بین الاقوامی شخصیات صفحہ اول

اس مرد مجاہد کی بے باکانہ انداز کی نظیر نہیں

از قلم: محمد قیصر رضا امجدی، گورکھ پور

امیر المجاہدین ، فنا فی خاتم النبیین ، شیخ الحدیث والتفسیر ، پہردار ناموس رسالت ، بانی و سر براہ اعلی’ تحریک لبیک یارسول اللہ سیف حدید برائے شاتم مصطفی ‘ ، محا فظ سنیت و مشن رضا ، حضرت علامہ ومولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جن کی رحلت مسلمانان عالم کے لےء خسارۂ عظیم کا باعث ہے ۔ وہ عشق و محبت کا بحر ذخار ، وہ اسلام و سنیت و حقانیت و صداقت کا علمبردار ، وہ ناموس رسالت اور عظمت صحابہ کا پاسدار ، وہ صدق و وفا کا آفتاب و ماہتاب ، وہ شجاعت و بہادری اور ایثار و قربانی کا حسیں سنگم ، وہ جلال فاروقی کا مظہر ، وہ خالد بن ولید کے سیف کی چمک ، وہ جزبہ و ہمت کا جبل استقامت ،وہ علوم وفنون کا درخشندہ ستارہ ، وہ اخلاق و کردار اور علم و عمل کا مہکتا ہوا گلاب ، وہ صبر و تحمل کا موجیں مارتا ہوا سمندر ، جو ہم تمام لوگو ں کو عشق رسول کا جام پلاکے اور ناموس رسالت کی اہمیت و افادیت سے رو شناس کراکے ہم سے ہمیشہ کے لےء رخصت ہو گیا ۔ امیر المجاہدین علامہ حافظ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ نے اپنی حیات ظاہری میں ناموس رسالت پہ ایسا پہرا دیا ہے کہ رہتی دنیا تک رسول اللہ صلی اللہ تعالی’ علیہ وسلم کے اس سچے اور پکے عاشق رسول کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ جب بھی شاتمان رسول و گستاخان انبیاء نے اپنی زبانیں دراز کیں ہیں تو ان بد طینت اور ان بد اصل لوگوں کو لرزا بر اندام کرنے کے لےء اور ان گستاخان انبیاء و رسل کو انگشت بدنداں کرنے کےء لےء علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ سینہ سپر رہے اور ایک جاں باز مرد مجاہد کی طرح میدان میں ڈٹے رہے اور دشمنان دیں سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عظمت و رفعت کا لوہا منواتے رہے ۔ آپ ایک ایسے سچے اور با کمال عاشق رسول تھے کہ جب کبھی بھی ناموس رسالت پر کوئ کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتا علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ اس کا ایسا جواب دیتے تھے کہ وہ دشمن رسول ساکت و منجمد ہو جایا کرتا تھا ۔ آپ کا یہ طرۂ امتیاز تھا کہ جو جان مانگو تو جان دینگے جو مال مانگو تو مال دینگے مگر یہ ہم سے کبھی نہ ہوگا نبی کا جاہ و جلال دینگے ۔ اسی تناظر میں آپ نے اپنی حیات مستعار کو صرف کردی ۔ اور جب اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرمائے تو اپنے سینے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عشق و محبت کی قندیل لیکر گےء جس سے صبح قیامت تک آپ کی قبر انور جگمگاتی رہے گی اور روشن و مملو ہوتی رہے گی ۔ آپ تا دم حیات شان رسالت کے علم کو بلند کرتے رہے ۔ اور آپنے اپنے تلامذہ کو بھی عشق رسول کا ایسا جام پلایا تھا کہ جہاں بھی ناموس رسالت پہ اگر اعدائے اسلام انگشت نمائ کرتے تو آ پ کے تلامذہ شمشیر بے نیام ہو کے ان گداران انبیاء و رسل کے سامنے عشق رسالت کی ردائے تطہیر کو اوڑھ کے میدان میں احتجاج و سر بلندی و سرفرازی کا ایسا جو ہر دکھاتے ہیں کہ وہ ان بد اخلاق اور ان بد کردار گستاخان انبیاء کو حیران و شش در اور محیر العقول کر کے مبہوت کر دیتے ہیں ۔ ابھی کچھ ایام قبل سر زمین فرانس سے ناموس رسالت کو پامال کیا جا رہا تھا اور شان عظمت رسالت میں چہ می گوئیاں کی جا رہی تھیں تو ایسے زور آزما لمحات میں علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ آپ نے ڈٹ کے میدان میں اس قدر احتجاجی شکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شان ناموس رسالت میں اپنی آواز بلند کےء کہ اس مرد مجاہد کے اس بے باکانہ انداز کی اور مجاہدانہ کردار اور للکار و پکار کی نظیر و تمثیل دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ رب ذوالجلال و الاکرام نے حضرت علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کو بے شمار خوبیوں کا حامل بنایا ہے اور آپ کو کئ مراتب و درجات پہ فائز کیا ہے ان اوصاف میں سے چند اوصاف زیر تحریر ہے آپ حافظ کلام اللہ اور حافظ حدیث رسول اللہ تھے اور معا حافظ کلام رضا بھی تھے دوران تقریر جب آپ کلام رضا کے کچھ اشعار پڑھ تے تھے تو سامعین و حاضرین جھوم اٹھ تے تھے ۔ آپ ایک عظیم داعی و مبلغ اور مصلح وقت تھے آپ ایک فقید المثال ماہر درسیات اور جامع معقولات و منقولات تھے آپ کا حافظہ بہت پختہ تھا جس چیز کو آپ ایک بار ملاحظہ فرماتے وہ چیز ذہن و ادراک میں نقش ہو جایا کرتی تھی ۔ علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ میدان خطابت کے شہسوار ، میدان درس و تدریس کے تاجدار ، اور میدان تبلیغ و ترسیل کے سچے علمبردار تھے ۔ اسی لئے تو علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کے وصال پر ملال سے ہر عوام و خواص اشکبار اور زار و قطار روتے نظر آ رہے ہیں ۔ وہ علم و فضل ، تہذیب و تمدن ، اخلاق و کردار ، تبلیغ و ارشاد ، صبر و رضا کا در نایاب ہیرا ہمیشہ کے لےء رو پوش ہوگیا ۔ ( انا للہ و انا الیہ راجعون )
رب کعبہ اللہ عز و جل کی بارگاہ مقدس و مطہر و معظم و مکرم میں دعاء ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ امیر المجاہدین فناء فی خاتم النبیین پہردار ناموس رسالت حضرت علامہ ومولانا حافظ خادم حسین رضوی علیہ الرحمۃ و الرضوان کی قبر انور پہ انوار و تجلیات کی بارش عطاء فرمائے حضرت علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کو غریق رحمت فرمائے جنت المعلی’ میں اعلی ‘ سے اعلی ‘ مقام عطاء فرمائے انکے مرقد انور کو جنت کے کیاریوں میں سے ایک کیاری بنائے انکے قبر انور کو تاحد نگاہ فراخی اور کشادگی عطاء فرمائے علامہ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کا تحریک لبیک یا رسول اللہ کا جو مشن تھا اللہ تبارک و تعالی’ اس مشن کو عام سے عام تر کر نے کی ہم تمام لوگو ں توفیق عطاء فرمائے انکے جمیع محبین ، مخلصین ، معتقدین ، وارثین و لواحقین کو اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطاء فرمائے ۔ آمین یا رب العلمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی’ علیہ وسلم

Related posts

ڈاکٹر کفیل احمد خان کی جاں فشانی اور این۔ایس۔اے۔

Hamari Aawaz Urdu

حال اردو: توبہ! توبہ!! بے حِسی اور غفلت اُردو والوں کی

Hamari Aawaz Urdu

میں نے ایک قبر(تربت غریب نواز) کو ہندوستان میں حکومت کرتے دیکھا

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں