بین الاقوامی شخصیات صفحہ اول

علامہ خادم حسین کا رضوی کا مشن: کروں تیرے نام پہ جاں فدا

از قلم: محمد معاذ مبارک پور
متعلم؛ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی انڈیا

استاذ العلماء یادگار اسلاف امیر المجاہدین قائد ملت اسلامیہ حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ و نور اللہ مرقدہ ۳/ربیع آلآخر ۱۴۴۲ھ بمطابق ۱۹/ نومبر ۲۰۲۰ء جمعرات کی رات اس دار فانی کو خیر آباد کہ کر دار بقا کی طرف رخصت کر گئے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، اللھم اغفرلہ وارحمہ و عافہ واعف عنہ
یہ خبر سن کر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی چلے گئے-جب مجھے اس خبر کی تصدیق مل گئ تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے-علامہ صاحب ایک نڈر،باہمت اور مجاہدانہ شخصیت کے حامل تھے-آپ ساری زندگی نہ کسی سے ڈرے نہ جھکے نہ بکے-حضور صل اللہ علیہ وسلم کی محبتوں کا جام اہل سنت کو پلاتے رہے-آپ نے ناموس رسالت اور عظمت صحابہ پر انگلی اٹھانے والوں اور ان کے خلاف بولنے والوں کے خلاف احتجاج کیا-ناموس رسالت پر پہرہ دینے پر آپ کو جیل کی سلاخوں میں رکھا گیا-ابھی جلد ہی فرانس کے لوگ جنہوں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سےمنسوب کر کے خاکے بناے تھے اس پر آپ نے جو احتجاج اور دھرنا دیا-اس وقت سخت بخار کے عالم میں بھی آپ نے ڈٹ کر دھرنا دیا اور وہیں بیٹھے رہے، آپ کا ایک ہی مشن تھا کروں تیرے نام پہ جاں فدا
اسی مشن کو لے کر آپ نے پوری زندگی گزاری-جب عاشق رسول ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائ گئ اس وقت یہ شخص جس کا نام خادم حسین رضوی تھا مد مقابل کو پسپا کرنے کے لیے میدان عمل میں آیے-“لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانعرہ دینے والے اور بچے بچے کے دلوں میں یہ نعرہ پہنچانے والی شخصیت علامہ خادم حسین رضوی کی ہے،پھر ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو آپ نے یہ نعرہ بلند کیا “تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد”پیر سے معذور ہونے کے باوجود بھی متعدد مجاہدانہ امور کو انجام دیا اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں کہ آپ ایک سچے عاشق رسول اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو جگانے والے ناموس رسالت اور ختم نبوت پر پہرہ دینے والے تھے،آپ کی وفات ہمارے لئے ایک خسارہ عظیم ہے،آج صبح دس بجے مینار پاکستان لاہور میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اب ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ناموس رسالت اور ختم نبوت کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سنیوں کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے،اور ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرماے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماے۔ہم حضرت کے صاحبزادگان اور جملہ اہل خانہ مریدین و متوسلین معتقدین کو تعزیت پیش کرتے ہیں اللہ سب کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلینﷺ

اے دلوں کے نور ! آنکھوں کے ستارے الوداع
اے حبیبِ مصطفیٰ ! اے حق کے پیارے الوداع

اے وقارِ بزمِ دیں ! اے مَردِ حق خادم حسین
سُنّیت کے شیر ! اے قائد ہمارے الوداع

خون روتی ہے نظر ، غم سے تڑپتا ہے جگر
کہہ اٹھے ، بہتے ہوئے اشکوں کے دھارے الوداع

سرخ رو ہو کر چلے تم جانبِ خلد بریں
اپنی جاں سے دین کے صدقے اتارے، الوداع

آہ تجھ سا ہادی و رہبر کہاں پائیں گے ہم
آسمانِ جرأت و ہمت کے تارے الوداع

دیکھ کر تجھ کو ، مدینے والے کی آتی تھی یاد
عاشقانِ مصطفیٰ کے اے سہارے الوداع

الفراق اے حُرمت ختم الرسل کے پاسباں
تو نے ہستی کے گُہَر آقا پہ وارے الوداع

گلشنِ عالم ہے سٗونا اور فضائیں سوگوار
کہہ رہے ہیں تجھ سے افسردہ نظارے الوداع

دین پر سب کچھ لٹا کر کام ایسا کر گیے
حشر تک گونجیں گے اب نغمے تمہارے الوداع

تو نے پیدا کی دلوں میں ، حق پہ مرنے کی تڑپ
قوم میں ایثار جوہر کے نکھارے الوداع

بزمِ عرش و فرش میں ہے اِس لیے چرچا ترا
تو نے دے کر نورِ حق ، ایماں سنوارے الوداع

اے فریدی ! یہ صداے عالمِ اسلام ہے
سارے اہل حق ، یہ رو رو کر پکارے الوداع

(فریدی مصباحی)

Related posts

نماز عید الاضحٰی کا طریقہ اور قربانی کے مسائل

Hamari Aawaz Urdu

صالح معاشرہ کی تشکیل کےلیے نکاح ایک امر لازمی ہے

Hamari Aawaz Urdu

مکتوباتِ صوفیہ ، ایک گراں قدر علمی و ادبی سرمایہ

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں