حالات حاضرہ سیرت وسوانح صفحہ اول مذہبی

غوث الثقلین کی آمد اور دور حاضر

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری ۔ شل پھاٹا

پانچویں صدی ہجری کے آخر میں دنیائے اسلام میں ایک ہولناک انتشار پیدا ہوچکا تھا ۔ مسلمانوں کی اجتماعی قوت فرقہ بندی اور باہمی تشتت وافتراق کی نذر ہوچکی تھی ۔ ان میں بدعات اور غیر اسلامی معتقدات کی خوب نشو نما ہورہی تھی ۔ ہر طرف محرومی ۔ شقاوت ۔ جبرواستبداد اور فسق وفجور کا دور دورہ تھا ۔ غیر اسلامی اقوام اس کا پورا فائدہ اٹھا رہی تھیں ۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کو اختیار واقتدار سے محروم کرنے کا منصوبہ بنارہی تھیں ۔ بلکہ
اپنے ادیان کو دینِ حق سے افضل ثابت کرنے کے لئے بھی کوشاں تھیں ۔ غرض نکبت وادبار کے منحوس عفريت ملت اسلامیہ پر چھارہے تھے ۔ اور دینِ حنیف پر پزمردگی طاری تھی ۔ یکایک رحمتِ خداوندی جوش میں آئی اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک مردکامل کا ظہور ہوا ۔ جس کی مسیحا نفسی نے مردہ دلوں کو حیاتِ تازہ بخش دی ۔ اس کا ظہور صبحِ سعادت کا طلوع تھا کہ کرۂ ارض کا ذرہ ذرہ جگمگا اٹھا اور بدی کی طاقتوں میں ماتم بپا ہوگیا ۔ وہ ایک ابرِ رحمت تھا جس نے بے برگ وبار خزاں رسیدہ شجر ملت کو سرسبز کردیا ۔ یہ مرد کامل تھے قطبِ ربانی ۔ محبوبِ سبحانی ۔ شہباز لامکانی ۔ قطب الکونین ۔ غوث الثقلین ۔ سید الاولیاء ۔ حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمت اللّٰہ علیہ ۔ حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ جامع علوم وفنون تھے ۔ منبعِ رشدوہدایت تھے ۔ آسمانِ ولایت کا مہر عالمتاب تھے ۔ ان کی رفعتِ شان اور علو مرتبت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہزارہا اولیاء ۔ صلحاء ۔ علماء واکابرامت نے بارگاہِ غوثیت میں کسی نہ کسی رنگ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ہے ۔
زبانِ اولیاء پر ہے ترانہ غوث اعظم کا ۔
بہشت معرفت ہے آستانہ غوث اعظم کا

Related posts

فتنۂ قادیانیت کا تاریخی مطالعہ

Hamari Aawaz Urdu

قیام اسرائیل کا تاریخی پس منظر

Hamari Aawaz Urdu

عمارت ہو یا نہ ہو، جو جگہ مسجد ہو گئی، مسجد ہی رہے گی

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں