حالات حاضرہ سماجی صفحہ اول مذہبی ملی

زنا کی تباہ کاریاں اور ہمارا معاشرہ 

تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

اس وقت پوری دنیا میں مادیت اور شہوانیت کا جو سیلاب آیاہوا ہے، اس نے تمام اخلاقی قدریں تہ وبالاد کرڈالی ہیں، معاشرتی نظام بے حیائی، بدکاری اور عریانیت کا مرکب بن چکا ہے، اخلاقیات کے نظام کو بد کرداری اور نفع پرستی کے مزاج نے زیروزبر کردیا ہے، معاملات کو حرام کاری کی زنجیروں نے کچھ اس طرح چوطرفہ جکڑ رکھا ہے کہ امانت ودیانت، صداقت وراستی اور خیرخواہی کے اوصاف آخری سانس لے رہے ہیں۔فطرت سے انحراف اور بگاڑ کا یہ سیلاب پورے عالم میں آیا ہوا ہے اورمشرق ومغرب، عرب وعجم، شہرودیہات، کوئی خطہ اس سے محفوظ نہیں ہے۔اس میں کوئ شک نہيں کہ زنا ایک کبیرہ گناہ اوربہت ہی بڑا اورقبیح جرم اور سب سے بڑی فحاشی ہے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : اورتم زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو بلاشبہ یہ ایک فحاشی اوربہت ہی برا راستہ ہے (الاسراء 32) اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح ارشاد فرمایا : اوروہ لوگ جواللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کونہیں پکارتے اورکسی ایسے شخص کوجسے اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام قرار دیا اسے وہ حق کے سوا قتل نہیں کرتے ، اورنہ ہی وہ زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اور جوکوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لاۓ گا ۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جاۓ گا اوروہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا(الفرقان 68 – 69 ) ۔
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بندہ اس وقت مومن نہیں رہتا جس وقت وہ زنا کر رہا ہوتا ہے اس حدیث کے بعد زنا کے بارے میں دو تین باتیں رقم کرنا چاہتا ہوں کہ جب بندہ زنا کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ایمان اس کے جسم سے نکل کر الگ ہو جاتا ہے.گویا جتنا وقت زنا میں گزرا وہ وقت کفر کی حالت میں گزر گیا.اب ذرا عورتیں سوچیں کہ جب کسی غیر محرم نے ان کے جسم کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا وہ سارا وقت ان کا کفر میں گزرا یہ اتنی دیر تک کفر کی حالت میں رہی ہیں.اب کہنے کو تو مسلمان بنی پھرتی ہیں لیکن کل کو نامہ اعمال جب کھولا جائے گا تو یہی لکھا ہو گا کہ اتنا وقت کفر کی حالت میں گزرا یار آپ خود سوچیں کہ ایسا گناہ جس کی وجہ سے ایمان ہی بندے سے گم ہو جائے.اللہ اکبر میں سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ محض چند لمحوں کی لذت کے لیے اپنی آخرت ہی گندی کر دی جائے.اور اگر اللہ نا کرے کسی کو اس دوران موت نے آ پکڑا تو میرے بھائی وہ تو گیا کفر میں مر گیا….استغفراللہ…. اللہ تعالٰی ہمیں ایسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین…ایسا شخص جو زنا کرتے کرتے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا تو حدیث پاک میں آتا ہے کہ کل قیامت کے دن اللہ رب العزت اسے نہیں دیکھے گا.اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس پر لعنت برسائیں گے.دوسری بات : ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ: اگر کوئی زنا پر مقیم ہوتا ہے وہ بُت پرست ہوتا ہے.چونکہ یہاں بہت قابل احترام لوگ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اس لیے میں انتہائی مودبانہ الفاظ استعمال کروں گا کہ ہم لوگ صرف اس چیز کو زنا سمجھتے ہیں کہ اگر دو غیر محرم جنسی تعلقات قائم کریں تو یہ زنا کہلائے گا.لیکن جو ابن عساکر رحمہ اللہ کی حدیث میں نے نقل کی ہے اس کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ : اگر کسی عورت کا کسی غیر محرم کے ساتھ دو سال افئیر رہا(آج کی زبان میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا تعلق) تو اللہ کے ہاں یہ دو سال تک دونوں بُت پرست رہے…اس کا نام مومنوں کی فہرست میں نہیں ہو گا بلکہ بُت پرستوں میں ہو گا.اسی طرح اگر کسی مرد کا عورت سے غلط تعلق رہا تو گویا وہ بت پرست لکھا جا رہا ہے۔آج سوچیے کہ ہم بُت پرستوں کی باتیں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ ایمان سے محروم تھے…کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کلمہ پڑھتے ہوئے بھی بُت پرست لکھے جا رہے ہوں…اس لیے عرض کروں گا اپنے بھائیوں سے… اپنی بہنوں سے کے اس پوائنٹ کو خوب اچھی طرح سمجھیں کہ یہ زنا کا گناہ ایمان سے محروم کر دے گا اور انسان کو اللہ کے دفتر سے محروم کر دے گا. یہ جو ہوتا ہے نا کہ کسی کو محبت سے چاہنا، ہر وقت اس کا ذکر زبان پر رہنا…تو پھر اللہ تعالیٰ بندے کا نام ایمانداروں کی لسٹ سے نکال دیتا ہے کہ جب میرے بندے نے اپنا دین ایمان ہی اسے سمجھ لیا ہے جو اس کے لیے کچھ رشتہ ہی نہیں تو اللہ کو کیا ضرورت ہے تمہیں اپنے شمار میں لکھنے کی…تو کتنی عجیب بات ہے کہ جس عورت کا کسی مرد کے ساتھ پانچ سال غلط تعلق رہا…چار سال رہا دو سال رہا…وہ پانچ چار یا دو سال اللہ کے کاغذوں میں وہ مشرکہ لکھی گئی… وہ مومنہ نہیں رہی….اور یہ مرد بھی پانچ چار یا دو سال مشرک لکھا جاتا رہا…. یہ پانچ سال کے اعمال نامہ میں کفر لکھواتے رہے دونوں.سوچیے یہ کتنا بڑا گناہ ہے.اور پھر اس کی سزا جو آخرت میں ملے گی وہ پڑھ کر بندہ کانپ جاتا ہے.ان میں سے ایک سزا یہ ہے کہ جو زانیہ عورت ہو گی اور بغیر توبہ کے مر جائے گی.تو جہنم میں فرشتے اس کو ایک غار کی طرف لے جائیں گے.اس غار کے اندر دھکا دے کر اس کے منہ پر چٹان رکھ دیں گے.. تاکہ وہ عورت نہیں نکل سکے…اس غار کے اندر اتنے بچھو ہوں گے اور وہ اس طرح سے اس عورت کے جسم پر چمٹیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے پر ہوتی ہیں…اور اتنے بچھو ایک وقت میں اسے ڈنگ ماریں گے اس کو تکلیف ہوگی…اور اس وقت اسے آواز آئے گی کہ تو نے وہ گناہ کیا جس کی وجہ سے تیرے جسم نے مزے لیے تھے…آج تیرے جسم کے انگ انگ میں زہر جائے گا…اور اس جسم کو تکلیف پہنچائے گا…اب ذرا سوچیے کہ اکیلا جسم… اکیلا انسان… ایک غار….. منہ بند…. گھپ اندھیرا…شہد کی مکھیوں کے چھتے سے زیادہ بچھو… جسم پر چمٹے ہوئے… وہ کاٹیں گے اور ایک وقت میں کاٹیں گے…میرے بھائی آج دنیا کی مکھی اگر کاٹ لے تو آپ تو برداشت نہیں ہوتا…میری بہن آج دنیا میں ایک چھپکلی کمرے میں آ جائے تو آپ ڈر جاتے ہو…اس منظر سے ڈرو جب کوئی آپ کا مدد کرنے والا نہیں ہو گا….محض دنیا کے چند لمحوں کی لذت کے لیے اپنے جسم کو ہمیشہ کی تکلیف سے بچائیں…چند لمحوں کی لذت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں بندہ دھتکار دیا جائے…. میرے بھائی… میری بہن… اس سے بڑی حماقت اور بدبختی بھلا کیا ہو گی.میں ایک لڑکا ہو کر آپ سے کہہ رہا ہوں کہ ساری ساری رات آپ سے فون پر باتیں کرنے والے کو آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے وہ صرف آپ کے حسن کا اور اپنی ہوس کا بھوکا ہے.خدارا آپ چاہو تو اپنی بھی اور اُس کی بھی آخرت کو سنوار سکتی ہو.اور بالفرض اگر اسے محبت ہے بھی تو وہ جس نے تمہیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کیا اس کی محبت کے سامنے تو اس شخص کی محبت آٹے میں نمک کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہے.اور اس کے برعکس اگر کوئی شادی شدہ ہو کر بھی اس گناہ میں مبتلا رہا تو بتائیے کہ اس کے پاس کیا جواز ہو گا.کریم آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تمہاری نظر کسی غیر محرم پر پڑے تو فوراً نظر جھکا لو.اور علماء حدیث کے مفہوم میں لکھتے ہیں کہ: “جب تمہارا کسی عورت کی طرف دل مائل ہو تو اپنی بیوی کی طرف رجوع کرو کہ وہ بھی تمہارے لیے بنائی گئی ہے…”ایک شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو میں سوچتا ہوں کہ ہو سکتا ہے وہ کل قیامت کے دن کہہ سکے کہ یا اللہ! والدین نے شادی نہیں کی تھی یا میرے اتنے وسائل نہیں بنائے تو نے.لیکن ایک شخص شادی شدہ ہونے کے باوجود اس گند میں پڑا ہوا ہے تو اس سے تو گندا انسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بیوی جیسی نعمت سے نوازا ہے دو دو تین تین بچے ہیں اور یہ ہے کہ باہر گند پر بیٹھا ہوا اپنی زندگی تباہ کر رہا ہے.سچی توبہ بہت بڑی شے ہے آج  کے دن میں ایسے تمام گناہوں سے توبہ کر کے ہر بہن، بیٹی اور مرد مومن کی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کیجئے.میں نے بہت پہلے ایک بات لکھی تھی کہ اگر واقعی کوئی تمہارا اپنا ہے تو اس تعلق کی جانچ یہ ہے کہ اسے تمہاری آخرت کی کتنی فکر ہے.اور یقین جانیے کہ یہ فطرتی امر ہے۔ بے شک آپ کی بیوی کو معلوم بھی نا ہو یا آپ کے شوہر کو معلوم بھی نا ہو کہ آپ کا کسی غیر محرم سے تعلق ہے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں وللہ آپ میاں بیوی کے رشتے میں برکت ختم ہو جائے گی.خود بخود بےتکی باتوں پر جھگڑا گھر میں ہر وقت چک چک ،لڑائی جھگڑا، بے برکتی، بے رونقی سی ہو جائے گی.اور اگر بالفرض پتا چل گیا تو اس سے بڑی گندگی آپ کے لیے کیا ہو سکتی ہے.حدیث کے مفہوم میں ہے: کہ”جو لوگ فحش باتیں سنتے ہیں قیامت کے دن ان کے کانوں میں سیسہ  پگھلا کر ڈالا جائے گا..”تو یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو بس موبائل کی حد تک ہیں میرے بھائی یہ موبائل تک نہیں بت پرستی اور کانوں میں سیسہ ڈلنے کی حد تک کی بات ہے…آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فون پر آپ دین کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں.بھلا ایک غیر محرم لڑکی کسی غیر محرم سے رات کے دس بجے سے تین تین بجے تک کون سی خاص باتیں کر رہی ہوتی ہے جو دن کے اجالے میں نہیں ہوتی ہیں… یہاں بہت معزز لوگ تحریر پڑھ رہے ہوتے ہیں اس لیے میں نے محتاط الفاظ میں بات کرنے کی کوشش ہے اپنی اور دوسروں کی آخرت کی فکر کریں.اس تحریر کو نوجوان بھائیوں اور نوجوان بہنوں تک پہنچائیں اگر کسی ایک کو بھی اللہ نے آپ کی وجہ سے ہدایت دے دی تو شاید آپ کی اور میری آخرت کی کامیابی کا سبب یہی بات بن جائے..خدارا اپنی :”. سنوار اے بنت حوا… اے ابن آدم…… خدارا…اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو حق بات کہی اللّٰہ تعالٰی ہمارے دلوں میں راسخ فرمائے ہمیں قرآن و سنت پر عمل کر کے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

Related posts

کیسے منائیں عرس تاج الشریعہ……. ؟

Hamari Aawaz Urdu

انسانیت کی مثال بنی امریکی عوام، لیکن ہم کہاں ہیں؟

Hamari Aawaz Urdu

کرونا اور لاک ڈاؤن کی زد میں ملک کا مزدور

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں