بین الاقوامی تاریخی سیاسی صفحہ اول مذہبی

عرب کی سیاسی حالت

تحریر: جمال احمد صدیقی

عرب میں ظہورِ اسلام سے قبل کوئی مرکزی حکومت نہ تھی ۔ نہ ہی کسی قسم کا کوئی سیاسی اتحاد معرضِ وجود میں آیا تھا ۔ سرداری نظام اپنی تمام تر قباحتوں کے ساتھ عرب کی سیاسی ۔ سماجی اور تمدنی زندگی میں موجود تھا ۔ قبائل اکثر آپس میں دست وگریباں رہتے جنگ وجدل اور قتل وغارت گری روزمرہ کا معمول تھا ۔ ذرا ذرا سی بات پر بھویں تن جاتیں اور تلواریں نیام سے باہر نکل آتیں ۔ یہ قبائل وسیع ریگستانوں میں تسبیح کے دانوں کی مانند بکھرے ہوئے تھے اور شاید اسی لئے یہ بیرونی حملوں سے محفوظ ومامون رہے ۔ اس وقت عالی سطح پر دوسپر پاورز روم اور ایران کا سکہ چلتا تھا ۔ شاہانہ جاہ وجلال اور اقتدار کا کروفر وہ جادو تھا جو سرچڑھ کر بول رہا تھا ۔ طاقت کے نشے میں سرشار یہ دونوں عالمی قوتیں پوری دنیا کے مقدر کا فیصلہ کرتیں اور خود کو آزاد تصور کرتیں اور اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھیں ۔ ملوکیت کی گرفت انسانی معاشروں پر بہت مضبوط تھی ۔ زنا ۔ شراب ۔ جوا ۔ اور حرام کاری حکام بالا کا امتیازی نشان بن کر رہ گیا تھا نفس کی تسکین کے سوا ان کا کوئی دوسرا مشغلہ نہ تھا ۔ اخلاقی قدریں دم توڑ چکی تھیں آسائشات کو ہی مقصودِ زندگی ٹھہرایا گیا تھا ۔ اخلاقی پستی ۔ ذہنی انتشار اور فکری پراگندگی ان معاشروں کو گھن کی طرح چاٹ رہی تھی لیکن خواب غفلت میں مدہوش حکمران اپنے عشرت کدے آباد کئے ہوئے تھے ۔ وہ اپنی ذات کے حصار سے نکل کر توقیر آدم کے بحالی کے کسی تصور سے آشنا تک نہ تھے ۔ ان کی اس تعیش پرستانہ زندگی اور عرب کے مخصوص جغرافیائی حالات اور بے آب وگیاہ صحراء میں استعماری طاقتوں کے لئے کوئی کشش اور دلچسپی نہ تھی ۔ روم عرب پر حملہ کرنے کے باجود ناکام رہا تھا ۔
اس کامیابی کے راستے میں یہاں کا صحرائی وریگستانی علاقہ ۔ دوسرا مرکزی حکومت ونظام کا فقدان رکاوٹ بن گیا ۔ کوئی بھی قوت نہ انہیں شکست دے سکی اور نہ ہی ان پر غلبہ پاسکی ۔ ان کا نظام قبائلی تھا ۔ شیخ قبیلہ کا انتخاب قابلیت وصلاحیت ۔ شجاعت وبہادری ۔ عمر وتجربہ کاری اور فہم وفراست کی بنا پر ہوتا تھا ۔ انتخاب کے بعد قبیلے کے تمام افراد شیخ کی اطاعت اور اس کے فیصلوں کے پابند ہوتے تھے مگر وہ فیصلہ کرنے سے قبل قبیلے کے بااثر ۔ سن رسیدہ اور تجربہ کار افراد سے مشورہ کرلیتا تھا ۔ اپنے قبیلے کو متحد ومنظم رکھتا تھا ہرقبیلے میں عصبیت کا جزبہ بہت زیادہ تھا اور ہر قبیلہ دوسرے قبائل سے خود کو اعلیٰ وارفع تصور کرتا تھا ۔ مرکزی نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے جملہ قبائل کو متحد رکھنے کا کوئی اصول وضابطہ نہ تھا ۔ ہرکوئی اپنی من مانی کرتا تھا جس کے نتائج کا بسا اوقات وہ عرصہ دراز تک سامنا کرتا رہتا تھا ۔
معاشی حالت ! معاشی اعتبار سے عرب میں ہرقسم کے طبقات موجود تھے قرآن نے عرب کو وادی ذی ذرع فرمایا ہے اس خطے کا بیشتر حصہ بنجر ۔ خشک اور بے آب گیاہ تھا ۔ عربوں کی اکثریت غربت کا شکار تھی ۔ یہاں کے باسیوں کے عام پیشے ۔ زراعت ۔ تجارت اور گلہ بانی تھے ۔
عرب وسیع وعریض ریگستان پر مشتمل ہے جہاں کہیں سبزہ اور پانی کے آثارملتے وہیں کھیتی باڑی بھی ہوتی تھی زیادہ تر آبادی نخلستانوں ۔ چراگاہوں اور پانی کے چشموں کے قریب مقیم تھی البتہ مکہ میں ایسی صورتِ حال نہ تھی ۔ طائف اور مدینہ منورہ میں کھیتی باڑی ہوتی تھی جنوبی علاقے میں یمن کی خوشحالی کو راز زراعت کی ترقی میں تھا عام طور پر جو بھی کسی زمین کو آباد کرتا تھا وہی اس کا مالک بن جاتا تھا ۔
عربوں کی اکثریت تجارت کو اپنا مرغوب اور محبوب پیشہ سمجھتی تھی ۔ مکہ اور طائف کے باشندے بالعموم تاجر تھے ۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے جد امجد ہاشم نے قیصر روم ۔ کسریٰ ایران ۔ نجاشی حبشہ سے ان کے ملکوں میں تجارت کے لئے اجازت نامہ حاصل کر لیا تھا جس کے باعث قریش کے تجارتی قافلے آزادانہ طور پر عراق ۔ عمان ۔ فلسطین ۔ شام ۔ مصر ۔ یمن اور حبشہ میں سال میں دومرتبہ بلا خوف وخطر جاتے رہتے تھے ۔ مذہبی قیادت وسیادت کی بنا پر قریش کے قافلے ڈاکہ ورہزنی سے محفوظ رہتے تھے حتیٰ کہ بسا اوقات دوسرے تجارتی قافلوں سے لوٹا ہوا مال ڈاکو انہیں بطورِ نزرونیاز کے دے دیتے تھے ۔
گلہ بانی بھی عربوں کا اہم ترین پیشہ تھا بہت سے معزز لوگ اس پیشے سے وابستہ تھے ۔ بدوی عربوں کا یہ واحد جائز ذریعہ معاش تھا مجموعی طور پر عربوں کی اقتصادی حالت ناگفتہ بہ تھی ۔ غربت نے اپنے سائے بہت دراز کئے ہوئے تھے ۔ کھانے کو روٹی ۔ پہننے کو کپڑا آسانی سے میسر نہ تھا ۔ اس معاشی کسمپرسی اور تنگی نے انہیں غارت گر اور راہزن بنا دیا تھا لوٹ مار میں اس قدر آگے بڑھے کہ یہ ان کا قومی شعار بن کر رہ گئی اور یہ نہ صرف ان کا ذریعہ معاش تھی بلکہ شہرت کا سبب بھی بن گئی تھی ۔ قبیلے طے اسی وجہ سے پورے عرب میں مشہور تھا ۔ دیگر قبائل میں بھی ہرقبیلہ دوسرے قبیلے کے مال ودولت ۔ مویشی اور اہل وعیال پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے تیار رہتا تھا ۔ سوداگروں کے قافلے کسی بھاری انعام کے بغیر کبھی بھی سلامتی سے نہیں گزر سکتے تھے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کے بچوں اور عورتوں کواور غلاموں کو پکڑ کر فروخت کردیتا تھا ۔
معیشت سود در سود کی زنجیر میں جکڑی ہوئی تھی۔ غربت اور سود نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی تھی ۔ سودی نظام کے بطن سے پھوٹنے والی تمام قباحتیں عرب معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہی تھیں ۔ سرمایہ داروں نے سود کا جال اس طرح پھیلا رکھا تھا کہ اس سے نکلنا عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں تھی ۔ کاشتکار اور غربت طبقہ بری طرح اس ظلم کی چکی میں پس رہا تھا ۔ سود در سود کی لعنت کی وجہ سے وہ اس حد تک قرض کی بوجھ میں دب گئے تھے کہ قرض کی عدمِ ادائیگی پر ان کی جائیداد اور جملہ اثاثے ضبط ہوجاتے تھے حتیٰ کہ یہ خود غلام بن کر رہ جاتے تھے اور ان کے بیوی بچے بھی غلام بنا لئے جاتے تھے ۔
معاشرتی وسماجی حالت ! عرب کا معاشرہ جو جاہلیت وعصبیت کا عملی تفسیر تھا مختلف طبقات اور الگ الگ حیثیت کے خاندانوں اور گھرانوں پر مشتمل تھا نسلی تفاخر اور برتری کا احساس اس معاشرے کا اساسی رویہ تھا بعض خاندان دوسرے خاندانوں کے ساتھ بہت سی رسوم وعادات میں شرکت تک پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ حج کے کچھ مناسک بعض قبائل کے ساتھ سرانجام نہیں دیئے جاتے تھے ۔ خود کو ہرقیمت پر ممتاز رکھنا عربوں کی فطرت میں شامل ہو چکا تھا ۔ میدانِ عرفات میں عام لوگوں کے ساتھ ٹھہرنا عار سمجھتے تھے ۔ ایک طبقہ آقاؤں ۔ ظالموں ۔ جابروں کا تھا تو دوسرا طبقہ کمزور ونحیف اور مظلوموں کا تھا ۔ طبقاتی کشمکش اپنے عروج پر تھی ۔ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی عزت وآبرو محفوظ تھی اور نہ ہی جان ومال حتیٰ کہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا گیا تھا ۔ صدائے احتجاج بلند کرنے اور اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے عملی جدوجہد کی کسی میں جراءت نہ تھی ۔ جنگل کا قانون ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ جاری وساری تھا امن وامان نام کی کسی چیز کا وجود تک نہ تھا ہرکسی کی مرضی وخواہش ہی قانون کا درجہ رکھتی تھی ۔ پورا معاشرہ بدامنی وبے اطمینانی وخوف وہراس اور ناحق قتل وغارت گری کی آگ میں جل رہا تھا ۔ نیکی وبھلائ کی بجائے بدی اور شر کی قوتوں نے سارے معاشرے کو اپنے آہنی شکنجوں میں لےلیا تھا ۔ بدی غالب تھی جبکہ نیکی مغلوب اور شرافت بزدلی کے مترادفات میں شامل تھی ۔ عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہ تھا اسے وراثت سے محروم رکھا جاتا بلکہ بذاتِ خود اسے مال وراثت سمجھا جاتا تھا۔
باپ کے مرجانے پر اس کی کل بیویاں سوائے حقیقی ماں کے ۔ سب بیٹے کے تصرف میں آجاتی تھیں ۔

سلام اے آتشِ زنجیر باطل توڑنے والے
سلام اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

Related posts

حقہ نوشی جان لیوا فیشن

Hamari Aawaz Urdu

نعت پاک جہاں پر مصطفیٰ کا آستاں ہے

Hamari Aawaz Urdu

تعلیم کے نام پر ذہنیی دھوکہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں