سیرت وسوانح شعر وشاعری صفحہ اول

منقبت آپ ہیں رب کی امانت یا حسین

نتیجۂ فکر: غلام احمد رضا نیپالی
بسوریا کیمپ سرلاہی نیپال

 

آپ ہیں رب کی امانت یا حسین
آپ ہیں ہر اک کی چاہت یا حسین

آپ ہیں ہر گھر کی زینت یا حسین
آپ ہیں ہر دل کی راحت یا حسین

آپ ہیں جنت کی نکہت یا حسین
اور اس کے پھول و رنگت یا حسین

بڑھ گئی ہے میری غربت یا حسین
کیجئے اب مجھ پہ شفقت یا حسین

آپ کی ہے ذات رفعت یا حسین
آپ سے ہے گھر میں برکت یا حسین

آپ کے لطف و کرم سے آج تک
ہے بچی ایماں کی دولت یا حسین

ہو گئی ہے جس کو نسبت آپ سے
بڑھ گئی ہے اس کی قیمت یا حسین

دینِ حق کی آبرو کے واسطے
آپ کی ہے پھر ضرورت یا حسین

کیوں نہ سب اُلفت کریں گے آپ سے
آپ ہیں فیض نبوّت یا حسین

ہر جگہ ہوگا ذلیل و خوار وہ
جو کرے گا تیری غیبت یا حسین

اُنگلیاں اٹھنے لگیں اسلام پر
کیجئے چشمِ عنایت یا حسین

ہم غریبوں ہم فقیروں کے لئے
آپ ہیں بحر سخاوت یا حسین

جا نہیں سکتا وہ جنت میں کبھی
جو رکھے تُجھ سے عداوت یا حسین

اہلِ ایماں کے دلوں پر آج بھی
آپ کی ہے بادشاہت یا حسین

آج تک دیکھی نہیں اس دہر میں
آپ کے جیسی شہادت یا حسین

آنے والی نسل بھی کرتی رہے
آپ سے اُلفت محبت یا حسین

ہر مصیبت میں ہماری ہر گھڑی
آپ کرتے ہیں حفاظت یا حسین

جس نے دھوکے سے بلایا کربلا
اس پہ ہو ہر وقت لعنت یا حسین

کہہ رہی ہے کیجئے ہم پر کرم
آپ کے نانا کی امت یا حسین

آپ مثل چاند ہیں اسلام کے
آپ ہیں شانِ شریعت یا حسین

کر نہیں سکتی بیاں میری زباں
آپ کی شانِ فضیلت یا حسین

اللہ اللہ تیغ کے سائے تلے
آپ نے کی ہے عبادت یا حسین

فضل مولی سے مجھے محشر کے دن
آپ کی حاصل ہو قربت یا حسین

آپ گر کر دیں کرم تو آج ہی
جاگ جائے میری قسمت یا حسین

دیکھنی ہے مجھ کو تربت آپ کی
کیجئے یہ ختم فرقت یا حسین

فضل مولی سے ہے حاصل آپ کو
علم و حکمت اور ولایت یا حسین

ختم ہوتی ہے کرم سے آپ کے
میری ہر رنج و مصیبت یا حسین

یہ مرا ایمان ہے ایقان ہے
دین کی ہیں آپ ہمت یا حسین

حشر کے دن کا نہ ہوگا غم مجھے
آپ گر کر دیں ضمانت یا حسین

تم کو نانا جان کا ہے واسطہ
میری کردینا شفاعت یا حسین

رب ہی جانے اور رب کے مصطفیٰ
آپ کی کیا ہے حقیقت یا حسین

آپ کے لطف و کرم سے دیکھ لوں
آپ کے نانا کی تربت یا حسین

خواب میں ہم کو کبھی دکھلائیے
آپ اپنی پیاری صورت یا حسین

ہاں وہ قسمت کے دھنی انسان ہیں
دیکھ لیں جو تیری تربت یا حسین

ہر گھڑی ہے راہِ حق پر گامزن
جس نے پائی تیری صحبت یا حسین

میں چلا جاؤں گا باغِ خلد میں
آپ گر دے دیں اجازت یا حسین

ہم غلاموں پر بروزحشربھی
آپ کرنا چشمِ رحمت یا حسین

ہر یزیدی کی سزا کے واسطے
آپ ہیں خود اک عدالت یا حسین

جن کو کہتے ہیں علی شیر خدا
آپ ہیں اُن کی کرامت یا حسین

ساری دنیا کہ رہی ہیں آج بھی
آپ ہیں فخرِ شہادت یا حسین

آپ نے تلوار کے سائے میں کی
رب تعالی کی عبادت یا حسین

جب کبھی میں نے پکارا آپ کو
آپ نے کی ہے سماعت یا حسین

اہلِ ایماں کے لئے تھا خوب تر
آپ کا دورِ حکومت یا حسین

آپ کی قبرِ منور پر سدا
ہے برستا ابرِ رحمت یا حسین

جان کو قربان کرنا دین پر
آپ کی ہے پیاری سنت یا حسین

آپ دلوانا مجھے محشر کے دن
اپنے نانا جاں سے جنت یا حسین

اہلِ بیتِ پاک کے ہر فرد کی
ہم کریں تا حشر عزت یا حسین

ہے ہمارے واسطے راہِ ہدی
آپ نے کی جو نصیحت یا حسین

دینِ حق کو سینچنے کے واسطے
آپ نے کی خوب محنت یا حسین

دیکھتے ہی ہوگئے حیران سب
آپ کی ہمت شجاعت یا حسین

حضرتِ پیارے حسن کے بعد میں
آپ نے کی ہے امامت یا حسین

یاد رکھے گا زمانہ حشر تک
دس محرم کی شہادت یا حسین

فضلِ مولی سے ہو ہم سب کو عطا
آپ جیسی استقامت یا حسین

بڑھ گئی احمد کی عزت دہر میں
آپ کی کرنے سے مدحت یا حسین

Related posts

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تونے؟

Hamari Aawaz Urdu

بے وفاؤں سے لطف صحبت کیا

Hamari Aawaz Urdu

جاہلوں کی صدرات اور معاشرے کا وبال

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں