Top 10 سماجی سیاسی صفحہ اول قومی ملی

لو جہاد پر قانون سازی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرلا

بھارت کی متعدد ریاستیں لو جہاد پر قانون سازی کی تیاری کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ اسلام میں لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔یہ ایک فرضی چیز ہے۔

دنیا بھر میں مخلوط ماحول کے فروغ پانے کے سبب لڑکوں اور لڑکیوں کو یکجا ہونے کے بہت سے مواقع فراہم ہوئے اور ایک ساتھ رہنے کے سبب فطری طور پر دونوں فریق ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔اسی کو پیار اور لو کہا جانے لگا۔یہ تعلقات آگے بڑھ کر کبھی شادی میں بھی بدل جاتے ہیں۔

بھارت میں فرقہ پرست قوتوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کے لئے لو جہاد کا ایک فرضی ایشو کھڑا کیا ہے۔یہ بھی یک طرفہ ہے۔اگر کسی مسلم لڑکے نے کسی ہندو لڑکی سے محبت کر لی یا شادی کر لی تو فرقہ پرست قوتیں اسے لو جہاد قرار دیتی ہیں اور اگر کسی ہندو لڑکے نے کسی مسلم لڑکی سے محبت یا شادی کی تو اسے گھر واپسی کہا جاتا ہے۔دو مذاہب کے لوگوں کے لئے الگ الگ معیار کیوں؟

درحقیقت یہ سیاسی ہتھ کنڈا ہے۔اس طرح کی حرکتوں کے ذریعے ہندو ووٹ بینک کو متحد اور مضبوط کیا جاتا ہے۔فرقہ پرست قوتوں کو معلوم ہے کہ بھارت کے لوگ ترقی,روزگار,تعلیم,اور دیگر اچھے کاموں کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے,بلکہ وہ ہندو مسلم کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔اسی لئے فرقہ پرست قوتیں ایسے امور کو موضوع بحث بناتی رہتی ہیں جس سے ہندو مسلم کا بکھیڑا شروع ہو۔

مذہب اسلام میں لو جہاد کا کوئی تصور نہیں۔دراصل اسلامی تعلیمات میں مخلوط ماحول کی بھی اجازت نہیں,جہاں غیر محرم لڑکیوں کے ساتھ لڑکے رہ سکیں اور آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت,نشست و برخاست,خورد و نوش کر سکیں۔غیر محرم عورتوں اور لڑکیوں سے ربط و تعلق کی اجازت نہیں,پھر لو جہاد کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے۔

ہندو لڑکی سے مسلمان لڑکے کی شادی بھی جائز نہیں تو لو جہاد کا کیا مطلب؟اگر کوئی مسلم لڑکا کسی ہندو لڑکی سے محبت کرتا ہے یا شادی کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی اور شخصی معاملہ ہے۔مذہب اسلام کسی بھی غیر محرم لڑکی سے تعلقات کی اجازت نہیں دیتا۔

مسلم لڑکوں کو بھی چاہئے کہ غیر قوموں کی لڑکیوں سے تعلقات رکھ کر یا شادی بیاہ کر کے اپنی آخرت برباد نہ کریں۔

اسی طرح بھارتی قانون میں گرچہ بین المذاہب شادی کی اجازت ہے,لیکن فرقہ پرست قوتیں اس کو لو جہاد قرار دے کر آپ کو ہلاک کر دیں گی,یا کچھ الزام عائد کر کے جیل میں ڈال دیں گی۔آپ کے ساتھ آپ کے گھر والوں اور دھرم والوں پر بھی ظلم کیا جائے گا,اس لئے ایسی غلط حرکتوں سے باز رہیں اور مسلم لڑکیوں سے شادی بیاہ کریں,تاکہ اللہ تعالی آپ سے راضی رہے اور خداوند قدوس کی مدد آپ کے ساتھ رہے۔اللہ تعالی توفیق صالح عطا فرمائے:آمین

Related posts

قربانی یا ضرورت مندوں کی مدد

Hamari Aawaz Urdu

علم نجوم کی شرعی حیثیت

Hamari Aawaz Urdu

مثال بو عبیدہ خالد و سلمان بن جا تو

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں