Top 10 سیرت وسوانح صفحہ اول مذہبی

حضرت عمر: فاروق بھی، مرادِ رسول بھی

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

عکاظ کا اکھاڑا عرب کا مشہور ترین اکھاڑا تھا۔یہ جبل رحمت کے پاس ایک جگہ کا نام تھا۔جہاں سالانہ میلا لگا کرتا تھا۔عرب کے جانے مانے پہلوان اس دنگل میں پہنچتے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دکھاتے۔یوں تو عرب معاشرے میں لاکھ برائیاں تھیں مگر تمام تر برائیوں کے باوجود وہ لوگ اپنی صحت وتندرستی سے لاپرواہ نہیں تھے۔عکاظ کا دنگل بہادران عرب کا بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا تھا۔جو جوان یہاں اپنی قوت اور پہلوانی کا دم خم دکھاتا پورے عرب میں اس کی دھاک بیٹھ جاتی تھی۔ایک بار اس اکھاڑے میں نفیل بن عبدالعزی بن رباح کے پوتے عمر نے تال ٹھونک کر اپنی طاقت وقوت سے بہادران عرب کو مبہوت کر دیا۔اس کے بعد سارے عرب میں اس جوان کی طاقت وجواں مردی کا سکہ بیٹھ گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس کی بہادری اور دبدبے کی شہرت ہر گھر میں پہنچ گئی۔

آپ جانتے ہیں یہ مشہور پہلوان اور جواں مرد بہادر کون تھا؟

یہ قوی ہیکل جوان مراد رسول، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
آپ کی ولادت عام الفیل کے لگ بھگ 13 سال بعد 583 عیسوی میں ہوئی۔(تاریخ الخلفا، ص108)
آپ کے والد خطاب بن نفیل تھے۔آٹھویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسب حضور نبی اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔نوعمری کے زمانے میں آپ نے اونٹ چَرانے کا کام انجام دیا۔اوائل شباب میں اپنی پہلوانی کے دم پر شہرت پائی۔لیکن ان سب کے باوجود آپ مکہ کے ان مخصوص افراد میں شامل تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا۔ان لوگوں کی یاد داشتیں اس قدر اچھی تھیں کہ جو بات ایک بار سن لیتے وہ سدا کے لیے محفوظ ہوجاتی۔بڑی بڑی تجارتوں اور لاکھوں کے حساب اپنی انگلیوں پر جوڑ لیا کرتے تھے۔اپنی یاد داشت اور اعلی ذہانت پر اس قدر ناز تھا کہ لکھنے پڑھنے والوں کو وہ خود سے کمزور مانتے تھے، کہ جو بات یا حساب وہ چٹکیوں میں کر دیتے ہیں اسے دیگر لوگ کاغذ قلم کے بغیر یاد نہیں رکھ پاتے۔

__حضور سید عالم ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد پورے مکہ میں مخالفت کا طوفان برپا تھا۔اسلام کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی۔آپ کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید بھی اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے چکے تھے۔حضرت عمر اسلام کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔مگر آپ کی شجاعت وبہادری اور معاملہ فہمی کی بنا پر حضور یوں دعا فرماتے تھے:
اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔
(رواه الحاكم في “المستدرك”(3 / 83)
“اے ﷲ! عمر کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔”

حضرت عمر نے جوش عداوت میں ایک دن حضور کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار لگا کر آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔راستے میں نعیم بن عبدﷲ نے آپ کو غضب ناک دیکھا تو پوچھا خیر تو ہے، کہاں کا ارادہ ہے؟
کہنے لگے داعی نبوت کا کام تمام کرنا ہے۔انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو پھر محمد عربی کی جانب رخ کرنا۔تمہارے بہن بہنوئی بھی داخل اسلام ہوچکے ہیں۔نعیم بن عبد اللہ کی بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔تلاوت قرآن کی دل آویز صدا نے استقبال کیا۔اسلام کے بارے میں استفسار کیا۔انکار پایا تو سختی پر اتر آئے۔بیچ بچاؤ کو آئے بہنوئی زخمی ہوگئے۔بہن کے ماتھے سے بھی خون جاری تھا۔فاطمہ بنت خطاب نے غیرت ایمانی سے سرشار ہوکر اپنے بھائی کا چہرہ پکڑ کر جواب دیا:
“عمر جو دل میں آئے کرلو مگر اسلام کی محبت ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی۔”
آپ نے نگاہ بھر کر بہن کی جانب دیکھا، بہتے ہوئے خون نے بھائی کی محبت کو بیدار کیا۔مگر لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں جھلکتے یقین نے دل پر بڑا اثر کیا۔کہنے لگے فاطمہ جو چیز تم پڑھ رہی تھیں مجھے بھی تو دکھاؤ! قرآن کے اوراق پڑھنا شروع کئے تو دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی۔دعائے رسول کی قبولیت کا وقت قریب آرہا تھا۔جب اس آیت پر پہنچے:آمنوا باﷲ ورسوله، تو خود پر قابو نہ رکھ سکے اور کہا مجھے حضور کے پاس لے چلو۔دعائے محمدی اثر دکھا چکی تھی اب دیدار نبی کے بغیر چین کہاں؟تلاش کرتے ہوئے حضرت ارقم کے گھر دستک دی۔اندر داخل ہوئے تو حضور نے کرتہ پکڑ کر فرمایا عمر کس ارادے سے آیا ہے؟
عرض کی آپ کے دامن کرم میں پناہ لینے!
اتنا سننا تھا کہ صحابہ کرام نے مارے مسرت کے ایسا نعرہ لگایا کہ پوری وادی ﷲ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔
غربت اسلام کا زمانہ تھا۔کفار مکہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سہمے سہمے رہتے تھے۔خوف اس قدر تھا کہ نمازیں بھی چھپ کر ادا کی جاتی تھیں۔ظہر وعصر کی سرّی نمازیں مسلمانوں کی اسی کیفیت کی یادگار ہیں۔
ہر مسلمان کے دل کی آرزو تھی کہ بیت اللہ شریف میں نماز ادا کریں۔ہنوز آرزو تشنہ تھی۔مگر اب حضور ﷺ کی دعا کا اثر ظاہر ہونا تھا کہ حضرت عمر کے ذریعے اسلام کو عزت حاصل ہو۔اثر شروع ہوا تو حضرت عمر نے کافروں سے مقابلہ آرائی شروع کردی۔آپ کی ہمت وبہادری اور دبدبے نے جلد ہی کفار مکہ کو عاجز کردیا اور وہ وقت بھی آیا کہ مسلمان نہایت شان وشوکت کے ساتھ کعبے میں داخل ہوئے۔ایک زمانے سے کعبہ کی زمین سجدوں سے محروم تھی۔اللہ اکبر کی صداؤں سے کعبے کے درو دیوار گونج اٹھے۔مسلمانوں نے پیشانیاں جھکا کر بندگی کا اظہار کرکے دبی ہوئی تمناؤں کو دل کھول کر پورا کیا۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں:
فلما اسلم عمر قاتل قريشاً حتي صلي عند الكعبة وصلينا معه۔
(المعجم الکبیر للطبرانی،رقم: 8820)
“جب حضرت عمر اسلام لائے تو قریش مکہ سے خوب لڑے یہاں تک کہ کعبے میں نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ہم سب نے بھی نماز پڑھی۔”

اعلان نبوت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسلام وکفر کے درمیان کھل کر فرق ظاہر ہوا۔آقائے کریم ﷺ نے خوش ہوکر حضرت عمر کو فاروق (کفر واسلام میں فرق پیدا کرنے والا) کا خطاب عطا فرمایا جو آج آپ کے نام کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔

فارقِ حق و باطل امامُ الہُدیٰ
تیغِ مَسْلُولِ شدت پہ لاکھوں سلام

___حضرت عمر کی ہجرت کا واقعہ بھی ان کے مزاج کی طرح منفرد تھا۔آپ سے پہلے جتنے افراد نے ہجرت کی، چُھپ چُھپا کر کی۔کوئی رات کی تاریکی میں نکلا،کوئی علی الصبح روانہ ہوا تو کسی نے دوپہر کے وقت میں نکلنا مناسب سمجھا کہ اس وقت لوگ گھروں میں آرام کرتے ہوتے تھے۔لیکن بارگاہ رسالت سے عطا کردہ خطاب “فاروق” کا تقاضا تھا کہ آپ کی ہجرت کا انداز بھی اوروں سے مختلف ہو،ہوا بھی ایسا ہی!
جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو جسم پر ہتھیار لگا کر بیت اللہ شریف پہنچے۔خانہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس وقت صحن کعبہ میں کئی سرکردہ کافر موجود تھے۔مگر کوئی بھی آپ کو ٹوکنے کی ہمت نہ کر سکا۔مگر وہ فاروق ہی کیا جو اتنے پر ہی مان جائیں؟آپ خود ان کے پاس پہنچے اور فرمایا:
من أراد أن يثكل أمه أو يرمل زوجته أو ييتم ولده فليلقني وراء هذا الوادي۔
(تاریخ الخلفا للسيوطي:ص 95)
“جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے روئے ، اس کی بیوی، بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں تو مجھ سے اس وادی میں مقابلہ کرنے آجائے۔”

جو کافر دوسرے مسلمانوں کا پیچھا کرتے تھے۔مسلمانوں کے تحمل کے باعث خود کو بہادر سمجھتے تھے۔لیکن فاروقی للکار سن کر جواب دینے کی ہمت تک نہ ہوسکی۔اس طرح جس شان کے ساتھ آپ نے اسلام کا اعلان کیا اسی دھمک کے ساتھ ہجرت بھی فرمائی اور نہایت کروفر کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوگیے۔اس سفر پر آپ کے ساتھ 20 افراد اور بھی شامل تھے۔

__خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ نے مسند خلافت کو رونق بخشی۔اس وقت بہت سارے لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ شاید اپنی پر جلال طبیعت کے باعث امور خلافت کو اس طرح انجام نہ دے پائیں جس کی ضرورت تھی۔مگر آپ کا جلال غیرت ایمانی کی بنیاد پر تھا ورنہ آپ علم انساب کے ماہر، اعلی درجے کے خطیب اور افہام و تفہیم کا شاندار ملکہ رکھتے تھے۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کا کوئی ایک پہلو زیادہ مشتہر ہوجاتا ہے حالانکہ وہ شخصیت دیگر علوم و فنون میں بھی فقید المثال ہوتی ہے۔حضرت عمر کی غیرت ایمانی اور ہیبت ودبدبے کے باعث آپ کے دیگر اوصاف سے ذرا کم ہی لوگ واقف تھے۔مگر سیدنا صدیق اکبر آپ کے اوصاف وکمالات کو اچھی طرح جانتے تھے۔علامہ سیوطی طبقات ابن سعد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
قيل لابي بكر في مرضه : ماذا تقول لربك ، وقد وليت عمر؟ قال، اقول له: وليت عليهم خيرهم۔(تاریخ الخلفا للسيوطي:98)
“مرض الموت میں حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دیں گے؟
حضرت ابوبکر نے فرمایا میں عرض کروں کہ میں نے لوگوں میں سب سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہے۔”

یعنی حضرت ابوبکر صدیق پورے یقین سے جانتے تھے کہ بار خلافت کے لیے حضرت عمر سب سے زیادہ اہل اور موزوں ترین فرد تھے۔خلیفہ منتخب ہونے کے بعد آپ کے حسن تدبر، سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی اور جنگی مہارت کا ایک زمانے نے اعتراف کیا-ثابت ہوگیا کہ صدیق اکبر کا فیصلہ ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
وہ زمانہ انتہائی حساس تھا۔داخلی فتنوں کے ساتھ خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔لیکن آپ نے اپنی زیرکی ودانائی سے سارے معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالا اور دیکھتے ہی دیکھتے فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
آپ کے عہد خلافت میں ایک ہزار چھتیس (1036) شہر مع مضافت فتح ہوئے۔900 جامع مسجد اور چار ہزار نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔فتوحات کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ 13 لاکھ 9 ہزار 501 مربع میل کا اضافہ ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی سلطنت کا دائرہ حجاز سے نکل کر شام ، مصر، عراق ، جزیرہ ،آذر بائیجان ، جنوبی آرمینیا ،فارس، کرمان، روم ، اور ایران تک پھیل گیا۔ دنیا کی سپر پاور طاقتیں قیصر روم اور شاہ کسریٰ کا زور ختم کردیا گیا۔اس طرح دعائے محمدی نے اپنا اثر دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق کے ذریعے اسلام کو اس قدر غالب کیا کہ عرب کی چاروں سمتوں میں اسلام غالب ترین مذہب بن چکا تھا۔قریب دس سال پانچ مہینے اکیس دن کا زمانہ خلافت گزارنے کے بعد آخر اپنے دوستوں سے ملنے کا وقت آیا۔26 ذوالحج کو دشمن کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور درجہ شہادت سے سرفراز ہوکر یکم محرم الحرام 24ھ کو اپنے رفیق جانی سیدنا ابوبکر صدیق اور اپنے آقا و مولا سید عالم ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہوگیے۔

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

Related posts

اس بار عید انتہائی سادگی کے ساتھ منائیں گے ہم !

Hamari Aawaz Urdu

عید الاضحٰی

Hamari Aawaz Urdu

بہار کا حالیہ الیکشن: ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں