تاریخی صفحہ اول

حضورﷺ کو شہید کرنے کی ابو سفیان کی سازش

ازقلم: محمد عسجد رضا، مہراج گنج

ابو سفیان نے ایک دن اپنے احباب سے کہا کہ محمدﷺ عام لوگوں کی طرح مدینہ کی سڑکوں پر گھومتے پھرتے ہیں انکا کوٸی محافظ نہیں رہتا کوٸی خاموشی سے وہاں جاکر انکو شہید کردے اس وقت کسی نے اسکی بات کا جواب نہیں دیا ابو سفیان اپنے گھر آیا تو ایک اعرابی تنہاٸی اس سے ملا اور کہا انعام کا وعدہ کرو تو میں یہ کام کردوں گا میرے پاس چیل کے پر کے برابر ایک خنجر ہے جسے آسانی سے چھپایا جاسکتا ہے میں یہ کام بہت رازداری سے کر سکتاہوں ابو سفیان نے اس سے انعام کا وعدہ کیا سواری اور خرچ مہیا کیا اور اور پوری رازداری برتنے کی تاکید کی پانچ دن کے سفر کے بعد وہ چھٹے دن مدینہ طیبہ پہنچا بنی عبدالاشہل کے پاس حضور ﷺ تشریف فرماتھے وہ پوچھتے پوچھتے وہاں پہنچا اونٹ باندھ کر مسجد میں گیا جہاں ہمارے آقا ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ محو گفتگو تھے حضور نے اسکو دیکھا تو صحابہ سے فرمایا یہ شخص غداری کرنے آیا ہے لیکن انشأاللہ تعالی یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوگا قریب آکر اسنے پوچھا تم میں عبدالمطلب کا صاحبزادہ کون ہے? حضورﷺ نے فرمایا میں ہوں وہ حضورﷺ پر جھک گیا گویا ہ سرگوشی کرنا چاہتا ہے حضرت اسید بن حضیر نے اسکا گلا پکڑ کڑ گھسیٹا تو اسکے تہبند سے چھپا ہوا خنجر نکلا اعرابی حواس باختہ ہوکر معافی مانگنے لگا حضور نے کہا اپنے آنے کا مقصد سچ سچ بتاٶ اسی میں تمہارا بھلا ہے جھوٹ بولوگے تو نقصان اٹھاٶگے کیوں کہ تمہارے آنے کا مقصد میں اچھی طرح جانتا ہوں اسنے جان کی امان مانگی حضور ﷺ نے اسے جان کی امان دےدی تو اسنے سارا ماجرا بیان کردیا حضور ﷺ نے اسکو حضرت اسید کے حوالے کرکے قید میں رکھنے کا حکم دیا دوسرے دن حضورﷺ کی طلبی پر وہ حاضر ہوگیا آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں معاف کردیا تم آزاد ہو تم جہاں چاہو جاسکتے ہو یا ایک اور تجویز ہے تمہاری مرضی ہوتو اسکو قبول کرلو پھر حضورﷺ نے دعوت اسلام دی تو وہ مشرف بہ اسلام ہوگیا پھر اسنے عرض کی کہ آج تک میں کسی سے نہیں ڈرا مگر آپکو دیکھ میرا دل کانپ اٹھا ابو سفیان کے معاملے کو میرے علاوہ کوٸی نہیں جانتا تھا آپ اسکو بھی جانتے ہیں میں دل سے مانتا ہوں کہ آپ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالی آپکا محافظ ہے اور ابو سفیان شیطانی گروہ کا ایک فرد ہے(سیرت شہنشاہ مدنی..صفحہ نمبر..181…182)۔

حضورﷺ کو ابو سفیان کا چیلنج

احد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے حضورﷺ کو چیلنج دیاتھا کہ ایک سال بعد ہمارا اور آپکا مقابلہ بدر کے میدان میں ہوگا حضورﷺ نے اسکے چیلنج کو قبول فرمالیاتھا اب شعبان (٠٤ھ) میں چیلنج کا عملا جواب دینے کےلۓ حضور ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوۓ مقابلہ کی تاریخ جیسے جیسے قریب قریب آریہ تھی ابو سفیان کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی وہ کوٸی ایسا عذر تلاش کررہا تھا کہ مسلمان خود ہی بدر میں نہ آٸیں اور اسکی عزت بچ جاۓ اسنے کچھ جاسوس مدینہ شریف کے گردونواح دوڑا دۓ جو ابو سفیان کی تیاری اور بہادری کا ڈنکا پیٹ کر مسلمانوں کو مرعوب کرنا چاہتے تھے انھیں ایام میں نعیم بن مسعود اشجعی مکہ شریف آیا اور بتایا کہ مسلمان جنگ کی پوری تیاری کر چکے ہیں اور وقت پر وہ بدر میں ضرور پہنچیں گے ابو سفیان نے نعیم بن مسعود اشجعی سے کہا ہمارا ارادہ جنگ کا بالکل بھی نہیں ہے ہم خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں مویشیوں اور سواریوں کےلۓ دانا پانی تک کا قحط ہے اسنے نعیم کو بیس اونٹ رشوت دینے کی پیش کش کی اور کہا کہ وہ اپنے چرب زبانی سے مسلمانوں میں ایسا ڈر پیدا کردے کہ مسلمان بدر کا ارادہ چھوڑدیں نعیم کو ایک تیز رفتار اونٹ بھی دیا نعیم نے مدینہ شریف پہنچ کر جھوٹی افواہیں پھیلاٸیں ابو سفیان کی تیاری اور اسکی کثیر فوج کی ایسا ہوّا کھڑا کیا کہ مدینہ والوں پر خوف وہراس چھا گیا منافقین یہ حال دیکھ کر خوش ہورہے تھے کہ اب مسلمان بدر میں جانے کی ہمت نہ کرسکیں گے تمام حالات حضور کو ملوم ہورہے تھے ایک حضورﷺ نے مجلس پاک میں انہیں حالات پر راۓ مشورا ہورہا تھا حضرت ابو بکر وعمر اس مجلس پاک میں حاضر تھے انہوں نے عرض کی یارسول اللہﷺ اللہ تعالی اپنے دین کو غالب کرنے والا اور اپنے نبی کو عزت دینے والا ہے ہمیں مقہ والوں نے بدر میں ملنے کی دھمکی دی تھی ہمیں یہ پسند نہیں کہ ہم وہاں نہ جاٸیں ہم نہ جاٸیں گے تو ہمیں بزدل جانیں گے یارسول اللہ ! تاریخ مقررہ پر آپ تشریف لے چلیں خدا کی قسم اسی میں خیر اور بھلاٸی ہے انے دونوں صحابہ کی بات سن کر حضور بہت خوش ہوۓ اور فرمایا قسم خدا کی میں انکے مقابلے کے لٸے ضرور جاٶں گا چاہے چاہے میرے ساتھ ایک آدمی بھی نہ جاۓ حضورﷺ کا ارشاد سن کر سارے صحابہ جوش وولولہ کے ساتھ جہاد کے لٸے نکل پڑے حضورﷺ نے ابن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ کو مسجد نبوی کا امام قرار دیا اس سفر میں حضورﷺ کے ساتھ پندرہ سو صحابہ کا لشکر تھا اچھی خاصی تعداد میں گھڑ سوار بھی تھے حضرت علی اس فوج کے علمبردار تھے وہ زمانہ بدر کے میلے کا تھا اس لۓ صحابہ لڑاٸی کے ہتھیاروں کے ساتھ تجارپ کا سامان لیتے گۓ تاکہ اگر لڑاٸی نہ ہوسکے تو کاروبار سے فاٸدہ اٹھاٸیں آٹھ روز تک حضورﷺ نے کافروں کا انتظار کیا اس درمیان صحابٸہ کرام نے تجارت کرکے خوب نفع کمایا جب کفار بدر میں نہیں آۓ تو صحابہ بخیروعافیت مدینہ شریف واپس آگۓ(سیرت شہنشاہ مدنی ..صفحہ نمبر..191…192)۔

Related posts

وبائی امراض سے متعلق طب نبوی میں ہدایات

Hamari Aawaz Urdu

میں ہوں نا!!!

Hamari Aawaz Urdu

مدارِسِ اسلامیہ: لاک داؤن اور لاک ڈاؤن کے بعد قسط اول

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں