Top 10 حالات حاضرہ سماجی شعر وشاعری صفحہ اول

خوں سے لبریز کربلا ہے سماج

سماج نامہ

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسی، نیویارک، امریکہ

بدلا بدلا سا لگ رہا ہے سماج
زندگی سے چڑھا ہوا ہے سماح

کیا کریں شکسہ و گلہ اس سے
اپنی ہی ذات سے خفا ہے سماج

کھوٹے سکوں کے درمیاں ری کر
کی سے کہ پائے کا کھرا ہے سماج

ہر طرف ہے یزیدیت کا حصار
خوں سے لبریز کربلا ہے سماج

کوئی حامی نظر نہیں آتا
بحر ظلمات میں گھرا ہے سماج

جملہ امراض ہوگئے مایوس
اس قدر بے اثر دوا ہے سماج

ہے عبث اب اس سے امید ثبات
زرد پانی کا بلبلا ہے سماج

اس کو کچھ بھی نہ چھیڑیئے قدس
گہری سوچوں میں مبتلا ہے سماج

Related posts

مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے؟ قسط ششم

Hamari Aawaz Urdu

منقبت: شمعِ بزم علم و حکمت سیدی اختر رضا

Hamari Aawaz Urdu

کون تھے شمس العلماء؟

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں