Top 10 ادارتی میز سے بین الاقوامی شخصیات صفحہ اول

آہ! تحریک لبیک کا امیر المجاھدین بھی ہمیں روتا چھوڑ گیا

سرپرست اعلیٰ کے قلم سے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔

ابھی جمیل العلماء علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی ضیائی رحمۃ اللہ علیہ کی جدائی کا زخم تازہ ہی تھا کہ آج تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امیر المجاھدین حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات کی اچانک خبر نے تڑپا کر رکھ دیا ہے۔۔ حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ طویل عرصے سے علیل تھے انہیں تیز بخار اور سانس کی تکلیف تھی ۔ آج صبح ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں جناح اسپتال لاہور میں لے جایا گیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور یوں 3/ربیع لآخر 1442ھ/19/نومبر 2020ء بروز جمعرات عین نماز مغرب کے وقت ہمارا امیر المجاھدین ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور ہمیں روتا ہوا چھوڑ گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔ علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ عالم اسلام کی جانی پہچانی شخصیت تھی۔ آپ کی ولادت مملکت خداداد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے ایک گاؤں نکہ توت میں 22/جون 1966ء کو ہوئی۔ آپ کے والد گرامی کا نام حاجی خان ہے جو اپنی شرافت کے وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ دینی تعلیم کی تڑپ نے آپ سے گھر بار چھوڑایا۔ چنانچہ آپ نے جہلم اور دینہ کے مدارس اسلامیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور سے درس نظامی کی تکمیل فرمائی۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت علامہ مولانا حافظ محمد عبدالستار سعیدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ آپ عالم باعمل، حافظ قرآن ، شیخ الحدیث ، خطیب اور مصنف تھے ۔ آغاز میں آپ نے محکمہ اوقاف کے زیراہتمام پیر مکی مسجد لاہور میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیئے بعدازاں بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر یہاں سے مستعفی ہوگئے۔ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور اور جامعہ نعمانیہ لاہور میں تدریسی فرائض سرانجام دیئے۔ کچھ عرصہ جامعہ نظامیہ رضویہ بھاٹی گیٹ لاہور کے مہتمم بھی رہے۔ آپ سے اکتساب فیض حاصل کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے ‌ آپ نے اپنے تلامذہ میں عشقِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی روح پھونک دی ہے کہ جب بھی کہیں ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی فتنہ اٹھا تو آپ کے تلامذہ اس کے آگے آہنی دیوار بن کر سامنے آئے۔ 2008ء میں تلہ گنگ کے قریب ایک خوفناک حادثے میں آپ شدید زخمی ہوئے اور پھر ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔ اس کے بعد آپ کا زیادہ وقت ویل چیئر پر گزرا۔ مبدائے فیاض نے آپ کو عربی، فارسی، پنجابی اور اردو میں کمال کا ملکہ ودیعت فرمایا تھا۔ آپ کا حافظہ بھی بلا کا تھا۔ میدان خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی ہر تقریر ہی قرآنی آیات ، احادیث نبویہ، عربی، فارسی، پنجابی اور اردو اشعار سے مزین ہوتی تھی۔ فکر رضا کے امین اور اقبال کے خوشہ چین تھے۔ اسی لئے کلام رضا اور کلام اقبال کے حافظ نظر آتے تھے۔ آپ ایک سچے عاشق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، ناموسِ رسالت اور ختم نبوت کے مخالفین کے لئے تیغ مسلول تھے ۔ اسی لئے دنیا بھر میں مقبول تھے۔ آپ تحریک فدایان ختم نبوت کے امیر رہے۔ اور اس کے تحت ایک عرصے تک سہ ماہی”العاقب”لاہور شائع فرماتے رہے۔ اس رسالہ کا ہر شمارے ہی اپنے موضوع پر لاجواب ہے لیکن اس کے”شہید آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ نمبر” نے شہرت عام حاصل کی ہے۔ آپ جہاد بالقلم کے محاذ پر بھی سرگرم رہے ہیں۔ آپ نے مختلف موضوعات پر مضامین ومقالات لکھے ہیں۔ اسی طرح طلباء کے لئے کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں”تعلیقات خادمیہ” کو کافی شہرت ملی ہے۔ جب ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ دینے کی وجہ سے عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری رحمۃ اللہ علیہ کو مملکت خداداد پاکستان میں سزائے موت دی گئی تو آپ نے تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پاکستان کی بنیاد رکھی ‌۔ اس کے تحت ملک بھر میں جلسے کئے ‌ ۔ لوگ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا۔ 2016ءمیں توہین مذہب قانون کے حوالے سے آپ نے ایک بھر پور ریلی نکالی ۔ ریلی پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ اور آپ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ 2017ء میں این اے 120 لاہور کے ضمنی انتخابات میں پہلی بار سیاسی منظر نامے پر ظاہر ہوئے اور سات ہزار ووٹ حاصل کر کے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ این اے 4پشاور کے ضمنی انتخابات میں تقریباً دس ہزار کے قریب ووٹ حاصل کئے۔ لودھراں کے انتخابات میں بھی گیارہ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کئے۔ 2017ء میں نواز شریف حکومت نے ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں جب الفاظ بدلے گئے تو امیر المجاھدین نے اس کے خلاف عملی قدم اٹھایا نومبر 2017ھ میں فیض آباد راولپنڈی پر تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے ایک دھرنا دیا جو کئی دن جاری رہا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور حکومتی وزیر کو مستعفی ہونا پڑا ‌ اسی طرح 2018ء میں بھی دھرنا دیا ۔ جس پر حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی اور آپ کو پھر اسیر بنا لیا گیا ‌۔ فرانسیسی صدر کیمرون نے جب ہمارے پیارے نبی آخرالزمان حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گستاخانہ خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر آویزاں کرنے کی جسارت کی تو خادم ملت اسلامیہ حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ پھر تڑپ اٹھے اور آپ نے فرانسیسی صدر کے خلاف 15/نومبر 2020ء کو فیض آباد راولپنڈی کے مقام پر بھر پور احتجاج کا اعلان کیا۔ عمران حکومت ایک بار پھر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور فرانس کے خلاف تحریک لبیک کے پرامن احتجاج کو سبو تاژ کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی ۔ رکاوٹیں کھڑی کیں۔ سڑکیں بلاک کیں ‌ موبائل سروس جام کر دی۔ میڈیا پر خبر نشر نہ ہونے دی لیکن اس کے باوجود امیر المجاھدین اپنی علالت اور ضعیف العمری کے باوجود یہاں پہنچے۔ ملک بھر سے محافظین ناموسِ رسالت و ختم نبوت بھی رکاوٹیں توڑتے ہوئے پہنچ گئے۔ پر امن احتجاج پر آنسو گیس کی شیلنگ کی انتہا کردی گئی۔ آپ نے جب حکومت کو للکارا تو در و بام گونج اٹھے۔ اور عشاق جھوم اٹھے۔ آپ نے 3/نومبر 2020ھ کو ہی حکومت کو کچھ اس انداز میں خبر دار فرما دیا تھا:”میں بالکل قریب آکر تمہیں کہہ رہا ہوں پھر نہ کہنا کہ تمہیں مہلت نہیں دی۔ فرانس کا سفیر نکالو، مصنوعات کا بائیکاٹ کرو، یہ معمولی سا مطالبہ ہے۔ بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فرانس کے ساتھ اعلان جہاد کرو، نہیں تو اگلا لائحہ عمل ہم نے دینا ہے۔” فیض آباد کی ساری فضا” من سب نبیا فا اقتلوہ” گونج اٹھی ‌ ۔۔تحریک لبیک کے کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا بالآخر حکومتی ٹیم نے مذاکرات کئے اور مطالبات تسلیم کرنے کی یقین کرائی۔ تب احتجاج اختتام پذیر ہوا۔۔ حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ ، فقیر کے ہم عمر تھے لیکن سیادت کی وجہ سے فقیر کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا۔ مولانا فدا حسین رضوی نے جب ایک کتاب”حق چار یار”لکھی ‌۔ تو اس پر آپ کی تقریظ کے لئے مصنف کو ایک مختصر سا مکتوب دے کر بھیجا تو آپ نے ذرا دیر نہ فرمائی بلکہ فوراً برجستہ اور قلم برداشتہ تقریظ لکھ کر عنایت فرما دی اور فقیر کا بھرم رکھا۔۔ اسی طرح چند سال قبل حسن ابدال شہر میں ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ایک کانفرنس میں آپ کو مدعو کیا گیا۔ تو آپ بھی تشریف لائے۔ فقیر گیٹ پر کھڑا رہا جوں ہی آپ آئے تو فقیر نے ملاقات کی ، سلام دعا ہوئی۔ فقیر نے ماہ نامہ مجلہ الحقیقہ کے تحفظ ختم نبوت نمبر جلد اول آپ کی خدمت میں پیش فرمائی، آپ نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ختم نبوت کے حوالے سے ایک عظیم کارنامہ قرار دیا۔ آپ کو ویل چیئر پر آگے سٹیج پر پہنچا دیا گیا۔ سٹیج پر پہنچتے ہی آپ نے فرمایا کہ”صابر حسین شاہ صاحب کہاں ہیں” کسی نے اشارہ کر کے نشان دہی کی کہ وہ نیچے سامعین کے مجمع میں بیٹھ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ تو غلط ہے کہ شاہ صاحب نیچے بیٹھ جائیں اور ہم سٹیج پر براجمان ہوں۔سٹیج سیکرٹری مولانا قاری عبدالرحمن صاحب سے فرمایا کہ “شاہ صاحب کو فوراً سٹیج پر بلاؤ” ۔ انہوں نے فقیر کا نام پکارا کہ “صابر حسین شاہ بخاری صاحب سٹیج پر آجائیں استاد جی بلا رہے ہیں” چنانچہ فقیر بادل ناخواستہ سٹیج پر گیا تب پروگرام شروع ہوا۔ اللہ اللہ، سادات سے احترام ومحبت کی اس قسم کی مثالیں کم کم دیکھنے میں آتی ہیں۔۔۔ حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ صحیح معنوں میں”امیر المجاھدین”تھے۔ فرانسیسی صدر کے خلاف آپ نے جس طرح غیض وغضب کا اظہار فرمایا ہے اس طرح کی مثال بھی اور کہیں نظر نہیں آتی۔ اس طرح کا غیض وغضب انٹر نیشنل سطح کے بعض “پیران عظام” میں نظر نہیں آیا۔ آہ ! ہم سے آج عزم واستقامت کا ایک کوہ گراں رخصت ہو گیا۔ آہ! گستاخوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنے والا اب خاموش ہوگیا۔ آہ! جبل استقامت نہ رہا، آہ! ناموسِ رسالت و ختم نبوت کے قافلہ عشق ومحبت کا حدی خواں ہم سے پچھڑ گیا۔ ایسا مرد مجاہد اور عاشق صادق صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔ڈھونڈو گے گر ملکوں ملکوں:: ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ آپ کی وفات حسرت آیات کی خبر جنگل میں آگ کی پوری دنیا میں پھیل گئی۔ سارا عالم اسلام افسردہ ہوگیا۔ ہرطرف آہ و فغاں اور سوگواری کی کیفیت نظرآتی ہے۔ ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی اولاد امجاد ، دیگر پسماندگان بلکہ ہم سب کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ واولیاء امتہ وعلما ملتہ اجمعین۔۔ دعا گو ودعا جو: احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ”خلیفۂ مجاز بریلی شریف” ‌ سرپرست اعلیٰ ماہ نامہ مجلہ الخاتم انٹر نیشنل، سرپرست اعلیٰ”ہماری آواز” مدیر اعلیٰ الحقیقہ ‌ ادارہ فروغ افکار رضا و ختم نبوت اکیڈمی برھان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان پوسٹ کوڈ نمبر 43710(4/ربیع لآخر 1442ھ/20/نومبر 2020ء بروز جمعہ المبارک بوقت 3:12رات)

Related posts

اسلامی حکومت کے وقت مسلمانوں کا غیر مسلموں سے اچھا رویہ

Hamari Aawaz Urdu

فروغ امن میں ہماری ذمہ دارٓیاں

Hamari Aawaz Urdu

نظم: کَل اور آج

Hamari Aawaz Urdu

ایک تبصرہ چھوڑیں