سماجی صفحہ اول مذہبی ملی

مثالی شادی: قابلِ تقلید، دوسرا رخ: لائقِ افسوس

تحریر: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

آج ہماری ایک ہمنشیں (ساتھی) نے اپنے عینی مشاہدہ کا تذکرہ تھوڑی خوشی تھوڑے غم کے ساتھ کیا اس بات پر کہ انھیں ابھی جلد ہی ایک دعوت ولیمہ کی تقریب میں جانا ہے – وہ کہنے لگیں؛ معلوم ہے اس دعوت میں جانے میں مجھے بڑی خوشی ہے کہ وہ شادی عام شادیوں کی طرح نہیں ہے!
میں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارے بہنا! آخر اس شادی میں کون سی ایسی خاصیت ہے کہ آپ اتنی خوش نظر آ رہی ہیں؟
انھوں نے جو جواب دیا واقعی دلوں کو چھونے والا، آنکھوں کو کھولنے والا ہے؛ اسی لیے میں چاہتے ہوئے بھی اسے لکھنے سے رک نہ سکی کہ میری خواہش ہے کاش سب لڑکے ایسے ہی ہو جائیں، کاش سب کی شادی میں صرف وہی خوش نہ رہیں بلکہ ان کے کارنامے سے دنیا ان کی شادی میں خوشیاں منائیں –
آئیے وہ خصوصیات بتاتے ہیں______
جن کا آج ولیمہ تھا انھوں نے بھی شادی سے پہلے ایک رائج جملہ جو ذرا اچھے گھرانے والے لڑکے اور لڑکے والوں کا تکیہ کلام بن گیا ہے کہ ”ہمیں جہیز نہیں لینا ہے……………………….“ اس کے آگے کی خالی جگہ میں دو طرح کے جملے کہے جاتے ہیں :
١ __ ہاں! اپنی خوشی سے جو دینا چاہیں دے سکتے ہیں –
٢ __ اگر جہیز دیے تو ہم واپس کر دیں گے –
اب اس نوجوان نے بھی دوسرے جملے سے اپنے کلام کو مکمل کیا مگر عام رواج کی طرح صرف زبانی نہیں بلکہ ایسا علمی قدم اٹھایا کہ اس کو جہیز نہیں لینا والے اپنا آئڈل بنا لیں گے؛ اس نے کیا یہ کہ…………..
___ شادی سے پہلے ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے موجودہ زمانے کے اعتبار سے بیوی کی ضروریات کی تمام اشیاء مہیا کر دیا جو وہ اپنے جہیز میں لاتی ہیں؛ مثلاً : گھر کے بچے کھچے سامان، برتن، دلہن کے بیڈ روم کے لیے تمام فرنیچر وغیرہ وغیرہ
___ حتی کہ اپنی استطاعت کے مطابق زیورات بھی خود ہی بنوائے –
___ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ اتنا کچھ اس نے تنہا نہیں کیا بلکہ اس کے دوستوں کا ایک گروپ ہے جن میں سے ہر ایک نے ایسا ہی کیا ہے اور دوستوں کی شادی میں یہ لوگ جہیز کی ایک ایک بڑی بڑی چیزیں دے دیتے ہیں جس سے آرام سے خوشی کے ساتھ جہیز کے سارے سامان تیار ہو جاتے ہیں –
ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہوا اور بخوشی شادی کی تقریب مکمل ہوئی اور اگلے دن مسنون طریقے سے ولیمہ بھی؛ جو کہ شہر آہن جمشید پور اور ساری دنیا کے نوجوان کے لیے قابلِ تقلید عمل ہے کہ صرف زبانی جہیز کے خلاف آواز نہ اٹھائیں بلکہ ایسا کام کریں کہ جہیز دینے والے چاہ کر بھی نہ دے سکیں کہ آپ کے گھر میں اپنے سامان سے ہی جگہ خالی نہیں ہو ورنہ دیکھا تو یہ جاتا ہے کہ ادھر لڑکی والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں جہیز نہیں لینا ہے اور ادھر اپنی لمبی چوڑی بلڈنگ بنا کر کمرے خالی رکھتے ہیں کہ بیوی جہیز لے کر آئیے گی ہی خوشی سے –

دوسرا رخ لائقِ افسوس____
جب دوسرے رخ یعنی لڑکی والوں کے بارے میں معلوم ہوا تو واقعی بہت افسوس ہوا؛ تأسف کی بات یہ ہے کہ لڑکی والوں نے استطاعت کے باوجود شرمندہ کرنے والی حرکت کیا؛ جہیز کا ایک سامان تو انھیں دینا تھا ہی نہیں، لڑکی بے سر و سامان اپنے گھر سے نکلی لیکن ہاں! اس کے ساتھ ایک پیک کیا ہوا کارٹون بھی تھا –
اب ہر دیکھنے والے کی نظر اسی کارٹون پر تھی کہ کارٹون میں ہے کیا؟ کوئی اس میں میٹھائی ہونے کا کہہ رہا تھا تو کوئی کچھ، کوئی کچھ، باراتی اسی کارٹون کو موضوع سخن بنائے ہوئے اپنا راستہ طے کر لیے اور جب گھر آ کر دیکھا گیا تو وہ کارٹون دولہن کے کپڑوں سے بھرا تھا –
اسی طرح جہیز کے خلاف عملی اقدام اٹھانے والے ایک دوسرے نوجوان کے ساتھ بھی ہوا اس رہی سہی کسر یہ کہ اسے رسم میں جو دلہن والوں کی طرف سے رومال کے ساتھ کچھ پیسے بنام سلامی دی جاتی ہے اسے بھی اٹھا کر گن گن کر لڑکی والوں نے یہ کہہ کر رکھ لیا کہ ہمارے داماد نے سسرال سے سامان اور پیسہ لینے سے منع کیا ہے –
سوچیں!
آج کل جو باہمت نوجوان جہیز نہیں لیتے اور یہ کہتے ہیں کہ صرف وہ ہوگی اس کے کپڑوں کی ایک ایٹیچی اگر اس کے باوجود لڑکے والے ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں، معاشرے میں ان کی قدر نہ بڑھائیں، ان کو طنز و استہزاء کا نشانہ بنانے سے نہ بچائیں تو کیا بدترین رواج بآسانی معاشرے سے ختم ہو سکتی ہے؟؟
کاش___ایک ساتھ ہی فریقین کو صحیح سمجھ نصیب ہو جائے تاکہ جہیز جیسی بدترین رسم کے ختم ہونے میں آسانی ہو –

Related posts

دینی تعلیم کی اھمیت

Hamari Aawaz Urdu

یہ گستاخی برداشت نہیں: ظفر احمد خان

Hamari Aawaz Urdu

حضور کی سیرت طیبہ کی خاص تاریخیں

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں