صفحہ اول گوشۂ خواتین

قدر دانی بڑی نعمت

از قلم: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

یہ عام مشاہدہ ہے کہ جب ہم کسی قابل قدر اور نایاب شخصیت کو کھو بیٹھتے ہیں تو بڑے شوق سے پچھتاوے بھرے انداز میں کہتے ہیں – ع
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

اور پھر بسا اوقات بلکہ اکثر ناقدری کرنے اور ان کے فیوض سے فیض یاب نہ ہونے کا رونا روتے ہیں حالاں کہ ان کی بافیض زندگی کے کارنامے ہمیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر زبان حال سے بتا رہے تھے کہ؛ ع
اے اہلِ زمانہ! قدر کرو، نایاب نہیں کم یاب ہیں ہم

عزیزو! واقعی آتے تو سبھی جانے کے لیے ہیں؛ لیکن کچھ لوگ صرف اپنے لیے آتے ہیں اور کچھ زمانے کے لیے؛
لہذا جو زمانے کے لیے آتے ان نایاب و کم یاب ہستیوں سے ہم اہل زمانہ کو کچھ نہ کچھ اپنی جھولی میں ڈلوا لینا چاہیے اور ان کی قدر کر کے ان سے مزید فیض پانے کی راہیں ہموار کرنی چاہیے!!
ورنہ__مدت حیات پوری ہونے سے وہ چلے ہی جائیں گے اور ہمیں اپنی بقیہ زندگی حسرت و غم میں گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا کہ جانے والوں کی واپسی خواب کے علاوہ حقیقت میں ناممکن ہے؛ کہ وہ تو پہلے ہی بتاتے تھے ع
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہمنفسو! وہ خواب ہیں ہم

اے کاش! ہمیں قابلِ قدر شخصیات کی قدر دانی نصیب ہو جائے تاکہ تأسف و حسرت سے دل محفوظ رہے اور ان کے فیوض عام سے عام تر ہو سکے۔

Related posts

حمد باری تعالیٰ: نہ تجھ سا کوئی دوسرا میرے اللہ

Hamari Aawaz Urdu

رفیق زندگی، شریک زندگی

Hamari Aawaz Urdu

معاشرے میں بڑھتی تمباکو نوشی اور ہماری ذمہ داریاں

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں