Top 10 ادبی تاریخی صفحہ اول ملی

حال اردو: توبہ! توبہ!! بے حِسی اور غفلت اُردو والوں کی

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری

سوچتے ہیں حال اُردو کا بیاں کیسے کریں
اور تعمیہمِ یقینِ بَدگُماں کیسے کریں

آئینہ خانوں کے جو وارث تھے پتّھر ہو گئے
کرنی تھی جِنکو مسیحائی سِتمگر ہو گئے

تیرگی کو کوسنے کی عادت اُردو والوں کی
توبہ ! توبہ !! بے حِسی اور غفلت اُردو والوں کی

ہوش میں سب کچھ لُٹا کر بھی نہیں یہ آئیں گے
لگتا ہے یہ سونے والے سوتے ہی رہ جائیں گے

کوشِشیں بیدار کرنے کی اِنہیں ہیں اِس طرح
بَھینس کے آگے بجائے بِین کوئی جِس طرح

اُردو والے خود ہیں غافِل اُردو کے حالات سے
ہے اُجاگر یہ حقیقت اُردو کے دِن رات سے

اُردو اخباروں رسالوں اور کِتابوں کے تئیں
اُردو والوں میں ہی خاطِر خواہ دِل چسپی نہیں

چاہیئے اُردو رسائِل کو جو مِل پاتا نہیں
سَر پرستی اور تعاؤن اِن کو مِل پاتا نہیں

اِشتہارات اور خریدار اِن کو مِل پاتے نہیں
باغِ اُردو میں خوشی کی پُھول کِھل پاتے نہیں

مُفت میں ہی اِن کو اُردو کا رِسالہ چاہیئے
اُردوداں اِن زِندہ مُردوں کو نِوالہ چاہیئے

کہیئے جب اِن سے خریدار آپ بھی بَن جایئے
تھوڑی سی زحمت یہ اُردو کے لِئے فرمایئے

شکل ہو جاتی ہے اِن کی اُردو کے ہی پانچ سی
لگ گئی ہو گرمی کی شِدّت میں جیسے آنچ سی

آڑے تِرچھے ہو کے بغلیں جھانکنے لگتے ہیں یُوں
اپنی پیشانی پہ اُلجھن ٹانکنے لگتے ہیں یُوں

جیسے تیل اِن کو پِلایا ہو کِسی نے نیم کا
دیدنی منظر ہو ہاؤ بھاؤ میں ترمیم کا

خادِمِ اُردو جو اُردو والا خود کو کہتا ہے
اِنتظار اعزازی کاپی کا اُسے بھی رہتا ہے

مُفت خوری کی روِش ہے عام اُردو والوں میں
بنٹتے رہتے ہیں خیالی جام اُردو والوں میں

کاش ! اِتنا ہر قلم کار اور ہر قاری کرے
ایک دو دس بِیس کو زحمت خریداری کی دے

ایک دو پِھر سَیکڑوں کا کارواں ہو جائے گا
اُردو کا ہر اِک رسالہ جاوداں ہو جائے گا

اے نیازؔ اِس پیاری اُردو سے سبھی کو پیار ہو
گُلشنِ عالم میں رقصاں موسمِ گُلبار ہو

Related posts

غزل: تیرے میرے پیار کا چرچا ہے کیا

Hamari Aawaz Urdu

ہندستان کی آزادی اور علامہ فضل حق خیرآبادی

Hamari Aawaz Urdu

حضرت شیخ امام عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں