Top 10 صفحہ اول مذہبی ملی

شعار کی اہمیت، سازشیں اور ہماری ذمہ داری

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

نشانیاں منزل تو نہیں ہوتیں لیکن منزل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ کو جامع مسجد سے بَلّی مَارَان جانا ہو تو پہلے کسی شناسا سے راستہ معلوم کریں گے۔راستے میں بھٹک نہ جائیں اس لیے راستوں کی کچھ نشانیاں بھی یاد رکھیں گے تاکہ بھٹکنے کا امکان ختم ہوجائے اور آپ خیر وعافیت سے اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔کائنات ہستی کے ہر شعبے میں یہ اصول نافذ ہے کہ اصل چیز کے ساتھ اس کی نشانی وعلامت بھی اہم تسلیم کی جاتی ہے تاکہ اصل کی شناخت وتعارف میں دشواری نہ آئے۔
عربی میں نشانی کو شعار اور انگریزی میں سِمبل کہا جاتا ہے۔شعار کی بنیادی تعریف اس طرح کی جاتی ہے:
الشعار هو عبارةٌ عن صورةٍ أو رسمةٍ بصريةٍ إيضاحيةٍ، وهو الوجه المحدد الذي يتمّ من خلاله التعرف على شخصٍ ما أو مؤسسةٍ أو شركة أو منتج محدد، أو حتّى دولة۔
“شعار(نشانی) ایک شبیہہ یا نظر آنے اور واضح کرنے والی چیز کا نام ہے۔ اور یہ وہ مخصوص چیز ہے جس کے ذریعہ کسی فرد، ادارے، کمپنی یا مخصوص سامان کی شناخت کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ملک کی بھی۔”

یعنی نشانی اصل چیزوں کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔اسی لیے دنیا کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر حصے میں نشانیوں کا اہم رول ہوتا ہے۔جن کے سہارے دنیا اور زندگی کا قافلہ رواں دواں رہتا ہے۔نشانیوں کا استعمال مذہبی، ملکی، علاقائی اور خاندانی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر نشانیوں کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:
قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ
“عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی، اور تیری طرف سے نشانی۔”

یعنی جنتی خوان کا آنا امت عیسیٰ کے لیے رضائے الہی کی نشانی بن جائے۔

اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔(سورہ آل عمران:49)۔
“میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے۔”

یعنی بے جان چیز کو زندگی دینا نبوت کی نشانی ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کے حصول اور یقین کے لیے بعض چیزوں کو بطور نشانی ذکر فرما کر نشانی کی اہمیت کو ظاہر فرمادیا ہے۔

_____معاشرتی طور مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے مختلف نشانیاں اختیار کر رکھی ہیں۔جن کی بنا پر ان کے مذہب کی پہچان بآسانی ہوجاتی ہے۔سر پر چوٹی رکھنا،ماتھے پر تِلک لگانا اور زُنّار پہننا ہندوؤں کی نشانی مانا جاتا ہے۔سر پر پگڑی، ہاتھ میں میں کڑا پہننا سِکھوں اور گلے میں صلیب لٹکانا عیسائیوں کی نشانی وشعار مانا جاتا ہے۔ایک عام انسان بھی مذکورہ چیزوں سے ان کے مذہب کی پہچان کرلیتا ہے۔حالانکہ یہ چیزیں مذہب نہیں ہیں مگر مذہب کی شناخت وتعارف کا اہم ذریعہ ہیں۔بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست مذہب سے منقول ہوتی ہیں اور بعض نشانیاں علاقائی تقاضوں یا مقامی تہذیب کی بنا پر کسی خاص مذہب کی نشانیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ علاقائی نشانیاں محدود اور منقول نشانیاں وسیع معنی کو محیط ہوتی ہیں۔بطور مثال یوں سمجھ لیں کہ ظاہراً کسی مسلمان کی پہچان داڑھی/ٹوپی/عمامہ سے ہوجاتی ہے۔یہ پہچان مذہبی تعلیمات نے ہی متعین کی ہے۔اس کے علاوہ بعض نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو اگرچہ مذہبی نوعیت کی نہ ہوں مگر تہذیبی اعتبار سے کسی خاص مذہب کی نشانی بن جاتی ہیں جیسے عربی جبہ ورومال اور برقع کا استعمال مسلمانوں کی شناخت وپہچان مانا جاتا ہے۔

مذہبی نشانیوں کی آڑ میں اسلام پر نشانہ

ان دنوں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور چل رہا ہے۔مختلف جہات سے ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنے کی جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔سنیما اور میڈیا کے توسط سے ہندوانہ شعار کو فیسٹیول کلچر کے نام پر رائج کیا جارہا ہے۔اس مہم میں جہاں شدت پسند ٹولے سرگرم عمل ہیں، وہیں لبرل طبقہ بھی نرم انداز میں کفریہ مراسم کی تخم ریزی کرنے اور اس کی پرورش میں مصروف ہے۔اسی سازش کے تحت مسلم لڑکے لڑکیوں میں کَرْوَا چَوتھ ، راکھی، دیوالی اور ہولی جیسی رسموں کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔نوجوان طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ ان رسموں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔گذشتہ کچھ وقت سے مسلم لڑکیوں میں کروا چوتھ کا وِرَت رکھنے کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔تنبیہ کی جائے تو مسلم لڑکیوں کا سیدھا جواب ہوتا ہے کہ شوہر کی لمبی عمر کے لیے وِرَت(ہندوانہ روزہ) رکھنا اور چاند نکلنے کے بعد چھلنی کی اوٹ سے شوہر کو دیکھ کر وِرَت کھولنے میں کیا برائی ہے؟
راکھی کی رسم یہ کہہ کر اپنائی جارہی ہے کہ یہ رسم تو بھائی بہن جیسے مقدس رشتے کی اپنائیت دکھانے کے لیے نبھائی جاتی ہے بھلا اس میں کون سی شرعی خرابی ہے؟
دیوالی کو روشنی اور ہولی کو رنگوں کی رسم کہہ کر بڑی سادگی سے پوچھتے ہیں کہ
یہ تو محض خوش طبعی اور اپنائیت کے اظہار کا موقع ہیں۔ روشنی اور رنگوں میں کون سا شرک اور کیسا کفر؟
دنیوی نشے میں چُور ان نوجوانوں کو نہایت حکمت سے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بعض رسمیں بھلے ہی خود میں کفر وشرک نہ ہوں، لیکن بالآخر یہ رسمیں ہندو دھرم کی نشانی وشعار ہیں۔شعار غیر کو اپنانا نفسیاتی طور پر ان کی تہذیب سے مغلوب ہونا اور مستقبل میں دیگر تہذیبی نشانیوں کو ماننے کی جانب قدم بڑھانا ہے۔اس باب میں حضور سید عالم ﷺ کا طرز عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ ادائے نماز کے لیے نشانی مقرر کرنے میں آپ نے یہود ونصاری کی نشانیوں کو یکسر مسترد فرما دیا:
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ، يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(صحیح بخاری رقم الحدیث 604)۔
“جب مسلمان مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کرکے نماز کے لیے آتے تھے۔اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نَرْسِنگا (بگل بنا لو، اس کو پھونک دیا کرو) لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے آواز لگا دیا کرے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے) فرمایا کہ بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔”

غور فرمائیں کہ گھنٹہ وباجے کا استعمال اپنے آپ میں کفر وشرک کا پہلو نہیں رکھتا۔ورنہ صحابہ ان کو ہرگز پیش نہ فرماتے مگر آپ ﷺ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ جو چیز غیروں کی نشانی مانی جاتی ہے اسے اہل اسلام اختیار کریں۔ایسا کرنا خود کو ان کے مقابلے میں عاجز اور ان کا فکری غلبہ تسلیم کرنا تھا۔پھر یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ نفس پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ کسی ایک شعار پر نہیں رکے گا بلکہ ایک نشانی سے دوسری نشانی پر چلتے ہوئے آخری سرے تک پہنچ جائے گا۔ہندوانہ رسموں کا آخری سِرا کفر وشرک سے جاکر ملتا ہے۔ہمارے درمیان ایسے کتنے ہی افراد ہیں جنہوں نے ہولی دیوالی جیسی رسموں کو عام سی رسم سمجھ کر اختیار کیا نتیجتاً آہستہ آہستہ پوجا وآرتی بھی کرنے لگے اور اپنے دین وایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

افسوس ناک پہلو

ایک طرف مخالفین تہذیب اسلامی پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب بعض مفاد پرست خانقاہی اور مجاورین بھی دشمنوں کا آلہ کار بن کر ہندوانہ تہذیب کے برانڈ ایمبیسڈر بنے ہوئے ہیں۔ارباب حکومت کو راضی کرنے کی خاطر اولیاے کرام کی خانقاہوں میں ہولی، دیوالی کا اہتمام بڑی فراخ دلی سے کیا جارہا ہے۔یہ لوگ دنیوی شہرت کی خاطر دشمنوں کے منصوبوں کو کھاد پانی فراہم کرنے میں مددگار بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ بزرگان دین کی ذات اس قسم کے ہندوانہ رسم ورواج سے بالکل بری ہے۔ان حضرات کی مکمل زندگی قرآن وسنت کی آئینہ دار تھی۔نور نبوت سے فیض یافتہ یہ جماعت کسی بھی کفریہ رسم کو قبول کرنے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ان کی غیرت ایمانی بھلا شرکیہ نشانیوں کو کس طرح برداشت کر سکتی تھی؟
وہ تو خود انسانوں کو کفر و شرک کی گندگی سے بچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔اگر وہ ان رسموں کے ماننے والے ہوتے تو دیار کفر میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
اسلام دین خالص ہے۔کسی طرح کی ملاوٹ پسند نہیں کرتا۔صوفیاے کرام تاحیات اسلامی افکار و نظریات کے ہی داعی ومبلغ رہے۔یہ ان کی تبلیغ کا ہی اثر تھا کہ سرزمین ہند پر اسلامی تہذیب وتمدن کا گلشن آباد ہوا۔بسنت منانا ہو یا ہولی دیوالی، ہندی بزرگوں کی سوانح اس طرح کی لغویات سے پاک وصاف ہیں۔کسی مذہب کے شعار کو اپنانا اور اسے بہتر جاننا اپنے ایمان کو داؤ پر لگانا ہے۔اس لیے دنیا پرست مجاورین کی کرتوت دیکھ کر بزرگان دین سے بدگمان نہ ہوں۔ایسے مجاورین اور آزاد خیالوں کا کھل کر بائکاٹ کریں تاکہ ہمارا تہذیب وتمدن کفر وشرک کی آلودگی سے محفوظ رہے۔

خوب یاد رہے
مذہب اسلام کی کچھ حدود و قیود ہیں جو انھیں تسلیم کرے گا وہی مومن ہے۔جو لوگ خانقاہ وتصوف کے نام پر کفریہ رسموں کو پرموٹ کر رہے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین گڑھ رہے ہیں۔ایسے دین ومشرب کو بھلے ہی کچھ بھی نام دیا جائے لیکن وہ “اسلام اور تصوف” ہرگز نہیں ہوسکتا۔

Related posts

حکومت کو جلد ہی “صحافی تحفظ قانون” پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے- ہاشم رضوی

Hamari Aawaz Urdu

سرفرازی کی منزل

Hamari Aawaz Urdu

منقبت: ہیں فنا فی المصطفٰی احمد رضا

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں