سیرت وسوانح صفحہ اول

سیرت حضرت عمر فاروق اعظم اللہ تعالی عنہ

از: عبد القاسم رضوی امجدی
خادم مسلک اعلیٰ حضرت
نوری دارالعلوم نور الاسلام قلم نوری مہاراشٹر رکن تحریک فروغ اسلام شعبہ نشر واشاعت

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اللہ عزوجل کی وحدانیت کی تعلیم دی انسانی حقوق کی تعلیم دی ۔ حضور نبی کریم صلی کے اعلان نبوت کے بعد مشرکین مکہ آپ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے آپ کو اذیتیں دینا شروع کر دیں۔ اِس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور آپ کی حفاظت کے لئے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُنہیں جانثار صحابہ میں سے ایک صحابی مقتدائے اہل ایمان امام اہل تحقیق امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی ذاتِ اقدس ہے۔
حضرت عمر فاروق اعظم اللہ تعالی عنہ خلیفہ دوم اور جانشین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کا نام “عمر” اور لقب “فاروق”ہے اور آپ کی کنیت “ابو حفص” ہے۔ آپ کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حیات ہی میں جنت الفردوس کی بشارت دی تھی۔

محترم قارئین: حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی کے فضائل و مناقب بےشمار ہیں۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل کو احاطہ تحریر میں لانا نہایت مشکل امر ہے۔ یہی وہ صحابی ہیں جِن کے تعلق سے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔کہ ” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر کی ذات ہوتی” آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و رفعت کا عظیم پہلو ہے تو دوسری جانب اِسلام کا یہ عظیم سپاہی گلشنِ اسلام کی آبیاری کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنے والوں میں سے ایک ہے۔ آپ کے اِسلام لانے سے اسلام کو ایک نئی زندگی اور قوّت و طاقت ملی۔ ابتداء اسلام میں مسلمان مشرکین کے ڈر سے چھپ کر تبلیغی اِسلام کرتے لیکن آپ کے ایمان لانے سے کھل کر دعوت اِسلام دی جانے لگی چنانچہ۔
حضرت عبد الله بن مسعود سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا اور اُس کی اعلانیہ دعوت دی جانے لگی تو ہم کعبۃ اللہ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھنا شروع کردیئے۔ اور بیت اللہ شریف کا طواف کرنے لگ گئے اور زیادتی کرنے والوں سے سختی سے پیش آنے لگے ۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا
اس کے بعد سے اسلام کو کبھی زوال نہ آیا اور مسلمانوں کو کبھی رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
حضرت صہیب بن سنان رُومی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لائے اس کے بعد اسلام پردے سے باہر آ گیا اور اعلانیہ دعوتِ اسلام دی جانے لگی ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جس دن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا اس روز حضرت جبرائیل امین نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے اسلام قبول کرنے کی جتنی خوشی زمین والوں کو ہے اتنی ہی خوشی آسمان والوں کو بھی ہے” حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بعثت نبوی کے دوسرے برس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے. آپ سے پہلے ایمان لانے والے مردوں کی تعداد چالیس اور عورتوں کی تعداد گیارہ تھی ۔ آپ کے قبول اسلام کے بعد دین اسلام دن و رات ترقی کے منازل طے کرتا رہا اور لوگ جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہوتے رہے۔

عمر کے ایمان سے اسلام کو شوکت ملی
اہل ایمان کو سکون قلب کی دولت ملی۔

Related posts

کتاب: خطاے اجتہادی: صفت مدح ہے نہ کہ صفت عیب نہیں

Hamari Aawaz Urdu

فلسطین اور اسرائیل

Hamari Aawaz Urdu

ظلم کی مذمت: قرآن وحدیث کی روشنی میں

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں