بین الاقوامی تاریخی سماجی صفحہ اول ملی

قیام اسرائیل کا تاریخی پس منظر

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

پون صدی پہلے تک اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لیکن برطانوی حکومت کی سرپرستی اور یہود و نصاریٰ کی مشترکہ سازشوں کے تحت فلسطینی زمین پر جبراً یہ ملک بسایا گیا۔ یہ بات کس قدر حیران کن ہے کہ عیسائی حکمرانوں نے ہی یہودیوں کو کئی سو سالوں تک بیت المقدس میں داخل نہیں ہونے دیا، انہیں قتل کیا ، ان کے معبد “ہیکل سلیمانی” کو تباہ کرکے اپنا گرجا تعمیر کیا لیکن آج اسلام دشمنی میں دونوں قومیں میں شیر وشکر بنی ہوئی ہیں۔ تاریخی شواہد کے مطابق 70 عیسوی میں رومی جنرل طیطس(م 81ء) نے بیت المقدس پر حملہ کرکے تقریباً پانچ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جو زندہ بچ گئے انہیں جلاوطن کرکے بیت المقدس میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ اس حملے میں یہودی معبد “ہیکل سلیمانی” تباہ کردیا گیا تھا اس کے کھنڈرات میں محض ایک دیوار رہ گئی تھی جسے آج کل دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔ رومی پہلے بت پرست تھے لیکن بعد میں مسیحی مذہب اختیار کرلیا تھا، تبدیلی مذہب کے بعد بھی یہودیوں کو امن نہیں ملا نہ ہی ان پر مظالم کا سلسلہ بند ہوا۔
خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت 15ھ/637ء میں فلسطین اسلامی ریاست کا حصہ بنا۔ 1099 عیسوی میں یہاں دوبارہ صلیبی حکومت قائم ہوگئی۔اقتدار ملتے ہی صلیبی فوجوں نے 70؍ہزار مسلمانوں کو قتل کیا۔اس کے بعد538ھ؍1189ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فلسطین کو دوبارہ فتح کیا اور صلیبی قبضے سے آزاد کرایا۔بعدہ یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے تحت آگیا۔ 18ویں صدی کے اختتام تک سلطنت عثمانیہ انتہائی کمزور ہوچکی تھی اس لیے یہودیوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کو بڑی رقم کا لالچ دے کر کہا کہ وہ فلسطینی علاقہ یہودیوں کے حوالے کردیں بدلے میں وہ خلافت کے سارے قرضے ادا کردیں گے۔جواب میں سلطان نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر انہیں دکھایا اور کہا،اگر فلسطین کا اتنا حصہ بھی تم لینا چاہوگے تو نہیں ملے گا۔ سلطان عبدالحمید کی معزولی اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔جب تک سلطنت عثمانیہ قائم تھی یہودی عزائم پورے نہیں ہوسکتے تھے لیکن پہلی عالمی جنگ (1914-1918) نے سلطنت عثمانیہ کو انتہائی کمزور کر دیا تھا جس کے باعث بہت سارے علاقے ہاتھ سے نکل گئے،انہیں علاقوں میں فلسطین بھی شامل تھا جو 1917ء میں سلطنت برطانیہ کی تحویل میں آیا اور انگریزوں نے یہاں یہودی ریاست بسانے کا اعلان کیا۔ جس کے عوض میں یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کے مالی نقصانات کا خرچہ ادا کیا۔ اس ڈیل کے بعد برطانیہ نے دنیا بھر میں آباد یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے کی اجازت دی۔ تقریباً 30 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا حالانکہ اسے لیکر فلسطینی شہریوں اور یہودیوں کے مابین تنازع چلتا رہا لیکن برطانوی شہ کی وجہ سے یہودیوں کا آنا جاری رہا۔ جب ایک اچھی بڑی تعداد یہاں آباد ہوگئی تو 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو تقسیم کرکے ایک عرب اور ایک یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا۔برطانیہ نے 1948 میں اس علاقے سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اس طرح 14؍مئی 1948 کو دنیا کے نقشے پر اسرائیل نام کی ریاست وجود میں آئی۔ جسے عرب ممالک نے مسترد کردیا لیکن برطانیہ ویوروپ کے مدد کے سہارے اسرائیل نے فلسطین کے اچھے خاصے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت تک بیت المقدس (موجودہ یروشلم) اسرائیلی قبضے سے آزاد تھا اور یہاں پر اُردُن (جارڈن) کا قبضہ برقرار رہا۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ میں مصر کے صحرائے سینا ، شام کی گولان پہاڑیوں اور اُردن کے زیر قبضہ بیت المقدس پر اسرائیل قابض ہوگیا اس جنگ میں اسرائیلی کامیابی کے پیچھے برطانیہ،فرانس اور امریکہ کی عسکری مدد کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی بے پناہ تیاریاں اور مذہبی جنون بھی شامل تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر اس بار ہار گئے تو دوبارہ کبھی بیت المقدس کا کا منہ نہیں دیکھ پائیں گے۔ اس لیے وہ نہایت بے خوفی اور منصوبہ بندی سے لڑے اور محض چھ دنوں میں ہی عربوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ حالانکہ بعد میں مصر نے صحرائے سینا کا علاقہ واپس حاصل کرلیا لیکن گولان پہاڑیاں اور بیت المقدس ابھی بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔

__ اقوام متحدہ نے اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور مختلف قرار دادوں میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1967 سے پہلے کی پوزیشن پر واپس لوٹ جائے لیکن اسرائیل نے کبھی بھی کسی قرارداد کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے باقی ماندہ فلسطینی علاقوں پر بھی اسرائیل جبراً یہودی بستیاں قائم کرتا جارہا ہے۔ عرب ممالک اور اقوام متحدہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں لیکن اسرائیلی تیزی کے ساتھ فلسطینی علاقوں پر قبضہ بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔ ان قبضوں کے پیچھے یہودیوں کا وہ منصوبہ ہے جسے “اسرائیل عظمی” کہا جاتا ہے۔ یہودی تصور کے مطابق گریٹر اسرائیل وہ خطہ زمین ہے جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت قائم تھی۔ اس وقت یہ خطہ زمین حجاز مقدس(موجودہ سعودی عرب) عراق ، مصر ، شام ، اردن اور فلسطین پر مشتمل ہے۔ یہودیوں کا منصوبہ ہے کہ اس مکمل خطہ زمین پر قبضہ کیا جائے اور اس پر عظیم مملکت یہود “گریٹر اسرائیل” قائم کی جائے۔
ایک طرف اسرائیل اپنے ہدف کے حصول میں جی جان سے لگا ہے لیکن مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اپنی عیاشی اور فضول خرچیوں سے فرصت نہیں ہے۔ جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو او۔آئی۔سی۔ کا اجلاس بلا کر ایک مذمتی قرار داد پاس کرکے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی شکایت کرکے پلّہ جھاڑ لیتے ہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ خود اسرائیلی جارحیت میں برابر کا شریک ہے ایسا نہیں ہوتا اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اسرائیل کے ساتھ ہی آزاد فلسطین کا قیام بھی ہونا تھا لیکن سازشاً ایسا نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے آج بھی فلسطین ایک آزاد ملک کا درجہ پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جبکہ اسرائیل مَن مانی کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں پر اپنی ناجائز بستیاں قائم کرتا چلا جا رہا ہے۔

یہ تحریر یکم محرم الحرام 1442ھ مطابق 21اگست 2020 بروز جمعہ کی ہے۔

Related posts

خیال فیضان: کھیتی یوں نفرتوں کی سینچا نہ کیجئے

Hamari Aawaz Urdu

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

Hamari Aawaz Urdu

مسجد “آیا صوفیا” سے چمکی ہے راہ قبلۂ اول

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں