ادبی شعر وشاعری صفحہ اول مذہبی

“یہ ‘مولانا’ ہی کا حصہ تھا”

تحریر: نثار مصباحی، خلیل آباد

پھپھوند شریف میں ایک ملاقات کے دوران شہیدِ بغداد مولانا اسید الحق قادری بدایونی نے مجھے اپنا وہ کلام سنایا جو اعلی حضرت کے مشہور کلام “یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں” کے طرز پر انھوں نے لکھا تھا۔
جس وقت یہ کلام انھوں نے مجھے سنایا تھا اس وقت ان کا یہ کلام بغیر ‘مطلع’ کے تھا. اور غالباً ایک ماہنامے کے کسی شمارے میں اسی طرح شائع بھی ہو چکا تھا۔
میں نے کہا : اس کا مطلع کیوں نہیں ہے؟
کہنے لگے : بہت غور کیا مگر اس کا مطلع مجھ سے نہیں بن سکا. اعلی حضرت نے پہلے مصرعے کے نصفِ اول میں “رخ” “دن” “ہے” “یا” “مہرِ” “سما” یعنی 6 الفاظ استعمال کیے ہیں. ان میں “ہے یا” مجھے بھی رکھنا لازم ہے. اب بچے چار الفاظ تو ان میں “ہے” سے پہلے 2 لفظ ہیں جو دونوں 2 حرفی ہیں. اور “یا” کے بعد 2 لفظ ہیں اور دونوں 3 حرفی ہیں. تین حرفی الفاظ تو مل جا رہے ہیں مگر “ہے” سے پہلے 2 حرفی 2 لفظ لانا ہے. یہ مجھ سے نہیں ہو سکا. یہ “مولانا”(اعلی حضرت) ہی کا حصہ تھا۔
بعد میں مولانا بدایونی نے اپنے کلام میں مطلع کا اضافہ فرمایا. وہ مطلع یہ ہے
رخ مہر ہے یا مہ لقا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ہاں! حسنِ روئے مصطفیٰ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
مگر غور کیا جائے تو اب بھی تین بنیادی فرق پائے جا رہے ہیں
۔1: مولانا بدایونی کے مطلع میں “ہے” سے پہلے 2 حرفی 2 لفظ نہیں ہیں، بلکہ ایک لفظ 2 حرفی ہے تو ایک 3 حرفی۔
۔2: اعلی حضرت کے دوسرے مصرعے میں “شب زلف یا مشکِ ختا” کا طرز بھی مولانا بدایونی کے دوسرے مصرعے میں نہیں ہے۔
۔3: اعلی حضرت کا پہلا مصرع “رخِ انور” کے بارے میں ہے تو دوسرا مصرع “زلفِ معنبر” کے بارے میں. مگر مولانا بدایونی مطلعے کے دونوں مصرعوں میں صرف “رخ انور” ہی کی بات کر رہے ہیں۔
تکمیلِ کلام کے لیے اگرچہ بعد میں مولانا نے مطلع لکھ دیا. مگر آج بھی جب ان کا یہ کلام مَیں دیکھتا ہوں تو مطلعے کے بارے میں کہا گیا ان کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے
!!!”یہ مولانا(رضا بریلوی) ہی کا حصہ تھا”        

Related posts

والدین کا بہترین عطیہ اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت ہے

Hamari Aawaz Urdu

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی فقہی بصیرت اور فتاویٰ ازہریہ: ایک تحقیقی مطالعہ

Hamari Aawaz Urdu

حضور غوث اعظم اور جود و سخا

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں