ادبی شعر وشاعری صفحہ اول

غزل: اگر اُس کو مجھ سے محبت نہیں ہے

نتیجۂ فکر: فیضان علی فیضان، پاک

اگر اُس کو مجھ سے محبت نہیں ہے
مجھے بات کرنے کی فرصت نہیں ہے

میرے دل کو توڑا جو ادنٰی سمجھ کر
مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں ہے

تجھی کو مبارک ہو تیری طبیعت
مجھے دل دکھانے کی عادت نہیں ہے

سنا لے مجھے تجھ کو جو ہے سنانا
تیری بات میں پر مصداقت نہیں ہے

اکیلا مجھے چھوڑ کر تم گئی ہو
یہی نا کہ اب میری حاجت نہیں ہے

بچھڑنے پہ ہم سے خفا ہو گئے ہو
کہا تھا تمہی نے محبت نہیں ہے

بہت کچھ دیا ہے مجھے ہوں میں فیضان
مجھے تجھ سے شکوہ شکایت نہیں ہے

Related posts

نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے

Hamari Aawaz Urdu

چین کی ناپاک سازش آخر ہم کب تک برداشت کریں گے ؟

Hamari Aawaz Urdu

تاریخ گم گشتہ قسط نبمر1

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں