ادبی صفحہ اول

بے حیا چولھا

ازقلم: محمد شہروز کٹیہاری
موہنا چوکی ، کدوا ، کٹیہار

چولھا( چول+ ھا) ہندی الاصل لفظ ہے_اردو میں لام اور دوچشمی “ھ” کو ملا کر ایک مرکب حرف “لھ” بنا دیا گیا _ اس طرح” چول+ھا ” سے “چو+لھا ” بن گیا_ انسانی زندگی کے بغیر چولھا ایک ویران گڑھا ہے _ اور چولھا کے بغیر زندی کی گاڑی مشکل سے ایک میل تک نہیں جا سکتی_ گویا دونوں کے درمان چولی دامن کا رشتہ ہے_ دیہاتی زمین میں ایک سیدھی سرنگ کھود دیتے ہیں ، بعض مٹی سے سلاینڈر نما کوٹھی بناکر زمین میں گاڑھ دیتے ہیں ،اوپر حسب ذوق تین سے چار اچکن بنے ہوتے ہیں_چمنی چولھا میں تو اچکن بھی نہیں ہوتےبس ایندھن کے لئے ایک بڑا سا منہہ ہوتا ہےکھیت کھلیان کے فضلات،گوبر کے اوپلے،بانس بتی کی بوسیدہ ٹاٹیاں،درخت کی سوکھی ٹہنیاں،پتیاں وغیرہ اس کی خوراک ہیں _یہ جلاون بے چارے خود کو جلاکر انسان کو لذت بخش غذا فراہم کرتے ہیں _
سیلابی علاقوں میں جب چولھا پانی ابل نے لگے ، ٹین کاٹ کر عارضی چولھا تیار کر لیا جاتا ہے _ برسات سے قبل ہی سیلاب کی تیاری کر لی جاتی ہے _سوکھے ،عمدہ جلنے والے جلاون کسی اونچی، محفوظ جگہ پر سیلاب کے لیے مختص کر لیے جاتے ہیں _
گیس چولھا،بجلی سے جلنے والے نوع بہ نوع چولھوں کی وجہ سے زمین دوز چولھوں کی اہمیت بھلے ہی دن بہ دن گھٹتی جا رہی ہو ،مگر “چولھا پھونک نے “اور “چولھا جھونک نے” کا محاورہ اب بھی رائج ہے __
غصہ جتانے وقت “چولھے بھاڑ میں جاو” زبان زد خاص و عام ہے_ یہاں “بھاڑ” غالبا دوزخ یا دہکتے انگارے سے کنایا ہے _
سرجاپوری سماج میں ایک چولھا اور ہے _ اسے “بری چولھا” کہہ سکتے ہیں _(بری: بہ فتح با وکسر را)
عام چولھوں کی طرح اس کا رشتہ انسانی زندگی سے نہیں بلکہ محض شادی کی ایک رسم سے جڑا ہے_ شادی کی تاریخ متعین ہوتے ہی، آس پاس کی دوشیزاوں کی ہفتہ ،عشرہ کی اجتماعی محنت سے تیار ہونے والا مٹی کا یہ چولھا نفاست،لطافت،نزاکت میں پر کشش ہوتا ہے _ سجنی کی رات (بارت آنے یاجانے کی صبح سے پہلے کی رات)تقریبا دو، ڈھائی بجے، چنے اور چاول کے آٹے سے بنے ،ہندوستانی جنگلی کھجوروں کے مثل ،چھوٹے چھوٹے ٹکیہ (بری) کو تیل سے تلنے میں یہ چولھا کام آتا ہے _ یہاں اسے “بری بھاجنا” کہتے ہیں_ وقت مقرری پر بیچ آنگن میں رسم “بری بھاجنا”شروع ہوتی ہے __شرفا سوچکے ہوتے ہیں،ذمہ داران صبح کی آمد بارات یا روانگی بارات کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں _ دوشیزائیں اس رسم کو نبھاتی ہیں _ کچھ منچلے لڑکے اس رسم کا حصہ بن نے کے شوق میں چمگاڈر کی طرح بیدار رہتے ہیں _ ایک نئی شادی شدہ خاتون بری بھاجتی ہے _ باقی دو شیزائیں منچلے لڑکوں سے تلے ہوئے بریوں کی حفاظت پر تعینات رہتی ہیں _ منچلے بھی دوچار میٹر دور قسمت آزمائی کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں _ لڑکیاں حفاظت پر تعینات ہوں اور منچلوں کو بری اچک لے جانے کی چھوٹ ہو،ایسے میں دونوں کے درمیان نوک جھونک کی صورت کتنی حیا سوز ہوگی ، بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں _
کبھی کوئی منچلا دونوں ہاتھ میں رومال باندھ کر چولے پر سے گرم کڑھائی لے کر فرار ہوجاتا ،پیچھے گرم چھلنی لے کر کوئی دوشیزہ اسے مزہ چکھانے دوڑتی _ بچپن کا واقعہ اچھی طرح یاد ہے، چولھا چلانے والی خاتون تلے ہوئے بریوں کی کٹوری اپنی ساڑھی سے چھپا کر گود میں رکھی ہوئی تھی _ پاس ہی شکل و صورت کا شریف ایک منچلا کھڑا تھا _ اس کی شرافت پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا تھا اچانک موقع پاکر اس نے ساڑھی کے اندر سے مشت بھر بری لیا اور بھاگ کھڑا ہو گیا__
اس انہونی حادثہ سے خاتون سٹ پٹا سی گئی__ کپڑا وپڑا درست کرکے ادھر ادھر دیکھی تو چاروں طرف قہقہے لگ رہے تھے _ بیچاری شرمندہ ہو گئی _کچھ دیر خاموش رہی _ مگر زیادہ صبر نا کر سکی _ پھر کیاتھا کہ مغلظات کا سیلاب منہہ سے ابل پڑا _نفیس استعارات،عمدہ تراکیب،نئے نئے محاورات پر مشتمل گالیاں ایک ایک کرکے بڑی نفاست سے ،فراٹے کے ساتھ منہہ سے نکلتیں ، _ ادھر مجرم فاتحانہ شان میں دور کھڑا نسلی کتوں کی طرح گالیاں سنتا،بری کھاتا اور ہنستا جاتا _ غرض کہ اس رات انسانی چیل،آدمی شکل کا کتا،آدم زاد بندر سب دیکھنے کو ملیں گے _ حیرت کن بات یہ تھی کہ اس بے شرمی پر بیچاری اس عورت کے علاوہ کسی نے نوٹس نہیں لیا _ یہ سب کرامت ہے اس خوبصورت “بے حیا چولھے “کی جس سے یہ بیہودہ رسم جڑی ہے _ اس لئے اس چولھے کی حسن شکنی ،رسم کی بیخ کنی ہونی چاہیے _ اس تہذیب کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے _ (انشائیہ)۔

Related posts

ایک خط شہزادۂ ہند کے نام

Hamari Aawaz Urdu

امام حمد رضا اور فن شاعری

Hamari Aawaz Urdu

بارش ایک عظیم نعمت

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں