Top 10 بین الاقوامی تاریخی صفحہ اول ملی

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد

ترتیب: محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719

مکرمی! سلطنت عثمانیہ خلافتِ راشدہ، خلافت امویّہ اور خلافتِ عباسیہ کے بعد اسلامی تاریخ کی چوتھی سب سے بڑی سلطنت تھی۔ اس میں تقریباً 642 سال از 1282ء تا 1924ء تک 37 حکمران مسند آرائے خلافت ہوئے۔سلطنت عثمانیہ کے خاتمے سے جہاں مسلم دنیا ایک مرکزی قیادت سے محروم ہوگئی وہیں مسلم ممالک بھی بین الاقوامی سیاست سے اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھے افسوس کہ عثمانی قیادت و سلطنت کو زوال کی قبر میں اتارنے والا کوئی غیر نہیں بلکہ حب الوطنی کا دم بھرنے والا سلطنت کا وفادار گردانا جانے والا انگریزوں کا ایجنٹ مصطفٰی کمال پاشا (پیدائش:1881وفات:10نومبر 1938) تھا پہلی عالمی جنگ میں عثمانی دور کا فوجی سالارِ اعظم تھا جسے جدید ترکی کا بانی کہا جاتا ہے. سلطنت عثمانیہ کے فرما نروا خلیفہ وحید الدین مصطفی کمال کی عسکری مہارت اور انتظامی صلاحیت پر رشک کرتا۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بات پر فخر کرتا کہ مصطفی کمال جیسا بہادر اور محبت وطن سالار اسے نصیب ہوا ہے، مگر اسے کیا خبر تھی کہ ترکی کی محبت کا دم بھرنے والے مصطفی کمال کے دماغ میں سلطنت عثمانیہ کے لئے نفرت کس ڈگری پر ہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے دربار کا ایک وفادار ہے، اسی بے خبری میں خلیفہ وحید الدین نے مصطفی کمال کو انسپکٹر جنرل بناکر سیاہ و سفید کا مالک بنادیا.
1923ءمیں مصطفیٰ کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرتے ہوئے ترکی کو باقاعدہ جمہوری ریاست ڈکلئیر کرکے صدارت کے منصب عظمیٰ پر فائز ہوگیا 1934ء میں قوم کی طرف سے اسے اتاترک (بابائے ترک/ ترکوں کا باپ) کا لقب دیا گیا تھا. 1923ءمیں اتاترک نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کو باقاعدہ جمہوری ریاست ڈکلئیر کرکے صدارت کے منصب عظمیٰ پر فائز ہوگیا اقتدار کے ہما کا سر پر بیٹھنا تھا کہ اتا ترک کا اندر کا اوریجنل انسان باہر آیا اور اگلے پچھلے سارے حساب بے باق کرنا شروع کر دیئے۔ ایسی اصلاحات کیں ،جنہوں نے پلک جھپکتے ہی جدید ترکی کا جھنڈا لہرا دیا۔ مگر اس جدید ترکی کا محور مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کے سوا کچھ نہیں تھا۔فرسٹریشن انتہا پر تھی۔ سینے میں جو لاوا برسوں سے پک رہا تھا، وہ ابل کر باہر آیا،جس نے تباہی مچانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مساجد اور مدارس پر پابندی لگاتے ہوئے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عربی زبان میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کر دی۔ حج اور عمرے کو سرکاری طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ حجاب و ٹوپی اور داڑھی قابل دست اندازی پولیس جرائم قرار دے دیئے۔ مصطفی کمال نے مذہبی امور کا ایک محکمہ بھی قائم کر دیا، مگر اس محکمے کا کام یہ تھا کہ مذہب پسند لوگوں کی کڑی نگرانی کرے۔ اسی محکمے کے تحت اتا ترک نے ترکی کے انشا پردازوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ترکی زبان میں شامل ہو جانے والے عربی الفاظ کو ختم کر کے نہ صرف اس کا ترکی متبادل پیش کرے، بلکہ اس کو ہر صورت میں رائج بھی کرے۔ مسلمان اگر اذان دینا چاہتے ہیں تو ان کے لئے اذان کے عربی الفاظ کی جگہ ترکی الفاظ منتخب کئے جائیں غرضیکہ مذہب کو ترکی کی اجتماعی زندگی سے تو مکمل طور پر نکال دیا گیا، البتہ انفرادی زندگی میں اتنی چھوٹ دی گئی، جتنی کہ مصطفی کمال کی طبیعت برداشت کر سکتی تھی۔ مصطفی کمال اتا ترک ذہین، چالاک، اور اعلیٰ درجے کا شاطر منتظم تھا، مگر جذبات اگر غالب آ جائیں تو بڑے بڑے شہسوار بھی اپنے ہی ہاتھوں اپنی دانش کا خون کرنے میں لمحہ بھر کی دیر نہیں کرتے۔ یہی اتا ترک کے ساتھ ہوا۔ کسی مسلمان کا غصہ اس نے اسلام پر نکال دیا اور اسلامی احکامات ہی کیا اصلاحات تک کو اس نے نہیں بخشا۔ ہر اس نشان کو اس نے مٹا دیا ،جس میں مذہب کا کوئی ثانوی عکس بھی دکھائی دیتا تھا۔ عقیدوں پر اس نے کڑے پہرے لگا دیئے۔ اظہار رائے کی یک طرفہ ٹریفک چلنے لگی۔ یہ مصطفی کمال اتا ترک کا وہ بے مثل ”کارنامہ“ تھا جس نے اس کی جرأت ، ہمت، حب الوطنی، ذہانت اور متانت کے سارے بھرم دھو دیئے مصطفیٰ کمال پاشا نہ صرف یہ کہ مغرب کا ایجنٹ تھا بلکہ عالم اسلام کی تباہی کا کلنک بھی اس کے ماتھے پر ہے مغربی ممالک کا پٹھو اور آلہ کار بنکر اس نے اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا جب اتا ترک مصطفی کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا تو آل عثمان كو راتوں رات گھریلو لباس ہی میں اپنے آقاؤں کے دیار یورپ بھیج دیا۔ شاہی خانوادے نے بہت التجا کی کہ یورپ کیوں؟ ہمیں اردن، مصر یا شام کے کسى عرب علاقےميں بھیج دیا جائے لیکن صہیونی آقاؤں کے احکامات بالکل واضح تھے انہیں خاندان عثمان کو ذلیل کرکے اپنی آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنامقصود تھا۔چنانچہ کسی کو یونان میں یہودیوں کے مسکن سالونیک اور کسی کو یورپ روانہ کیا گیا، اور آخری عثمانی بادشاہ سلطان وحید الدین اور ان کی اہلیہ کو راتوں رات فرانس بھیج دیا گیا ظلم بالاۓ ظلم یہ کہ ان کی تمام جائیدادیں ضبط کرلی گئیں یہاں تک کہ صرف گھریلو تن کے لباس میں خالی جیب اس حال میں انھیں رخصت کیا گیا کہ وہ پائی پائی کو محتاج تھے.
کہا جاتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے آخری سلطان وحید الدین کے شہزادے منھ چھپا کر پیرس کی گلیوں میں کاسۂ گدائی لیے پھرتے تھے جب سلطان کی وفات ہوئی تو اہلِ کلیسا ان کی میت کو کسی کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوۓ کیونکہ دکانداروں کا قرض ان پر چڑھا ہوا تھا- بالآخر مسلمانوں نے چندہ کرکے سلطان کا قرض ادا کیا اور ان کی میت کو شام روانہ کیا اور وہاں وہ سپرد خاک ہوئے۔ بیس سال بعد جنہوں نے سب سے پہلے ان کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی خبرگیری کی وہ تركى كے پہلے منتخب وزیر اعظم عدنان مندریس تھے شاہی خاندان کی تلاش کے لیے وہ فرانس گئے اور وہاں جاکر ان کے احوال وکوائف معلوم کیے۔ پیرس کے سفر ميں وہ کہتے تھے کہ مجھے میرے آباء و اجداد کا پتہ بتاؤ مجھے میری ماؤں سے ملاؤ بالآخر وہ پیرس کے ایک چھوٹے سے گاؤں پہنچ کر ایک کارخانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سلطان عبد الحمید کی زوجہ پچاسی سالہ ملکہ شفیقہ اور ان کی ساٹھ سالہ بیٹی شہزادی عائشہ ایک کارخانے میں نہایت معمولی اجرت پر برتن مانجھ رہی ہیں یہ دیکھ کر مندریس اپنے آنسو روک نہ سکے اور زار وقطار رو پڑے، پھر ان کا ہاتھ چوم کر کہنے لگے مجھے معاف کیجیے! شہزادی عائشہ نے پوچھا آپ کون ہیں؟ کہا میں ترک وزیر اعظم عدنان مندریس ہوں اتنا سننا تھا کہ خوشی کے مارے بے ہوش ہوکر زمین پر گر پڑیں عدنان مندریس جب انقرہ واپس گئے تو انہوں نے کمال اتا ترک کے دوست اور اس وقت کے ترکی کے صدر جلال بیار سے کہا کہ ميں آل عثمان کے لیے معافی نامہ جاری کرنا چاہتا ہوں، اور اپنی ماؤں کو واپس لانا چاہتا ہوں، بیار نے شروع میں تو اعتراض کیا- مگر  مندریس کے مسلسل اصرار پر صرف عورتوں کو واپس لانے کی اجازت دی، پھر عدنان مندریس خود فرانس گئے اور ملکہ شفیقہ اور شہزادی عائشہ دونوں کو فرانس سے ترکی لے آئے مگر شہزادوں کے لیے معافی نامہ جاری کرکے ان کو اپنے وطن عزیز ترکی لانے کا سہرا مرحوم اربکان کے سر جاتا ہے جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ پھر جب مندریس پر جھوٹا مقدمہ چلا کر ان کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تو جملہ الزامات کے ساتھ دو الزام یہ بھی تھے کہ انہوں نے 30 سال بعد ترکی میں عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دی جسے کمال اتا ترک اور اسکے ساتھیوں نے ترکی میں بند کر دیا تھا۔ انھوں نے حکومت کے خزانے سے چوری کرکے سلطان کی اہلیہ اور بیٹی پر خرچ کیا ہے، اس لیے کہ وہ ہر عید کے موقع پر ملکہ اور شہزادی سے ملاقات کے لیے جاتے، ان کے ہاتھ چومتے، اور اپنی جیب خاص اور اپنے ذاتی صرفے سے ۱۰ ہزار لیرہ سالانہ شہزادی عائشه اور ملکہ شفیقہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔
جب 17 ستمبر 1961 کو عدنان مندریس اور ان کے 4 ساتھیوں کو ملٹری کورٹ نے شہید کیا  تو دوسرے ہی دن دونوں (ملکہ اور شہزادی) کی بھی بحالت سجود وفات ہوئی۔ یہ سلوک ہے ھمارے نام نہاد  سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ، نہ کوئی مروت نہ شرافت، نہ صلہ رحمی، نہ قرابت داری، نہ اخلاق کا پاس، نہ قدروں کا لحاظ یہ جو قومیت اور وطنیت کا راگ الاپتے رہے اور نعرےلگا لگا کر جن کی زبانیں نہیں تھکتی تھیں ان کا مقصد بجز اس کے اور کیا تھا کہ اسلامی اخوت سے لوگوں کا رشتہ کاٹ دیا جائے اور اس مقدس رشتے کے تانے بانے کو بکھیر کر اس کو ایسے جاہلی رشتوں میں تبدیل کیا جائے جن میں احترام ذات مفقود ہے اور حرمت و شرافت اور انسانی رشتوں کا کوئی پاس ولحاظ نہیں۔
میرے عزیزو ! روئے زمین پر موجود شیطان کے چیلوں سے کبھی بے خبر نہ رہنا اور ہاں یہ قصے بچوں کو سلانے کے لئے نہیں بلکہ سوتوں کو جگانے اور جواں مردوں کو کمربستہ کرنے کے لئے ہیں!
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

Related posts

میں کیسے آپ کو عالم کہوں؟

Hamari Aawaz Urdu

مفتی معراج القادری مصباحی علیہ الرحمہ: علمی کہکشاؤں کی انجمن

Hamari Aawaz Urdu

اعلی حضرت کون تھے؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں