تاریخی صفحہ اول مذہبی

ماہ محرم الحرام: سن ہجری کا آغاز

ازقلم: تصویر عالم ابن امیر حسین رتنوی

ماہ محرم سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعے ہجرت پر ہے، لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اور آغازِ استعمال ۱۷ ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا، بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر تھے ان کے ہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط آیا کرتا تھا جن پر تاریخ لکھی نہ ہوتی تھی۔ ۱۷ ھ میں ابو موسی اشعری کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو اپنے ہاں جمع کیا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ واقعہ ہجرت کو سن تاریخ کی بنیاد بنایا جائے، اور اس کی ابتداء ماہ محرم الحرام سے کی جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت ۱۳ نبوت کے بالاخر میں تھی اور اس کے بعد جو چاند نظر آیا وہ محرم الحرام کا تھا( فتح الباری: ۳۳۴/۷)۔
چنانچہ اسی واقعہ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد رکھی گئی۔ جو نہ کسی انسانی برتری اور تفوق کو یاد دلاتا ہے اور نہ شوکت و عظمت کے کسی واقعے کو۔ بلکہ یہ واقعہ ہجرت مظلومی اور بے بسی کو ایسی یادگار ہے جو ثبات قدم صبر و استقامت اور راضی برضاء الہی ہونے کی ایک زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک مظلوم و بے کس انسان کس طریقے سے اپنے مشن میں کامیاب ہو سکتا ہے، اور مصائب و آلام سے نکل کر کس طریقے سے کامرانی و شاد مانی کا زریں تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے، اور پستی و گمنامی سے نکل کر رفعت اور عزت و عظمت کے بام عروج پر پہنچ سکتا ہے علاوہ ازیں یہ مہینہ حرمت والا ہے ۔

مکرمی : محرم الحرام حرمت والا مہینہ ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے
۔”اللہ تعالی کے ہاں اس کتاب (لوح محفوظ) میں مہینوں کی تعداد بارہ ہیں اسی دن سے جب سے آسمان و زمین پیدا کیا ہے، ان میں سے چار مہینے ادب و احترام کے لائق ہیں یہی درست دین ہے لہذا ان مہینوں میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو”۔

محرم الحرام کے فضائل : اس مہینے کی فضائل کے تعلق سے نبی ﷺ کا ارشاد ہے :” اَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَان شَھْرُ اللہِ المُحَرَّمَ ” رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم الحرام کے ہیں۔
معلوم ہوا کہ اس مہینے میں بکثرت روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔
محرم الحرام کے فضائل میں سے ایک یوم عاشورہ کا دن بھی ہے۔ جس کے بارے میں نبی ﷺ نے خبر دی کہ ” عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہ مٹا دیتا ہے۔
عاشورہ کا روزہ دسویں محرم کو رکھا جاتا ہے لیکن نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ تم ۹ ، ۱۰ یا ۱۰ , ۱۱ یعنی دسویں تاریخ سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں روزہ رکھ لیا کرو تاکہ یہود کی مخالفت ہو جائے۔
جیسا کہ آپ نے دوسری روایت میں اس طرح فرمایا: آئندہ سال اگر میں زندہ رہا تو نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔ مگر اس سے قبل ہی آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ( رواہ مسلم)۔

سانحہ کربلا کا اس مہینے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں
مکری : اس مہینے کی حرمت کا سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعۂ شہادت سے کوئی تعلق نہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مہینہ اس لئے قابل احترام ہے کہ اس میں حضرت حسین کی شہادت کا سانحہ دلگداز پیش آیا تھا، یہ خیال بالکل غلط ہے، سانحہ کربلا تو حضور ﷺ کی وفات کے پچاس سال بعد پیش آیا اور دین کی تکمیل تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندگی ہی میں کر دی گئی تھی ” اَلیومَ اَکمَلتُ لَکُم دینکم واَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتی و رَضیتُ لَکُمُ الاسْلَام دینا ”
اس لیے یہ تصور کرنا اس آیت قرآنی کے سراسر خلاف ہے، پھر خود اس مہینے میں اس سے بڑھ کر شہادتیں اور واقعہ پیش آیا یعنی یکم محرم میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اور اسی مہینے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بھی۔
اگر بعد میں ہونے والی ان شہادتوں کا شرعا کوئی حیثیت ہوتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت اس لائق تھی کہ اس کی یادگار منائی جاتی اور پھر ان شہادتوں کے بنا پر اسلام میں ماتم اور شیون کی اجازت ہوتی تو یقیناً تاریخ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام ان پر جتنی بھی سینہ کوبی و ماتم کرتے وہ کم ہوتا۔ لیکن ایک تو اسلام میں ماتم و گریہ زاری کی اجازت نہیں۔ دوسرے یہ تمام واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آیے ہیں۔ اس لئے ان کی یاد میں مجالس و محافل ماتم قائم کرنا دین میں اضافہ ہے جس کے ہم قطعا مجاز نہیں۔
عشرہ محرم اور صحابہ کرام کا احترام مطلوب:
عشرہ محرم میں عام طور پر دستور رواج یہ ہے کہ شیعی اثرات کے زیر اثر واقعات کربلا کو مخصوص رنگ اور فسانوی و دیومالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے اس سانحہ کربلا کا ایک پہلو صحابہ کرام پر تبرابازی ہے جس کے بغیر شیعوں کی محفل ماتم حسین مکمل نہیں ہوتی، کسی صحابہ کرام کے حقوق میں زبان طعن و تشنیع کھولنا اور ریسرچ کے عنوان پر نکتہ چینی کرنا ہلاکت و تباہی کے خطرے کو دعوت دینا ہے۔
توسیع طعام کی برکت : ایک من گھڑت روایت
محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس دن جو شخص اپنے اہل و عیال پر فراخی کرےگا۔ اللہ تعالی سارا سال اس پر فراخی کرےگا۔ بالکل غلط اور بے اصل ہے جس کی صراحت شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور دیگر علمائے محققین نے کی ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں ” ۱۰ محرم الحرام کو خاص کھانا پکانا، توسیع کرنا وغیرہ من جملہ ان بدعات و منکرات میں سے ہے جو نہ رسول ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور نہ خلفاء راشدین سے اور نہ ائمہ مسلمین میں سے کسی نے اس مستحب سمجھا ہے ” ( فتاویٰ ابن تیمیہ: ۳۵۴/۲)
محرم الحرام کے اندر کی جانے والی بدعات و رسومات اور اس کی ہلاکت خیزیاں
مکرمی : دین میں اپنی طرف سے اضافے ہی کو بدعت کہتے ہیں۔ پھر یہ چیزیں اس سے بڑھ کر بت پرستی اور شرک میں آ جاتی ہے کیونکہ
اولًا : تعزئے میں روح حسین کو موجود اور انہیں عالم الغیب سمجھنا،اور اس کی تعظیم کرنا ، ان سے مدد مانگنا۔ حالانکہ کسی بزرگ کو عالم الغیب سمجھنا اور ان سے مدد مانگنا شرک اور کفر ہے، چنانچہ حنفی مذہب کی معتبر کتاب فتاویٰ بزازیہ میں لکھا ہے ” مَن قَالَ اَروَاحُ المشائخ حَاضرۃٌ تَعلَمُ یُکفرُ” جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بزرگوں کی روحیں ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور وہ اس پر علم رکھتی ہے تو وہ کافر ہے ”
ثانیا : تعزئے کو سجدہ کرنا ، کئی لوگ تو کھلم کھلا سجدہ کرتے ہیں اور آپ سب جانتے ہیں کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا چاہے وہ تعبدی ہو یا تعظیمی ، شرک صریح ہے ، چنانچہ حنفی مذہب کے معتبر کتاب کے اندر شمس الائمہ سرخسی کہتے ” انْ کَان لغَیرِ اللہ تعالی عَلَى وجہ التعظیم کفر ” . غیر اللہ کو تعظیمی طور پر سجدہ کرنا کفر ہے ،
ثالثا : تعزیہ پرست نوحہ خوانی و سینا کوبی کرتے ہیں اور ماتم و نوحہ مین کلمات شرکیہ ادا کرتے ہیں ، پہلی بات تو ہے کہ نوحہ خوانی بذات خود ایک غیر اسلامی فعل ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا صحیح حدیث میں ہے: ” لیسَ منا مَن ضَرَبَ الخدُودَ و شَق الجُیُوب و دعا بدعوی الجاھلیۃ ” فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے گریبان چاک کیے اور زمانہ جاہلیت کی سی بین کئے
رابعا : تعزیت پرست تعزیوں سے اپنی مرادیں طلب کرتے ہیں جو صرحا شرک ہے، جب حضرت حسین میدان کربلا میں مظلومانہ شہید ہو گئے اور اپنے اہل و عیال کو ظالموں کے پنجے سے نہ بچا سکے تو اب بعد از وفات کسی سے کیا کام آ سکتے ہیں ؟
خامسا: تعزیہ پرست حضرت حسین کی مصنوعی قبر بناتے ہیں اور اس کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ حدیث میں آتاہے ” من زار قبرا بلا مقبور کأنما عَبَدَ الصَنَمَ ” یعنی جس نے ایسی خالی قبروں کی زیارت کی جس میں کوئی میت نہیں تو گویا اس نے بت کی پوجا کی، اس لیے کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے
دیکھا جو تعزیہ کو پنڈت نے یہ کہا
تو نے تو میرے مندر کا نقشہ چرا لیا،
کاغذ میں جب حسین کو تو نے بلا لیا
مٹی کی مورتی میں خدا کیوں نہ آئے گا؟
چونکہ ہندو پاک کے مسلمانوں میں بہت سی رسمیں ہندوؤں سے گھس آئی ہے، دیوالی کے مقابلے میں میں شب برأت، گنگا جل کے مقابلے میں انا ساگر ،دان کے مقابلے میں نذرونیاز، مندروں کے مقابلے میں درگاہیں ، اوتار کے مقابلے میں اولیاء، اسی طرح دسہرہ کے مقابلے میں تعزیہ کی رسم ہے
ہندوستان میں یہ رسم امیر تیمور لنگ مغلیہ بادشاہ کے زمانے میں اس کے ایک شیعہ وزیر معزو الدولہ شیعی نے ایجاد کی تھی، افسوس تو یہ ہے کہ اس ماتم کی آڑ میں صحابہ کرام کو برا بھلا کہا جاتا ہے، انہیں گالیاں دی جاتی ہیں اور ان صحابہ کرام پر تیر و نشتر چلائے جاتے ہیں جن کا اس واقعہ سے دور کا بھی تعلق نہیں، لیکن اس وقت وہ دنیا ہی میں موجود نہ تھے حتی کہ ان کے مکر و فریب کا حال تو یہ ہے کہ کربلا کا واقعہ بیان کرتے وقت حسین کے اصل قاتلوں کا نام بھی نہیں لیتے،
اس لیے ہمیں اس یہودی اور شیعہ مکروفریب کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ، آمین

Related posts

لباس خضر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

Hamari Aawaz Urdu

مسلمان ہی دہشت گرد کیوں؟

Hamari Aawaz Urdu

نظم: کرونا وائرس کے اثرات

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں