاہیے لیکن ان حکمرانوں کو شرم آنا چاہئے کہ کروڑوں کی آبادی اور دنیا بھر کی دولت رکھنے والے عرب ممالک ایک ایسے ملک کے محتاج ہیں جس کا پون صدی پہلے تک وجود تک نہیں تھا اور جس کی کل آبادی محض 80 لاکھ ہے مگر وہاں بجٹ کا بڑا حصہ فوج پر خرچ ہوتا ہے۔ ہر شہری پر 18 سال کی عمر میں فوجی تربیت حاصل کرنا لازمی ہے۔ مرد تین سال اور عورت دو سال فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں لازمی تربیت کے بعد ہر سال کئی کئی ہفتے ریزرو فوجی تربیت کے لیے زیادہ تر افراد رضا کارانہ اپنی خدمت پیش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے پاس تقریباً ساڑھے چار لاکھ ریزرو فوجی ہمیشہ موجود رہتے ہیں جنہیں ایمرجنسی میں کبھی بھی کہیں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جاسوسی آلات بنانے والے سات اہم ممالک میں اسرائیل شامل ہے۔ 1991ء میں عراق کی اسکڈ مزائل حملوں کے بعد ہر گھر میں ایک ایسا کمرہ بنایا جاتا ہے جہاں کیمیائی ہتھیاروں کا اثر نہ ہوسکے۔ ریسرچ اور تحقیق کے میدان میں اسرائیل بہت آگے ہے انٹل اور مائکروسافٹ نے امریکہ کے باہر سب سے پہلے اپنے ریسرچ سینٹر اسرائیل میں ہی قائم کیے تھے۔پانی کی بچت اور جیو تھرمل توانائی میں اسرائیل پہلے نمبر پر ہے۔اسرائیل کے مقابلے عرب حکمرانوں کے ذوق کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے صرف چھٹیاں گزارنے کے لیے فرانس میں 1 ہزار 857 کروڑ روپے کی مالیت کا محل اور ایک پینٹنگ کو 45 کروڑ ڈالر میں خریدا تھا۔تقریباً ہر عرب حکمراں کا ذوق اسی کے آس پاس ہے الا ماشاء اللہ…. اس لیے دنیا بھر کی دولت رکھنے والے عیاش حکمران ایک معمولی سے ملک کی مدد لینے کے محتاج ہیں مگر اسرائیل سے معاہدہ کرنے والے عرب ممالک خوش فہمی میں نہ رہیں ، اسرائیل کی دوستی اپنے ساتھ بدامنی اور فتنہ و فساد بھی لاتی ہے تاکہ ہتھیاروں کا مارکیٹ بھی بنا رہے اور متعلقہ حکومت بھی اس کے قابو میں رہے۔

Related posts

درود پاک کا ورد دل کو سکون اور روح کو تازگی دیتا ہے

Hamari Aawaz Urdu

غزل: انمول ہے جہاں میں دعائیں محبتیں

Hamari Aawaz Urdu

کاؤنسلنگ زندگی کو نیا رخ دیتی ہے

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں