Top 10 بین الاقوامی تاریخی صفحہ اول مذہبی ملی

فرانس کی اسلام دشمنی کا منظر نامہ 

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی

تقریباً ایک ہفتہ پہلے یہودی ملک فرانس میں مسلم دشمنی میں شرابور ایک جنونی اسکول ٹیچر نے اپنے طلبہ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا توہین آمیز خاکہ یعنی معاذاللہ کارٹون بناکر پیش کر نے کا جرم کیا تھا ٹیچر کی اس نفرت آمیز گندی حرکت پر اسی اسکول کے غیرتِ ایمانی سے لبریز ایک طالب علم کا ضمیر بیدار ہوگیا اور اس نے اپنے ہی استاذ کو اس کے مجرمانہ عمل کی بنیاد پر حملہ کرکے واصل جہنم کردیا.
فرانس کا رد عمل : فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے جائے وقوع کا دورہ کر تے ہوئے اس قاتلانہ حملے کو ‘اسلامی دہشت گردانہ حملہ’ قرار دیا ہے۔ حملہ آور کو قاتلانہ حملے کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فرانس کی پارلیمان میں قومی اسمبلی کے ارکان نے ہلاک ہونے والے ملعون استاد کی تعظیم میں کھڑے ہو کر خراج عقیدت پیش کیا اور اس حملے کو ایک ‘بہیمانہ دہشت گرد حملہ’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ فرانس کے وزیر داخلہ جو مراکش کے دورے پر تھے اپنا دورہ مختصر کر کے واپس وطن لوٹ گئے جبکہ فرانس کے وزیر تعلیم نے ٹویٹ کیا کہ ایک استاد کو قتل کرنا ملک پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لواحقین کے غم میں شریک ہیں اور انھوں نے کہا کہ باہمی اتحاد سے ہی ہم ’اسلامی دہشت گردی‘ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد تو جیسے فرانس میں زلزلہ آگیا ہو.اچانک دھڑ پکڑ، کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوگیا اور فرانس کی مسلم دشمن حکومت نے ظالمانہ رویہ اپناتے ہوئے مساجد کے دروازے مقفل کر دیئے مسلمانوں کی بے جا گرفتاریاں ہونے لگیں حالیہ واقعات سے پورا عالم اسلام بے چین و مضطرب ہے فرانسیسی حکومت کے خلاف پوری امت مسلمہ میں شدید غم و غصہ کے ساتھ سراپا احتجاج ہے.
تاریخی منظر نامہ :اب یہاں ذرا ٹھہر کر سنجیدگی کے ساتھ تاریخ کی اوراق گردانی کیجئے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فرانس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخانہ اور مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ حرکتوں کی تاریخ بہت پرانی ہے دراصل فرانس ایک قدیم اسلام دشمن ملک ہے جس نے اپنی خباثت سے بار بار پوری دنیا کے مسلمانوں کے قلب و جگر کو زخم آلود کیا ہے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کے ذریعہ تو کبھی اسلام کے خلاف نازیبا تبصروں کے ذریعہ کبھی کسی اور ناپاک ہتھکنڈوں کے ذریعہ صلیبی جنگوں اور استعماری قوتوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اور خونریزیاں  کی ہیں وہ دل دہلادینے والی ہیں۔ 17 ویں صدی سے 20 ویں صدی تک انسانیت سوز مظالم کا طویل سلسلہ جاری رہا اوروہ اب بھی جاری ہے یہ بات مسلم ہے کہ  مسلمانوں کی خونریزی سے فرانسسیوں کے دست و گریباں ہمیشہ خون آلود رہے ہیں ہیں فرانس نے قوم مسلم کی جان و مال، عزت وآبرو اور ان کے قلبی احساسات و جذبات سے کھلواڑ کرنے کی ہمیشہ مذموم کوشش کی ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے آج سے سو سال پہلے ترک سلطان خلیفہ عبدالحمید ثانی کے دور میں بھی فرانس نے ایک اسٹیج ڈرامہ فلمایا تھا جس میں نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے مناظر بھرے پڑے تھے لیکن بھلا ہو سلطان عبدالحمید ثانی کا جنھوں نے ڈرامے کو نشر ہونے سے پہلے ہی اہانت رسول کرنے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا جس کی وجہ سے دشمنانِ اسلام کو نشریات روکنے پر مجبور ہونا پڑا ۔پھر 2003ء میں وہی کام کیا گیا۔ 2015ء میں بھی اہانت آمیز خاکے سامنے لائے گئے۔ پانچ سال بعد پھر فرانس کو خارش ہوئی اور ستمبر 2020ء کو دوبارہ پاگل کتے کی طرح مسلمانوں کے ایمانی جذبات و دینی عقائد پر حملہ آور ہوا۔ آپ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہر بار فرانس کو ہی آگے کیوں کیا جاتا ہے؟ واضح رہے کہ فرانس میں یہودیوں کی حکومت ہے آپ کو یاد ہوگا 2019ء میں نامعلوم افراد کی جانب سے ایک یہودیانہ سازش کے تحت یہودی قبروں کی بےحرمتی کی گئی تھی جس پر سب سے پہلا احتجاج فرانس ہی میں ہوا تھا۔فرانس کی مجرمانہ حرکتوں اور کائرانہ سازشوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ فرانس ہی وہ ملک ہوگا جو سب سے پہلے تیسری عالمی جنگ کا طبل بجائے گا اور فرانس سے ہی تمام یہودی اور مسیحی افواج یکجا ہو کر نکلیں گی۔ سردست میں نے اشارۃً یہ بات کہی کسی اور کالم میں اس پر تفصیلی گفتگو شواہد کے ساتھ کی جائے گی۔
بہر حال سوال یہ ہے کہ حالیہ دنوں فرانس میں ہونے والے تنازعات خصوصاً حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے تناظر میں اب تک اقوام متحدہ یا کسی ملک نے فرانس کو دہشت گرد کیوں نہیں کہا؟ اس ظالمانہ حرکت پر پوری دنیا آخر خاموش کیوں ہے؟ اگر یہی معاملہ ہولو کاسٹ کے ساتھ ہوتا تب بھی دنیا کے تمام ممالک خاموش رہتے ؟ نہیں ہرگز نہیں اب تک تو قیامت صغریٰ برپا ہوچکی ہوتی پوری دنیا خصوصاً یہود و نصاریٰ چیخ پڑتے خود ان یہودیوں کی حمایت میں اسرائیل و امریکہ کے ساتھ اسلامی ممالک کے سربراہان بھی کود پڑتے مگر افسوس صد افسوس مسلم ممالک کے بے غیرت سربراہان پر کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی شان عظمت پر ہو رہے حملوں پر بھی خاموش ہیں ہمیں افسوس اس بات پر بھی ہے کہ مسلمان آپس میں متحد نہیں نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے لیے بھی متحد نہیں۔
ایک حیران کن حقیقت: لائف کلچر اور فرائی ڈے جیسے آنلائن اخبارات و میگزینس کے مطابق ایک پندرہ سالہ اسکول کا طالب اپنی چالیس سالہ ٹیچر سے زنا کرتا ہے، جس ٹیچر کے پاس تین بچے ہوتے ہیں، اور دو بچے اس پندرہ سالہ لڑکے سے بڑے ہوتے ہیں۔ جب اس عورت کے شوہر اور اسکول کے اراکین کو اس خباثت کی خبر ملتی ہے، تو اس لیڈی ٹیچر کو دوسرے اسکول میں منتقل کردیا جاتا ہے، اور اس لڑکے کو اس شہر سے 170 کیلو میٹر دور دوسرے شہر منتقل کردیا جاتا ہے، مگر وہ دونوں بدکار اسی طرح تیرہ سال تک ایک دوسرے سے نا جائز تعلقات قائم رکھتے رہے یہاں تک کہ 2006ء میں اس ٹیچر کو اس کے شوہر سے طلاق ہوجاتی ہے اور 2007ء میں وہ ٹیچر اپنے اسی بدکار شاگرد سے شادی کرلیتی ہے۔ یہ بدکار شاگرد جو بدکاری ، خیانت اور شذوذ و نکارت کے ماحول میں پروان چڑھتاہے اور اپنی ماں کی عمر کی عورت کے ساتھ زناکاری میں مشہور ہوکر اس سے شادی کرتاہے  آج وہی بدکار و زکار انسان ایک مشہور ومعروف ملک کا صدر ہے، جس ملک کو دنیا فرانس کہتی ہے۔ یہی بدکار انسان آج ہمارے دین کو بدلنے کی ناپاک کوشش کررہا ہے، اور یہی بدکار ہمارے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون نشر کرنے کو آزادی اظہاررائےسے تعبیر کررہا ہے۔ مزید اس واقعہ کو بہت سے آنلاین اخبار ومیگزین میں بھی تلاش کیا سکتا ہے

Related posts

ملک مصر میں بنی اسرائیل

Hamari Aawaz Urdu

مسلمان ہی دہشت گرد کیوں؟

Hamari Aawaz Urdu

مسئلۂ قربانی میں مسلمان ہی نشانہ پر کیوں؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں